NADRA Bug Bounty Challenge 2026: Securing Pakistan’s Digital ID with Ethical Hackers

NADRA Bug Bounty Challenge 2026: Securing Pakistan’s Digital ID with Ethical Hackers

پاکستان کے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے ملکی تاریخ میں پہلی بار nadra bug bounty challenge 2026 کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے تاکہ قومی ڈیجیٹل شناختی ڈھانچے کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔ بائیومیٹرک اپڈیٹ، ٹیک جوس اور پرو پاکستانی کی رپورٹس کے مطابق، اس اقدام کے تحت نادرا نے ہیکرز، سیکیورٹی محققین اور آئی ٹی کے طلبہ کو دعوت دی ہے کہ وہ اتھارٹی کے سافٹ ویئر اور ڈیٹا بیس میں موجود سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کریں اور انعام حاصل کریں۔ اس مہم کا مقصد کسی بھی بیرونی سائبر حملے سے قبل اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنانا اور شہریوں کے حساس بائیومیٹرک ڈیٹا کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔

NADRA launches the first national Bug Bounty Challenge 2026 to fortify Pakistan's digital ID infrastructure. Join the mission via HEC partnership

پرو پاکستانی (ProPakistani) کی رپورٹ کے مطابق، nadra bug bounty challenge 2026 کا مقصد پاکستان کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں اعتماد پیدا کرنا اور مقامی سائبر ماہرین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔ نادرا کے چیئرمین نے اس موقع پر کہا کہ یہ پروگرام سیکیورٹی کے حوالے سے اتھارٹی کے شفاف اور جدید نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ بائیومیٹرک اپڈیٹ (Biometric Update) کے مطابق، نادرا کا ڈیجیٹل آئی ڈی انفراسٹرکچر نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑی مثال ہے، اس لیے اس کی حفاظت کے لیے 'ایتھیکل ہیکنگ' (Ethical Hacking) کی حوصلہ افزائی کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے تاکہ شہریوں کی پرائیویسی متاثر نہ ہو۔


ٹیک جوس (TechJuice) کی رپورٹ کے مطابق، نادرا نے اس قومی اقدام کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے نوجوان ٹیلنٹ کو اس nadra bug bounty challenge 2026  کا حصہ بنایا جا سکے۔ اس تعاون کے تحت طلبہ کو حقیقی دنیا کے سائبر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے کا موقع ملے گا اور بہترین کارکردگی دکھانے والوں کے لیے لاکھوں روپے کے نقد انعامات بھی رکھے گئے ہیں۔ پرو پاکستانی کے مطابق، نادرا نے ایک مخصوص پورٹل بھی متعارف کرایا ہے جہاں سیکیورٹی ماہرین اپنی رپورٹیں جمع کروا سکتے ہیں، جن کا جائزہ نادرا کی خصوصی تیکنیکی ٹیم لے گی۔


بائیومیٹرک اپڈیٹ (Biometric Update) کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نادرا اپنے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل فراڈ اور ڈیٹا چوری کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ nadra bug bounty challenge 2026  کے ذریعے اتھارٹی یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ وہ اپنی خامیوں کو چھپانے کے بجائے انہیں دور کرنے کے لیے تیار ہے۔ ٹیک جوس کے مطابق، ایچ ای سی کے ساتھ یہ اشتراک پاکستان میں سائبر سیکیورٹی کی تعلیم اور تحقیق کے لیے بھی نئے راستے کھولے گا، جس سے ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو عالمی سطح پر پذیرائی ملے گی۔


nadra bug bounty challenge 2026  پروگرام پاکستان کے دفاعی اور ڈیجیٹل نظام کو مستحکم کرنے کی ایک بہترین کوشش ہے۔ پرو پاکستانی (ProPakistani) کی رپورٹ کے مطابق، اس اقدام کو عوامی سطح پر بے حد سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں شفافیت پیدا ہوگی۔ nadra bug bounty challenge 2026  کا کامیاب انعقاد دیگر سرکاری اداروں کے لیے بھی ایک مشعلِ راہ ثابت ہوگا کہ وہ بھی اپنے ڈیجیٹل اثاثوں کو محفوظ بنانے کے لیے عوامی شراکت داری کو اہمیت دیں۔ بائیومیٹرک اپڈیٹ (Biometric Update) کا خلاصہ ہے کہ نادرا اس وقت دنیا کے جدید ترین بائیومیٹرک اداروں میں شامل ہے اور یہ چیلنج اس کی ساکھ کو مزید بہتر بنائے گا۔