ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ (SCMP) کی اس رپورٹ کے مطابق، چینی سائنسدانوں نے کوانٹم کمپیوٹنگ (Quantum Computing) کے میدان میں ایک ایسی حیران کن کامیابی حاصل کی ہے جس نے عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، چینی محققین نے ایک ایسی کوانٹم مشین تیار کی ہے جس نے موجودہ دور کے سب سے مضبوط انکرپشن (Encryption) نظام، جسے "RSA" کہا جاتا ہے، کو توڑنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
یہ کامیابی "کوانٹم بالادستی" کی دوڑ میں چین کو اپنے حریفوں، خاص طور پر امریکہ سے بہت آگے لے جا سکتی ہے۔ اس پیشرفت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر کا مالیاتی نظام، فوجی مواصلات اور نجی ڈیٹا "RSA" انکرپشن پر منحصر ہے۔ روایتی سپر کمپیوٹرز کو اس کوڈ کو توڑنے کے لیے ہزاروں سال درکار ہوں گے، لیکن چین کے اس نئے کوانٹم نظام نے اسے چند منٹوں یا گھنٹوں میں حل کرنے کی صلاحیت دکھائی ہے۔
ماہرین اسے "کوانٹم اپوکیلیپس" (Quantum Apocalypse) کا نام دے رہے ہیں، جہاں موجودہ دور کا کوئی بھی ڈیجیٹل لاک محفوظ نہیں رہے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی ٹیم نے "شورز الگورتھم" (Shor's Algorithm) کو ایک محدود پیمانے کے کوانٹم کمپیوٹر پر چلا کر یہ ثابت کیا کہ بڑے ہندسوں کی فیکٹرائزیشن (Factorization) اب ناممکن نہیں رہی۔ اگرچہ مکمل طور پر فعال اور بڑے پیمانے کا کوانٹم کمپیوٹر ابھی چند سال دور ہو سکتا ہے، لیکن اس تجربے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ وقت قریب ہے جب موجودہ پاس ورڈز اور سیکیورٹی پروٹوکولز بے معنی ہو جائیں گے۔
اس خبر کے بعد عالمی سطح پر پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی (Post-Quantum Cryptography) کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر ممالک اب تیزی سے ایسے نئے سیکیورٹی الگورتھمز تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں کوانٹم کمپیوٹرز بھی نہ توڑ سکیں۔
چین کی یہ سائنسی فتح نہ صرف ایک تکنیکی معجزہ ہے بلکہ یہ جیو پولیٹیکل سطح پر ایک بڑا سٹریٹجک ہتھیار بھی بن سکتی ہے، جو کسی بھی ملک کے حساس ترین ڈیٹا تک رسائی فراہم کر سکتی ہے۔
SCMP کی یہ رپورٹ ڈیجیٹل دنیا کے لیے ایک انتباہ ہے۔ کوانٹم کمپیوٹنگ کی طاقت اب صرف لیبارٹریوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ عملی طور پر انٹرنیٹ کی بنیادوں کو تبدیل کرنے کے قریب ہے۔ چین کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ وہ مستقبل کی ٹیکنالوجی میں نہ صرف حصہ دار ہے بلکہ قیادت کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔

