China Launches World’s First Thorium Molten-Salt Reactor: A New Era of Clean Energy

China Launches World’s First Thorium Molten-Salt Reactor: A New Era of Clean Energy

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ (SCMP) کی رپورٹ کے مطابق، چین نے ٹیکنالوجی اور سائنسی خود انحصاری کی جانب ایک اور بڑی جست لگائی ہے۔ چین نے دنیا کا پہلا تھوریم مائع نمک ری ایکٹر (Thorium Molten-Salt Reactor) تیار کر لیا ہے جس نے حال ہی میں اپنے آپریشنل ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کیے ہیں۔ یہ ری ایکٹر نہ صرف توانائی کے بحران کا حل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ روایتی ایٹمی بجلی گھروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ اور ماحول دوست بھی ہے۔ اس پیشرفت کو عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں "گیم چینجر" قرار دیا جا رہا ہے۔ 

China marks a historic milestone in nuclear energy by successfully testing the world’s first Thorium Molten-Salt Reactor. Learn how this water-free,

 اس ری ایکٹر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے پانی کی ضرورت نہیں ہوتی، جس کا مطلب ہے کہ اسے صحرائی علاقوں اور پانی کی کمی والے مقامات پر بھی نصب کیا جا سکتا ہے۔ روایتی یورینیم ری ایکٹرز کے برعکس، تھوریم سے چلنے والے یہ ری ایکٹرز پگھلنے (Meltdown) کے خطرے سے پاک ہیں، کیونکہ کسی بھی خرابی کی صورت میں ایندھن خود بخود ٹھنڈا ہو کر جم جاتا ہے۔


 چین کا یہ ری ایکٹر صحرائے گوبی (Gobi Desert) کے علاقے میں قائم کیا گیا ہے جو اس ٹیکنالوجی کی عملی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ تھوریم دنیا میں یورینیم کے مقابلے میں کہیں زیادہ وافر مقدار میں موجود ہے، اور چین کے پاس اس کے وسیع ذخائر ہیں۔ تھوریم ری ایکٹرز سے پیدا ہونے والا تابکار فضلہ (Radioactive Waste) بھی بہت کم ہوتا ہے اور یہ صرف چند سو سالوں میں بے ضرر ہو جاتا ہے، جبکہ یورینیم کا فضلہ ہزاروں سال تک خطرناک رہتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی چین کو کاربن کے اخراج میں کمی لانے اور 2060 تک "نیٹ زیرو" کا ہدف حاصل کرنے میں کلیدی مدد فراہم کرے گی۔


 چین کی یہ کامیابی امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے لیے ایک بڑا پیغام ہے، کیونکہ یہ ممالک دہائیوں سے اس ٹیکنالوجی پر کام کر رہے تھے لیکن چین نے اسے عملی جامہ پہنا کر سبقت حاصل کر لی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے سالوں میں تھوریم ری ایکٹرز پوری دنیا میں سستی اور محفوظ بجلی کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

چین اب اس ری ایکٹر کے تجارتی ورژن (Commercial Version) کی تیاری پر کام کر رہا ہے جسے دیگر ممالک کو بھی برآمد کیا جا سکے گا۔

چین کا تھوریم ری ایکٹر صاف توانائی کی تلاش میں ایک انقلابی قدم ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ایٹمی حادثات کے خوف کو ختم کرتی ہے بلکہ توانائی کے ایسے ذرائع فراہم کرتی ہے جو صدیوں تک انسانیت کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ چین اب صرف ٹیکنالوجی کا پیروکار نہیں بلکہ ایک عالمی "انوویٹر" بن چکا ہے جو مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو نئی شکل دے رہا ہے۔