Sheridan Smith Addresses Humiliating Graham Norton BAFTA Joke After a Decade

Sheridan Smith Addresses Humiliating Graham Norton BAFTA Joke After a Decade

برطانوی ٹیلی ویژن اور تھیٹر کی مایہ ناز اداکارہ شیریڈن سمتھ (Sheridan Smith) نے برسوں کی خاموشی توڑتے ہوئے بالاآخر گراہم نورٹن کے اس متنازعہ مذاق پر لب کشائی کی ہے جس نے ان کی زندگی اور ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ ویلز آن لائن، ایسٹرن آئی اور ڈیلی ایکسپریس کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، شیریڈن نے انکشاف کیا ہے کہ 2016 کے بافٹا (BAFTA) ایوارڈز کے دوران ان پر کیا گیا ایک طنزیہ تبصرہ ان کے ذہنی تناؤ اور اعصابی خرابی (Breakdown) کی بڑی وجہ بنا تھا۔ تاہم اب وہ اس تلخ تجربے کو پیچھے چھوڑ کر اپنی زندگی پر دوبارہ قابو پا رہی ہیں۔

Sheridan Smith opens up about the devastating impact of Graham Norton’s 2016 BAFTA joke on her mental health. Read her full story

ویلز آن لائن (WalesOnline) کی رپورٹ کے مطابق، شیریڈن سمتھ (Sheridan Smith) نے بتایا کہ اس وقت وہ اپنے والد کی کینسر کی تشخیص کی وجہ سے پہلے ہی انتہائی دباؤ میں تھیں، اور عالمی سطح پر ہونے والی تضحیک نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا۔ ایسٹرن آئی (Eastern Eye) کے مطابق، اداکارہ نے اب اس مذاق کو "ری کلیمنگ" (Reclaiming) یعنی اپنے حق میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ وہ دوسرے لوگوں کو بھی یہ پیغام دے سکیں کہ عوامی سطح پر ہونے والی تنقید سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔ ڈیلی ایکسپریس (Daily Express) کے مطابق، شیریڈن کا یہ اعتراف ان کی نئی دستاویزی فلم اور انٹرویوز کا حصہ ہے جہاں وہ اپنی زندگی کے پوشیدہ گوشوں کو دنیا کے سامنے لا رہی ہیں۔


ایسٹرن آئی (Eastern Eye) کی رپورٹ کے مطابق، شیریڈن سمتھ (Sheridan Smith) کا ماننا ہے کہ کامیڈی کے نام پر کسی کی نجی تکلیف کا مذاق اڑانا غیر اخلاقی ہے۔ ویلز آن لائن کے مطابق، اس واقعے کے بعد شیریڈن نے کئی سالوں تک عوامی تقریبات سے دوری اختیار کر لی تھی کیونکہ وہ خود کو ذلیل محسوس کر رہی تھیں۔ تاہم، ڈیلی ایکسپریس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب شیریڈن نے نہ صرف گراہم نورٹن کو معاف کر دیا ہے بلکہ وہ اپنی کہانی خود سنا کر ان تمام افواہوں کا خاتمہ کرنا چاہتی ہیں جو برسوں سے ان کے گرد گردش کر رہی تھیں۔


ڈیلی ایکسپریس (Daily Express) کے مطابق، شیریڈن سمتھ (Sheridan Smith) نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کی اس جدوجہد میں ان کے قریبی دوستوں اور خاندان نے اہم کردار ادا کیا۔ ویلز آن لائن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شیریڈن اب ذہنی صحت (Mental Health) کے حوالے سے ایک مضبوط آواز بن کر ابھری ہیں۔ ایسٹرن آئی کے مطابق، اداکارہ کا کہنا ہے کہ "میں اب وہ لڑکی نہیں رہی جو چھپ کر روتی تھی، بلکہ اب میں اپنی زندگی کے ہر فیصلے کی ذمہ دار خود ہوں"۔ ان کے اس جرات مندانہ انٹرویو کو برطانیہ بھر میں سراہا جا رہا ہے اور اسے دوسروں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال قرار دیا جا رہا ہے۔


شیریڈن سمتھ کی زندگی کی کہانی ہمت اور حوصلے کی داستان ہے۔ ویلز آن لائن (WalesOnline) کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ فنکار بھی انسان ہوتے ہیں اور انہیں بھی دکھ پہنچتا ہے۔ شیریڈن سمتھ (Sheridan Smith) نے ایسٹرن آئی (Eastern Eye) کو دیے گئے انٹرویو کے آخر میں کہا کہ وہ اب اپنے کام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور جلد ہی بڑے پروجیکٹس میں نظر آئیں گی۔ ڈیلی ایکسپریس (Daily Express) کے مطابق، شیریڈن کا یہ اعتراف برطانوی میڈیا انڈسٹری میں فنکاروں کے حقوق اور ان کی عزتِ نفس کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز کر چکا ہے۔