ایمیزون کے جنگلات اور وینزویلا کے قدیم خطوں سے سانپوں کی دنیا کے حوالے سے ایسی حیران کن سائنسی دریافتیں سامنے آئی ہیں جنہوں نے حیاتیاتی ماہرین کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ لائیو سائنس (Live Science)، ٹائمز آف انڈیا اور کلک پیٹرولیم کی رپورٹوں کے مطابق، سائنسدانوں نے نہ صرف ایناکونڈا کی ایک نئی دیوہیکل نسل دریافت کی ہے بلکہ فوسلز کے مطالعے سے یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ یہ عظیم الجثہ سانپ کروڑوں سالوں سے اپنا حجم برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان دریافتوں میں سب سے نمایاں "انا جولیا" (Ana Julia) نامی ایناکونڈا ہے، جسے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا سانپ تسلیم کیا جا رہا ہے۔
لائیو سائنس (Live Science) کی رپورٹ کے مطابق، ایمیزون میں ماہرین نے پہلی بار ایناکونڈا کی ایک نئی قسم "ناردرن گرین ایناکونڈا" (Northern Green Anaconda) کو کیمرے کی آنکھ میں قید کیا ہے۔ اس سے پہلے سمجھا جاتا تھا کہ گرین ایناکونڈا کی صرف ایک ہی نسل ہے، لیکن ڈی این اے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ ان دونوں نسلوں میں جینیاتی طور پر 5.5 فیصد فرق ہے، جو کہ انسانوں اور چیمپنزیوں کے درمیان فرق سے بھی زیادہ ہے۔ یہ دریافت ایمیزون کے ماحولیاتی نظام کی پیچیدگی کو سمجھنے میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، اس نئی مہم کے دوران دریافت ہونے والی مادہ ایناکونڈا "انا جولیا" (Ana Julia) کی لمبائی تقریباً 20.7 فٹ ہے اور اس کا وزن سینکڑوں کلوگرام ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انا جولیا کی نسل کے ارتقائی راز بتاتے ہیں کہ یہ سانپ پانی اور خشکی دونوں جگہوں پر شکار کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کی دریافت کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ سانپ ایک بالغ انسان کے جسم سے کہیں زیادہ چوڑا ہے، جو اسے حقیقی معنوں میں ایک "دیو" بناتا ہے۔
کلک پیٹرولیم (Click Petroleo e Gas) نے وینزویلا سے ملنے والے 12.4 ملین سال پرانے فوسلز کے حوالے سے ایک دلچسپ انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، میوسین (Miocene) دور کے ان فوسلز کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ دنیا کے یہ سب سے بڑے سانپ اس قدیم دور میں بھی اتنے ہی بڑے تھے جتنے آج ہیں۔ یعنی لاکھوں سال گزرنے اور زمین کے بدلتے ہوئے ماحول کے باوجود، ایناکونڈا نے اپنے حجم کو برقرار رکھا ہے اور وہ اس سے زیادہ بڑے نہیں ہوئے۔ یہ دریافت ڈارون کے نظریہ ارتقا کے حوالے سے ایک نیا رخ پیش کرتی ہے کہ کچھ نسلیں اپنی جسمانی ساخت میں تبدیلی کے بجائے استحکام کو ترجیح دیتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دیوہیکل سانپوں کی بقا اب خطرے میں ہے کیونکہ ایمیزون کے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات اور غیر قانونی کان کنی ان کے مسکن کو تباہ کر رہی ہے۔ "انا جولیا" جیسی مخلوقات کا زندہ رہنا اس بات پر منحصر ہے کہ ہم ان کے قدرتی ماحول کو کس حد تک محفوظ رکھ پاتے ہیں۔ یہ سانپ جنگل کے "سپر پریڈیٹرز" (Super Predators) ہیں جو پورے ماحولیاتی نظام کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
انا جولیا کی دریافت اور قدیم فوسلز کے حقائق نے ثابت کر دیا ہے کہ قدرت کے پاس ابھی بھی بہت سے ایسے راز چھپے ہیں جو انسانی عقل کو دنگ کر سکتے ہیں۔ ایناکونڈا کی نئی نسل کی دریافت حیاتیات کی کتابوں میں ایک نیا باب رقم کر رہی ہے۔ کیا مستقبل میں ہمیں اس سے بھی بڑے سانپ مل سکتے ہیں؟ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ایمیزون کی گہرائیوں میں ابھی بہت کچھ دریافت ہونا باقی ہے۔

