امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے میکسیکو (Mexico) میں سرگرم منشیات کے کارٹلز (Drug Cartels) کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کا ایک انتہائی سخت اور جارحانہ اعلان کر دیا ہے۔ نیوز ویک (Newsweek) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اب اپنی سرحدوں پر دفاع تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وہ میکسیکو کی سرزمین کے اندر ان ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دے گا جہاں سے یہ کارٹلز اپنی کارروائیاں چلا رہے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان امریکہ کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جس کا مقصد امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ، بالخصوص فینٹانیل (Fentanyl) کے بحران اور غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ (Donald Trump) نے اپنی گفتگو کے دوران زور دیا کہ میکسیکو کے کارٹلز اب صرف جرائم پیشہ گروہ نہیں رہے بلکہ وہ ایک "نیم فوجی قوت" کی شکل اختیار کر چکے ہیں جو امریکی قومی سلامتی (National Security) کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ان کارٹلز کو زمین سے مٹا دیں گے" اور اس مقصد کے لیے امریکی فوج (US Military) کی تمام تر صلاحیتوں بشمول فضائی حملے اور اسپیشل آپریشنز کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کا یہ سخت موقف ان کے اس دیرینہ وعدے کا حصہ ہے جس میں وہ میکسیکو کے ساتھ سرحد کو مکمل طور پر محفوظ بنانے اور امریکیوں کی زندگیوں کو منشیات کے زہر سے بچانے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔ اس اعلان نے سفارتی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے، کیونکہ میکسیکو کی خودمختاری (Sovereignty) پر کسی بھی قسم کا امریکی حملہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک پیچیدہ معاملہ بن سکتا ہے۔ میکسیکو کی حکومت نے ماضی میں ہمیشہ اپنی سرزمین پر غیر ملکی فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ تاہم، صدر ٹرمپ (Donald Trump) کا موقف ہے کہ اگر میکسیکو اپنی حدود میں ان مجرموں کو روکنے میں ناکام رہتا ہے، تو امریکہ اپنے دفاع کے لیے خود کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کارٹلز کو "غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں" (Foreign Terrorist Organizations) قرار دینے کا بھی اشارہ دیا ہے، جس سے ان کے خلاف فوجی کارروائی کی قانونی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
امریکہ میں منشیات کے استعمال سے ہونے والی اموات، خاص طور پر فینٹانیل (Fentanyl) کی وجہ سے، ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن چکی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کارٹلز کیمیکلز کے ذریعے مہلک منشیات تیار کر کے امریکی شہروں میں پھیلا رہے ہیں، جس سے ہر سال ہزاروں جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اب "نرمی کا وقت ختم ہو چکا ہے" اور وہ میکسیکو کے صدر کے ساتھ اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ان کی اس حکمت عملی کو "طاقت کے ذریعے امن" (Peace through Strength) کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے، جہاں وہ سخت گیر اقدامات کے ذریعے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکہ نے میکسیکو کے اندر کارٹلز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا، تو اس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔ اس سے نہ صرف میکسیکو بلکہ دیگر لاطینی امریکی (Latin American) ممالک کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ٹرمپ کے حامی اس فیصلے کو سراہ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سرحدی دیوار (Border Wall) کی تعمیر کے ساتھ ساتھ دشمن کے اڈوں پر حملہ کرنا ہی جرائم کو روکنے کا واحد راستہ ہے۔
یہ نئی پالیسی امریکہ کی "سرحدی سلامتی" (Border Security) کی تعریف کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتی ہے، جس میں اب دفاع کے بجائے جارحانہ حکمت عملی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس اعلان کے معاشی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ میکسیکو امریکہ کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ تجارتی برادری کو خدشہ ہے کہ فوجی تناؤ کی صورت میں سپلائی چین (Supply Chain) متاثر ہو سکتی ہے اور سرحدی گزرگاہوں پر پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
لیکن صدر ٹرمپ (Donald Trump) نے واضح کر دیا ہے کہ انسانی جانوں کا تحفظ کسی بھی معاشی مفاد سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں (CIA and FBI) کو حکم دیا ہے کہ وہ کارٹلز کے مالیاتی ڈھانچے اور ان کے نیٹ ورکس کی مکمل تفصیلات فراہم کریں تاکہ ان کے خلاف ایک جامع اور فیصلہ کن کریک ڈاؤن کیا جا سکے۔ مجموعی طور پر، صدر ٹرمپ کا میکسیکو میں کارٹلز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ ان کی دوسری مدت صدارت کے سب سے بڑے اور خطرناک فیصلوں میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔
عالمی برادری اس وقت اس صورتحال کو غور سے دیکھ رہی ہے کہ کیا امریکہ واقعی کسی دوسرے ملک کی سرحدوں کے اندر فوجی کارروائی شروع کرے گا؟ اگر ایسا ہوتا ہے، تو یہ جدید دور کی سفارت کاری اور جنگی اصولوں میں ایک نئی مثال قائم کرے گا۔ ٹرمپ کا یہ پیغام واضح ہے: جو بھی گروہ امریکہ کی سلامتی کو نقصان پہنچائے گا، اسے دنیا کے کسی بھی کونے میں پناہ نہیں ملے گی۔ یہ "کارٹلز کے خلاف جنگ" اب ایک نئے اور زیادہ خونی مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

