برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر (keir starmer) نے بیجنگ کے ایک تاریخی دورے پر پہنچ کر برطانوی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ چین میں موجود معاشی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ بی بی سی، ڈان نیوز اور سی این این کی حالیہ رپورٹس کے مطابق،کیئر اسٹارمر (keir starmer) کا یہ دورہ برطانیہ اور چین کے درمیان گزشتہ کئی سالوں سے جاری سرد مہری کو ختم کرنے اور اقتصادی تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ وزیراعظم کا ماننا ہے کہ عالمی چیلنجز کے باوجود چین کے ساتھ تجارت برطانیہ کی معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ برطانوی کاروبار چینی مارکیٹ میں اپنی جگہ دوبارہ بنائیں تاکہ ملک میں سرمایہ کاری اور ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں۔
ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ کے مطابق، کیئر اسٹارمر (keir starmer) نے بیجنگ پہنچتے ہی واضح کیا کہ ان کی حکومت چین کے ساتھ "تعمیری اور حقیقت پسندانہ" تعلقات استوار کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے برطانوی فرموں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ گرین انرجی، مالیاتی خدمات اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چینی کمپنیوں کے ساتھ تعاون بڑھائیں۔ بی بی سی (BBC) کے مطابق، یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب برطانیہ اپنی برآمدات بڑھانے کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش میں ہے، اور کیئر اسٹارمر (keir starmer) اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ چین کے ساتھ بہتر تعلقات سے برطانوی معیشت کو استحکام ملے گا، جو ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
سی این این (CNN) کی رپورٹ کے مطابق، جہاں کیئر اسٹارمر (keir starmer) تجارت پر توجہ دے رہے ہیں، وہیں انہیں انسانی حقوق اور قومی سلامتی جیسے حساس معاملات پر بھی دباؤ کا سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ بہت زیادہ قریب ہونا برطانیہ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، لیکن اسٹارمر کی ٹیم کا موقف ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا ضروری ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے چینی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں واضح کیا کہ برطانیہ اپنے مفادات اور اقدار پر سمجھوتہ کیے بغیر معاشی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے، جو کہ ایک متوازن سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
ڈان نیوز (Dawn News) کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ برطانوی کاروباری برادری نے وزیراعظم کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ کیئر اسٹارمر (keir starmer) نے ایک تجارتی وفد کے ہمراہ مختلف صنعتی مراکز کا دورہ کیا اور برطانوی مصنوعات کی چینی مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانے پر بات چیت کی۔ سی این این کے مطابق، اسٹارمر کی یہ 'اکنامک ڈپلومیسی' (Economic Diplomacy) دراصل برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کی ایک کوشش ہے، جہاں چین ایک اہم پارٹنر کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں اربوں پاؤنڈز کے نئے معاہدے طے پائیں گے۔
کیئر اسٹارمر (keir starmer) کا دورہ چین برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ بی بی سی (BBC) کی رپورٹ کے مطابق، وزیراعظم نے ثابت کیا ہے کہ وہ معاشی مفادات کے لیے سخت فیصلے کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔ کیئر اسٹارمر (keir starmer) کی جانب سے کمپنیوں کو مواقع چھیننے کی ترغیب دینا برطانوی معیشت کے لیے ایک نئی روح پھونکنے کی کوشش ہے۔ ڈان نیوز (Dawn News) کا خلاصہ ہے کہ اگر یہ دورہ کامیاب رہتا ہے تو یہ برطانیہ اور چین کے درمیان ایک طویل المدتی شراکت داری کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ سی این این (CNN) کے مطابق، اسٹارمر کا یہ مشن ان کے سیاسی کیریئر کے اہم ترین امتحانات میں سے ایک ہے۔

