ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ (SCMP) کی اس رپورٹ کے مطابق، چینی محققین نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایک ایسا انقلابی نظام تیار کیا ہے جو فضا میں موجود دشمن کے اسٹیلتھ (Stealth) طیاروں، بشمول امریکی F-22 اور F-35، کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پیشرفت فضائی دفاعی نظام میں ایک بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے کیونکہ اسٹیلتھ طیاروں کو روایتی ریڈاروں سے چھپنے کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے، لیکن چین کی یہ نئی "اے آئی ہنٹنگ ٹیکنالوجی" ان کی پوشیدہ موجودگی کو بھی بے نقاب کر سکتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ریڈار سے ملنے والے انتہائی کمزور اور منتشر سگنلز (Weak Signals) کا تجزیہ کرنے کے لیے جدید ترین الگورتھمز کا استعمال کرتی ہے۔ جب ایک اسٹیلتھ طیارہ فضا میں سفر کرتا ہے، تو وہ ریڈار لہروں میں بہت معمولی سی لرزش یا خلل پیدا کرتا ہے۔ روایتی نظام ان سگنلز کو "شور" (Noise) سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن چین کا یہ اے آئی نظام ان معمولی اشاروں کو پکڑ کر طیارے کی درست لوکیشن، رفتار اور سمت کا تعین کر لیتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نظام کے تجربات کے دوران، اے آئی نے انتہائی پیچیدہ موسمی حالات اور دشمن کی جانب سے پیدا کردہ برقی مداخلت (Electronic Jamming) کے باوجود اسٹیلتھ اہداف کو کامیابی سے ٹریک کیا۔
چینی سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ نظام عام ریڈار نیٹ ورک کو "اسٹیلتھ کلر" (Stealth Killer) میں تبدیل کر سکتا ہے، جس کے لیے کسی مہنگے نئے ہارڈ ویئر کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ صرف موجودہ نظام کو اے آئی سافٹ ویئر سے اپ گریڈ کرنا کافی ہوگا۔ یہ پیشرفت بحرالکاہل کے خطرے والے علاقوں میں دفاعی توازن کو بدل سکتی ہے۔ اب تک امریکہ کو اپنے اسٹیلتھ بیڑے کی وجہ سے فضائی برتری حاصل تھی، لیکن چین کی جانب سے اس "اینٹی اسٹیلتھ" صلاحیت کے حصول نے اس برتری کو چیلنج کر دیا ہے۔ بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ثابت کرتی ہے کہ اب جنگوں کا فیصلہ صرف مشینری سے نہیں بلکہ سافٹ ویئر اور ڈیٹا کی طاقت سے ہوگا۔
مختصر یہ کہ چین کا یہ نیا اے آئی ریڈار سسٹم اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کے دور کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جہاں طیارے چھپنے کی کوشش کریں گے، وہیں اے آئی ان کے پیچھے چھپے ہوئے ڈیجیٹل نشانات کو ڈھونڈ نکالے گی۔ یہ رپورٹ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری "ٹیکنالوجی کی سرد جنگ" میں چین کے بڑھتے ہوئے قدموں کی نشاندہی کرتی ہے۔

