سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایک عجیب و غریب اور دلچسپ بحث چھڑ گئی ہے جس کا مرکز پینگوئنز (Penguins) اور ایک وائرل ہونے والا "نیہلسٹ میم" ہے۔ ٹائمز آف انڈیا، بائنانس اسکوائر اور گلوبل ٹائمز کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، انٹرنیٹ پر ایک ایسی تصویر گردش کر رہی ہے جس میں ایک پینگوئن کو بظاہر دنیا سے بیزار اور گہری سوچ میں ڈوبا ہوا دکھایا گیا ہے۔ اس میم نے نہ صرف تفریح فراہم کی ہے بلکہ قطبی علاقوں کے ماحول اور پینگوئنز کی جغرافیائی موجودگی کے حوالے سے بھی لوگوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کی رپورٹ کے مطابق، اس وائرل میم کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ پینگوئنز (Penguins) گرین لینڈ میں پائے گئے ہیں۔ تاہم، ماہرین نے فوری طور پر اس کی وضاحت کی ہے کہ پینگوئنز قدرتی طور پر صرف جنوبی نصف کرے (Southern Hemisphere) میں رہتے ہیں اور گرین لینڈ، جو کہ شمالی نصف کرے میں ہے، وہاں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ بائنانس اسکوائر (Binance Square) کے مطابق، اس میم کی مقبولیت نے ڈیجیٹل کرنسی اور این ایف ٹی (NFT) کی دنیا میں بھی ہلچل مچا دی ہے، جہاں "نیہلسٹ پینگوئن" کے نام سے نئے ٹوکنز اور آرٹ ورکس سامنے آ رہے ہیں۔
گلوبل ٹائمز (Global Times) کی رپورٹ کے مطابق، اس طرح کے میمز دراصل جدید انسانی نفسیات اور تنہائی کی عکاسی کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ لوگ اس خاموش پینگوئن کے ساتھ خود کو جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ پینگوئنز (Penguins) کی یہ تصویر اصل میں انٹارکٹیکا کی ہے، لیکن انٹرنیٹ صارفین نے اسے گرین لینڈ کے افسانوی قصوں کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ اس میم نے لاشعوری طور پر قطبی علاقوں میں پگھلتی ہوئی برف اور جنگلی حیات کو درپیش خطرات کے بارے میں بھی ایک سنجیدہ بحث کا آغاز کر دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر آگاہی پیدا ہو رہی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کے مطابق، "نیہلسٹ پینگوئن" میم نے فلسفہ اور مزاح کو یکجا کر دیا ہے۔ بائنانس اسکوائر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہت سے کرپٹو سرمایہ کار اس وائرل رجحان کو مارکیٹ کے نفسیاتی رجحانات سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ پینگوئنز (Penguins) کے بارے میں یہ غلط فہمی کہ وہ قطبِ شمالی (North Pole) میں رہتے ہیں، فلموں اور کارٹونز کی وجہ سے عام ہے، جسے سائنسدان اب دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گلوبل ٹائمز کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس پینگوئن کی تصویر کو لاکھوں بار شیئر کیا جا چکا ہے، جس سے یہ 2026 کا اب تک کا سب سے بڑا میم بن گیا ہے۔
یہ وائرل میم محض ایک ہنسی مذاق نہیں بلکہ معلومات کا ایک ذریعہ بھی بن گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (Times of India) کی رپورٹ کے مطابق، گرین لینڈ میں کوئی قدرتی پینگوئن موجود نہیں ہے۔ بائنانس اسکوائر (Binance Square) کے مطابق، پینگوئنز (Penguins) سے وابستہ ڈیجیٹل آرٹ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گلوبل ٹائمز (Global Times) کی رپورٹ کے مطابق، یہ میم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کس طرح ایک سادہ سی تصویر پوری دنیا کی سوچ اور ڈیجیٹل معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

