پاکستان (Pakistan) میں دسمبر کے آخری دنوں میں سرکاری تعطیلات (Public Holidays) اور بینک بندش (Banks Closure) سے متعلق اہم اعلانات سامنے آ گئے ہیں۔ 25 دسمبر (25 December Holiday) اور 27 دسمبر (December Holiday) کو مختلف مواقع کی مناسبت سے ملک بھر میں سرکاری سرگرمیوں میں نمایاں تبدیلیاں ہوں گی۔ ان تعطیلات کا براہِ راست اثر بینکوں (Banks)، سرکاری دفاتر (Government Offices)، تعلیمی اداروں (Educational Institutions) اور کاروباری سرگرمیوں (Business Activities) پر پڑے گا۔
25 دسمبر (25 December) پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناح (Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah) کے یومِ پیدائش (Birth Anniversary) اور کرسمس (Christmas) کے موقع پر ہر سال سرکاری تعطیل کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن ملک بھر میں سرکاری دفاتر بند رہتے ہیں جبکہ مختلف سرکاری و نجی ادارے (Public & Private Institutions) محدود سطح پر کام کرتے ہیں یا مکمل طور پر بند رہتے ہیں۔
اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (State Bank of Pakistan) کی جانب سے بھی واضح کیا گیا ہے کہ 25 دسمبر ( December Holiday) کو ملک بھر کے تمام بینک (Banks)، مائیکروفنانس بینک (Microfinance Banks) اور ترقیاتی مالیاتی ادارے (Development Finance Institutions) بند رہیں گے۔ بینکوں کی بندش کے باعث عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے مالی امور (Financial Matters)، کیش لین دین (Cash Transactions) اور دیگر بینکنگ ضروریات پہلے ہی نمٹا لیں۔
بینکوں کی بندش کے دوران اے ٹی ایم (ATM) سروسز دستیاب رہیں گی، تاہم بعض علاقوں میں کیش کی کمی (Cash Shortage) کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ماہرین (Experts) کے مطابق تعطیلات سے قبل اے ٹی ایم میں رقم نکالنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث شہریوں کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اسی لیے عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پیشگی منصوبہ بندی کریں۔
دوسری جانب سندھ حکومت (Sindh Government) نے 27 دسمبر (27 December) کو بھی صوبے بھر میں سرکاری تعطیل (Public Holiday) کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ تعطیل محترمہ بینظیر بھٹو (Mohtarma Benazir Bhutto) کی برسی (Death Anniversary) کے موقع پر دی جاتی ہے، جس کے باعث سندھ (Sindh) میں سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور بیشتر سرکاری ادارے بند رہیں گے۔
27 دسمبر کی تعطیل کے اعلان کے بعد سندھ کے مختلف شہروں جن میں کراچی (Karachi)، حیدرآباد (Hyderabad)، سکھر (Sukkur) اور لاڑکانہ (Larkana) شامل ہیں، وہاں کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر ہوں گی۔ تاہم نجی شعبہ (Private Sector) میں کچھ ادارے اپنی پالیسی کے مطابق کام جاری رکھ سکتے ہیں۔
25 دسمبر اور 27 دسمبر کی تعطیلات کے باعث طلبہ (Students)، سرکاری ملازمین (Government Employees) اور عام شہریوں (Citizens) کو وقتی ریلیف ملے گا، تاہم کاروباری طبقہ (Business Community) کے لیے یہ دن منصوبہ بندی کے متقاضی ہوں گے۔ خاص طور پر بینکوں کی بندش کے باعث تجارتی لین دین (Business Transactions) متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین معیشت (Economists) کے مطابق سال کے اختتام پر تعطیلات کی وجہ سے مالی سرگرمیوں میں سست روی (Slowdown) آنا معمول کی بات ہے، تاہم اگر عوام بروقت تیاری کریں تو کسی بڑے مسئلے سے بچا جا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل بینکنگ (Digital Banking)، موبائل ایپس (Mobile Apps) اور آن لائن ٹرانزیکشنز (Online Transactions) کے استعمال کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ 25 دسمبر ( December Holiday) پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے جو بانی پاکستان (Founder of Pakistan) کی یاد تازہ کرتا ہے، جبکہ 27 دسمبر (27 December) جمہوری جدوجہد (Democratic Struggle) کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان تعطیلات کے دوران عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور اپنے امور کو ذمہ داری سے انجام دیں۔

.jpg)
