منیاپولس (Minneapolis) ایک بار پھر شدید احتجاج اور تناؤ کی لپیٹ میں ہے جہاں وفاقی امیگریشن حکام (ICE) کے ایک ایجنٹ کے ہاتھوں ایک مقامی خاتون کی ہلاکت نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ این بی سی نیوز (NBC News)، نیو یارک ٹائمز (The New York Times) اور ایم ایس ناؤ (MS Now) کی رپورٹوں کے مطابق، اس واقعے کی ایک موبائل فون ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، جس میں فائرنگ کے ہولناک مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس واقعے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس نے اب تک کم از کم 30 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز (The New York Times) کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ جنوری 2026 کے آغاز میں اس وقت پیش آیا جب آئی سی ای (ICE) کے ایجنٹس ایک کارروائی کے سلسلے میں منیاپولس کے ایک محلے میں موجود تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق، ایجنٹ اور خاتون کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد ایجنٹ نے گولی چلا دی۔ واقعے کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گولی چلنے کے وقت خاتون غیر مسلح معلوم ہو رہی تھی، جس نے وفاقی حکام کے "طاقت کے استعمال" (Use of Force) پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
این بی سی نیوز (NBC News) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سیل فون ویڈیو کی فارنزک جانچ کی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں آوازیں سنی جا سکتی ہیں جہاں راہگیر ایجنٹ کو گولی نہ چلانے کے لیے کہہ رہے تھے۔ اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر غم و غصے کی آگ بھڑکا دی ہے، اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے "بغیر اشتعال قتل" قرار دیتے ہوئے فوری شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ منیاپولس پولیس ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وفاقی کارروائی میں براہ راست شامل نہیں تھے، لیکن امن و امان برقرار رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔
ایم ایس ناؤ (MS Now) کی رپورٹ کے مطابق، واقعے کے فوراً بعد شہر بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔ مظاہرین نے "آئی سی ای" (ICE) کے خلاف نعرے لگائے اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن پر توڑ پھوڑ اور سرکاری کام میں مداخلت کے الزامات ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی ایجنٹس کو مقامی کمیونٹیز میں اس طرح کی کارروائیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جس سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو۔ اس واقعے نے سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ منیسوٹا کے حکام نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل رپورٹ پیش کرے اور ملوث ایجنٹ کو معطل کیا جائے۔
دوسری جانب، آئی سی ای (ICE) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایجنٹ نے اپنی دفاع میں گولی چلائی، تاہم ویڈیو شواہد اس دعوے کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ بھر میں امیگریشن پالیسیوں پر پہلے ہی شدید بحث جاری ہے۔
منیاپولس کی یہ ویڈیو ایک بار پھر پولیس اور وفاقی ایجنٹس کے طرزِ عمل کو عالمی سطح پر بحث کا موضوع بنا رہی ہے۔ 30 سے زائد مظاہرین کی گرفتاری نے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، اور شہر کے مختلف حصوں میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، شہر میں امن و امان کی صورتحال نازک رہنے کا خدشہ ہے۔

