سائبر سیکیورٹی کی دنیا میں ایک بڑا دھماکہ ہوا ہے جہاں کروڑوں صارفین کا حساس ڈیٹا انٹرنیٹ پر عام ہو گیا ہے۔ ایکسپریس وی پی این، فوربس اور وائرڈ (Wired) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایک بڑے "انفو اسٹیلر" (Infostealer) حملے کے نتیجے میں 149 ملین صارفین کا ڈیٹا چوری کر لیا گیا ہے، جس میں سب سے تشویشناک بات 48 ملین جی میل پاس ورڈز (gmail passwords) کا سرعام افشا ہونا ہے۔ اس ڈیٹا لیک نے عالمی سطح پر انٹرنیٹ صارفین کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، کیونکہ چوری شدہ معلومات میں لاگ ان تفصیلات اور ذاتی دستاویزات بھی شامل ہیں۔
ایکسپریس وی پی این (ExpressVPN) کے بلاگ کے مطابق، یہ ڈیٹا چوری کرنے والا وائرس (Infostealer) براہِ راست صارفین کے براؤزرز سے معلومات چوری کرتا رہا ہے، جس سے 149 ملین ریکارڈز متاثر ہوئے ہیں۔ فوربس (Forbes) کی رپورٹ کے مطابق، ہیکرز نے خاص طور پر گوگل صارفین کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں 48 ملین سے زائد جی میل پاس ورڈز (gmail passwords) ڈارک ویب پر اپ لوڈ کر دیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حالیہ تاریخ کے بڑے ترین ڈیٹا لیکس میں سے ایک ہے، جس سے نہ صرف انفرادی اکاؤنٹس بلکہ کارپوریٹ سیکیورٹی کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
وائرڈ (Wired) کی رپورٹ کے مطابق، چوری شدہ ڈیٹا میں صرف جی میل پاس ورڈز (gmail passwords) ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور بینکنگ لاگ انز بھی شامل ہیں۔ سیکیورٹی محققین نے انکشاف کیا ہے کہ یہ ڈیٹا ایک غیر محفوظ سرور پر پایا گیا تھا جسے ہیکرز اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ ایکسپریس وی پی این کے مطابق، یہ انفو اسٹیلرز اکثر نقصان دہ سافٹ ویئرز یا ای میل لنکس کے ذریعے صارفین کے کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کرتے ہیں، جس کے بعد وہ خاموشی سے تمام محفوظ کردہ پاس ورڈز چوری کر لیتے ہیں۔
فوربس (Forbes) کی رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ جن صارفین کو شک ہے کہ ان کے جی میل پاس ورڈز (gmail passwords) چوری ہوئے ہیں، وہ فوری طور پر اپنے پاس ورڈ تبدیل کریں اور "ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن" (2FA) کو فعال کریں۔ وائرڈ کے مطابق، گوگل نے بھی اپنے صارفین کو الرٹ کرنا شروع کر دیا ہے جن کا ڈیٹا اس لیک میں شامل ہو سکتا ہے۔ ایکسپریس وی پی این کے مطابق، براؤزرز میں پاس ورڈز محفوظ کرنے کی عادت اس طرح کے حملوں کو زیادہ آسان بنا دیتی ہے، اس لیے ایک آزاد پاس ورڈ منیجر کا استعمال زیادہ محفوظ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ سائبر حملہ ڈیجیٹل دور کی کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے۔ ایکسپریس وی پی این (ExpressVPN) کی رپورٹ کے مطابق، ڈیٹا لیک کی شدت اس بات کی متقاضی ہے کہ صارفین اپنی سیکیورٹی کو ترجیح دیں۔ فوربس (Forbes) کے مطابق، 48 ملین جی میل پاس ورڈز (gmail passwords) کا افشا ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ہیکرز اب پہلے سے کہیں زیادہ منظم اور خطرناک ہو چکے ہیں۔ وائرڈ (Wired) کی رپورٹ کے مطابق، اس صورتحال میں صرف احتیاط اور جدید سیکیورٹی ٹولز ہی آپ کو آن لائن چوری سے بچا سکتے ہیں۔

