ہانگ کانگ کی ایک عدالت نے ایک سوشل ورکر کو، جس نے اپنی زیرِ نگرانی ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے تھے، دو سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ (SCMP) کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ پیشہ ورانہ اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی اور اعتماد کے رشتے کو ٹھیس پہنچانے کا ایک افسوسناک نمونہ قرار دیا گیا ہے۔
ملزم، جس کی عمر 34 سال ہے، نے عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا، جس کے بعد جج نے اسے جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم ایک سماجی کارکن (Social Worker) کے طور پر کام کر رہا تھا اور متاثرہ لڑکی، جس کی عمر واقعے کے وقت صرف 15 سال تھی، اس کے پاس مشاورت اور مدد کے لیے آتی تھی۔
ملزم نے اپنے عہدے اور لڑکی کی کم عمری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے ساتھ تعلقات استوار کیے، جو کہ ہانگ کانگ کے قانون کے تحت ایک سنگین جرم ہے۔ جج نے ریمارکس دیے کہ سوشل ورکرز کا کام معاشرے کے کمزور طبقوں کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ ان کا استحصال کرنا۔
متاثرہ لڑکی کے خاندان نے اس واقعے کے بعد شدید صدمے کا اظہار کیا ہے۔ استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ اس نوعیت کے واقعات نوجوانوں کی ذہنی صحت پر دیرپا منفی اثرات مرتب کرتے ہیں اور ان کا اداروں پر سے اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ دفاعی وکیل نے ملزم کی جانب سے معافی کی درخواست کی اور اسے "لمحاتی جذبات" کا نتیجہ قرار دیا، لیکن عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پیشہ ورانہ حدود کو عبور کرنا ناقابلِ معافی ہے۔
ہانگ کانگ میں سوشل ورکرز کی رجسٹریشن کے قواعد و ضوابط انتہائی سخت ہیں، اور اس سزا کے بعد ملزم کا لائسنس مستقل طور پر منسوخ کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کیس نے شہر میں سوشل ورک کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کے لیے "سائیکولوجیکل باؤنڈریز" (Psychological Boundaries) اور اخلاقی تربیت کی ضرورت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے اداروں میں نگرانی کا نظام مزید سخت کیا جائے جہاں نوجوان اور بچے مدد کے لیے رجوع کرتے ہیں۔
یہ کیس پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں خیانت کی ایک سنگین مثال ہے۔ 2 سال اور 3 ماہ کی قید کی سزا اس بات کا واضح پیغام ہے کہ قانون کسی بھی ایسے شخص کو معاف نہیں کرے گا جو اپنے اختیار کا غلط استعمال کر کے کسی نابالغ کی زندگی کو خطرے میں ڈالے۔ ہانگ کانگ کی عدالت نے اس فیصلے کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کا تحفظ ہر چیز پر مقدم ہے۔

