امریکہ کے نیشنل پارک سروس (NPS) نے ملک بھر کے پارکوں کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کی ہیں تاکہ ان زائرین کو روکا جا سکے جو اپنے سالانہ پاسز پر موجود صدر ٹرمپ کی تصویر کو خراب (Defacing) کر رہے ہیں۔ NPR، SFGATE اور آؤٹ سائیڈ آن لائن (Outside Online) کی رپورٹوں کے مطابق، جنوری 2026 میں یہ مسئلہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بڑی تعداد میں زائرین نے اپنے پاسز پر صدر ٹرمپ کی تصویر کو اسٹیکرز کے ذریعے چھپانا یا اسے مٹانا شروع کر دیا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ پاس کو "کالعدم" (Void) قرار دینے کا باعث بنے گی۔ SFGATE کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر ایک نیا رجحان (Trend) دیکھا گیا ہے جہاں لوگ نیشنل پارک پاس پر موجود صدر کی تصویر کے اوپر مختلف اسٹیکرز یا ٹیپ لگا رہے ہیں۔ تاہم، پارک حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاس پر موجود کسی بھی حصے، خاص طور پر صدر کی تصویر، کو دانستہ طور پر ڈھانپا گیا تو اسے سرکاری دستاویز کی توہین تصور کیا جائے گا اور وہ پاس پارک میں داخلے کے لیے قابلِ قبول نہیں رہے گا۔ زائرین کو اب ان پاسز کو استعمال کرنے کے لیے انہیں اپنی اصل حالت میں رکھنا ہوگا۔
NPR کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نیشنل پارک سروس نے یہ نئی ہدایات اس لیے جاری کی ہیں تاکہ وفاقی املاک اور دستاویزات کے تقدس کو برقرار رکھا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق، بہت سے زائرین سیاسی بنیادوں پر احتجاجاً ایسا کر رہے ہیں، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ پارک پاس ایک قانونی دستاویز ہے اور اس میں تبدیلی کرنا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ نیشنل پارک سروس نے عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ داخلی راستوں پر پاسز کی باریک بینی سے جانچ کریں اور خراب شدہ پاسز کو فوری طور پر ضبط کر لیں۔
آؤٹ سائیڈ آن لائن (Outside Online) کے مطابق، یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب نئی انتظامیہ نے سالانہ پاس کے ڈیزائن میں تبدیلی کر کے صدر کی تصویر شامل کی۔ ماحول دوست تنظیموں اور آؤٹ ڈور ایڈونچر کے شوقین افراد کے درمیان اس فیصلے پر ملی جلی رائے پائی جاتی ہے۔ کچھ زائرین کا کہنا ہے کہ پارکس کو سیاست سے پاک ہونا چاہیے، جبکہ انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ ایک روایتی سرکاری دستاویز ہے جس پر سربراہِ مملکت کی تصویر ہونا معمول کی بات ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی چھیڑ چھاڑ سے نہ صرف زائرین کا مالی نقصان (پاس کی فیس ضائع ہونا) ہو سکتا ہے بلکہ انہیں پارک میں داخلے سے بھی روکا جا سکتا ہے۔ نیشنل پارک سروس نے ویب سائٹ پر واضح ہدایات درج کر دی ہیں کہ "اگر آپ کا پاس کسی بھی وجہ سے ناقابلِ شناخت ہے یا اس پر غیر ضروری اسٹیکرز لگے ہیں، تو آپ کو نیا پاس خریدنا پڑے گا"۔ یہ اقدام خاص طور پر ان بڑے پارکس (جیسے یوسیمیٹی یا یلو اسٹون) کے لیے ہے جہاں زائرین کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔
نیشنل پارک پاس پر صدر ٹرمپ کی تصویر کے حوالے سے ہونے والا احتجاج اب قانونی کارروائی کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ نیشنل پارک سروس نے اپنی پالیسی سخت کر دی ہے تاکہ سرکاری دستاویزات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو روکا جا سکے۔ زائرین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے احتجاج کے لیے دیگر ذرائع استعمال کریں، کیونکہ پاس کو خراب کرنا ان کے لیے تفریحی دورے کی منسوخی کا باعث بن سکتا ہے۔ 2026 کا یہ "اسٹیکر تنازع" اب امریکہ کے آؤٹ ڈور کلچر میں ایک اہم بحث بن چکا ہے۔

