EU-Mercosur Trade Deal 2026: Europe’s Economic Pivot to Latin America Amid Farmer Protests

EU-Mercosur Trade Deal 2026: Europe’s Economic Pivot to Latin America Amid Farmer Protests

یورپی یونین (European Union) اور جنوبی امریکہ کی تجارتی تنظیم مرکوسر (Mercosur) کے درمیان گزشتہ دو دہائیوں سے لٹکا ہوا تجارتی معاہدہ بالآخر ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز (The New York Times) کی رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین نے برازیل، ارجنٹائن، پیراگوئے اور یوراگوئے پر مشتمل اس بلاک کے ساتھ ایک تاریخی تجارتی سمجھوتے کی توثیق کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ہے۔

Explore the latest updates on the historic European Union and Mercosur trade agreement. Learn about France’s opposition, Germany’s support, and the im

 یہ معاہدہ، جو دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی علاقوں میں سے ایک تخلیق کرے گا، عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست (Geopolitics) پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، اس کی راہ میں اب بھی ماحولیاتی تحفظ اور کسانوں کے شدید احتجاج جیسی بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں خطوں کے درمیان ٹیرف (Tariffs) اور تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے، جس سے یورپی کمپنیوں کو جنوبی امریکہ کی منڈیوں تک آسان رسائی ملے گی اور بدلے میں مرکوسر (Mercosur) ممالک کو اپنی زرعی مصنوعات بشمول گوشت (Beef)، چینی اور پولٹری یورپی منڈیوں میں فروخت کرنے کا موقع ملے گا۔ 


معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ یورپی یونین کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وہ چین (China) پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتی ہے اور لاطینی امریکہ (Latin America) کے ساتھ مضبوط اقتصادی روابط استوار کر کے اپنے سپلائی چین (Supply Chain) کو وسعت دینا چاہتی ہے۔ نیویارک ٹائمز (The New York Times) کے مطابق، فرانس (France) اس معاہدے کا سب سے بڑا مخالف بن کر ابھرا ہے۔ 


فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون (Emmanuel Macron) اور وہاں کی طاقتور کسان یونینوں کا موقف ہے کہ جنوبی امریکہ سے سستی زرعی مصنوعات کی درآمد سے مقامی کسانوں کا معاشی قتل عام ہوگا۔ اس کے علاوہ، فرانس نے ماحولیاتی خدشات (Environmental Concerns) کو بھی بنیاد بنایا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی (Deforestation) روکنے کے لیے کیے گئے وعدے ناکافی ہیں۔ فرانسیسی کسانوں نے پیرس سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، جن کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ "غیر منصفانہ مسابقت" کو فروغ دے گا۔ دوسری جانب، جرمنی (Germany) اور اسپین (Spain) اس معاہدے کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔ 


جرمنی کی آٹوموبائل انڈسٹری (Automobile Industry) اور مینوفیکچرنگ کے شعبے اس معاہدے کو ایک سنہری موقع قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے ان کی گاڑیوں اور مشینری کی جنوبی امریکہ میں برآمدات پر بھاری ٹیکس ختم ہو جائیں گے۔ یورپی کمیشن (European Commission) کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ یہ موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) کے خلاف پیرس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے، کیونکہ اس میں ماحولیاتی تحفظ کی سخت شرائط شامل کی گئی ہیں۔ 

 مرکوسر (Mercosur) ممالک، خاص طور پر برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا (Lula da Silva) کے لیے یہ معاہدہ ایک بڑی سیاسی اور معاشی فتح ثابت ہو سکتا ہے۔ جنوبی امریکہ کے یہ ممالک اپنی معیشتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے یورپی سرمایہ کاری (Foreign Investment) اور ٹیکنالوجی کے منتظر ہیں۔ تاہم، انہیں خدشہ ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے لگائی گئی سخت ماحولیاتی شرائط (Green Standards) ان کی صنعتی ترقی کی رفتار کو سست کر سکتی ہیں۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ انہیں اپنی قدرتی وسائل کو استعمال کرنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کبھی ترقی یافتہ ممالک کو تھا۔


 عالمی تجارتی نظام میں اس وقت ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے جہاں ممالک کثیر الجہتی (Multilateral) نظام کے بجائے علاقائی بلاکس کے ساتھ معاہدوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اگر یورپی یونین اور مرکوسر کا یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو یہ تقریباً 800 ملین صارفین پر مشتمل ایک ایسی مارکیٹ بنائے گا جو عالمی جی ڈی پی (Global GDP) کا ایک بڑا حصہ ہوگی۔

 یہ معاہدہ صدر ٹرمپ (Donald Trump) کی جانب سے عائد کی جانے والی ممکنہ عالمی تجارتی پابندیوں کے خلاف یورپ کے لیے ایک "اقتصادی ڈھال" کا کام بھی کر سکتا ہے، کیونکہ یورپ اب نئے تجارتی شراکت داروں کی تلاش میں ہے۔

 آنے والے ہفتوں میں یورپی پارلیمنٹ اور رکن ممالک کے درمیان اس معاہدے پر حتمی بحث متوقع ہے۔ کیا یورپی یونین فرانس کی مخالفت اور کسانوں کے غصے کو ٹھنڈا کر پائے گی؟ یا پھر یہ تاریخی موقع ایک بار پھر بیوروکریسی اور سیاسی مفادات کی نذر ہو جائے گا؟

 نیویارک ٹائمز (The New York Times) کی رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ اس وقت گیند یورپی قیادت کے کورٹ میں ہے، اور ان کا فیصلہ یہ طے کرے گا کہ آیا یورپ ایک آزاد تجارتی قوت کے طور پر اپنا وجود برقرار رکھ پاتا ہے یا وہ تحفظ پسندی (Protectionism) کی دیواروں میں مقید ہو جائے گا۔