پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (Pakistan International Airlines - PIA) کی نجکاری (Privatization) کا عمل ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں پی آئی اے بڈنگ (PIA Bidding) کے لیے تین بڑے سرمایہ کار گروپس میدان میں آ گئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی 75 فیصد حصص (Stake) کی فروخت کے لیے بولی کے عمل میں غیر معمولی دلچسپی دیکھی جا رہی ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پی آئی اے نجکاری (PIA Privatization) کے اس عمل میں سب سے زیادہ توجہ عارف حبیب کنسورشیم (Arif Habib Consortium) پر مرکوز ہے، جس کی قیادت معروف مالیاتی ادارہ عارف حبیب لمیٹڈ (Arif Habib Limited) کر رہا ہے۔ اس کنسورشیم میں ملک کے بڑے صنعتی اور کاروباری ادارے شامل ہیں، جن میں فاطمہ فرٹیلائزر (Fatima Fertilizer) کا نام بھی نمایاں ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کنسورشیم پی آئی اے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب لکی گروپ (Lucky Group) اور اس سے وابستہ لکی کنسورشیم (Lucky Consortium) بھی پی آئی اے بڈ (PIA Bid) کے عمل میں سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔ لکی سیمنٹ (Lucky Cement) کے زیر انتظام یہ گروپ ملک کے کامیاب ترین کاروباری نیٹ ورکس میں شمار ہوتا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پی آئی اے فروخت (PIA Sold) لکی گروپ کے حصے میں آتی ہے تو قومی ایئرلائن میں بڑے پیمانے پر انتظامی اور مالی اصلاحات متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی آئی اے آکشن (PIA Auction) کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے سخت نگرانی کا نظام قائم کیا ہے۔ پی آئی اے بڈنگ لائیو (PIA Bidding Live) کی تمام قانونی اور مالی جانچ پڑتال مکمل کی جا رہی ہے تاکہ قومی اثاثے کو درست ہاتھوں میں منتقل کیا جا سکے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس نجکاری کا بنیادی مقصد پی آئی اے کو مسلسل خسارے سے نکال کر منافع بخش ادارہ بنانا ہے۔
پی آئی اے بڈنگ (PIA Bidding) کے اس مرحلے کو ملکی سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے بھی ایک امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر پی آئی اے نجکاری کامیاب ہوتی ہے تو مستقبل میں دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کے لیے بھی راہ ہموار ہو گی۔ عارف حبیب گروپ (Arif Habib Group) اور لکی گروپ (Lucky Group) جیسے بڑے ناموں کی شمولیت سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہونے کی امید ہے۔
حکومتی دستاویزات کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے بعد نئے سرمایہ کار ادارے کی ری اسٹرکچرنگ، فلیٹ کی بہتری، بین الاقوامی روٹس کی بحالی اور سروس کے معیار میں بہتری پر توجہ دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پی آئی اے بڈ (PIA Bid) کو محض ایک کاروباری سودا نہیں بلکہ قومی معیشت کی بحالی سے جوڑا جا رہا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ عارف حبیب کنسورشیم (Arif Habib Consortium) کا مالیاتی تجربہ اور لکی کنسورشیم (Lucky Consortium) کی صنعتی طاقت، دونوں ہی پی آئی اے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اب تمام نظریں پی آئی اے آکشن (PIA Auction) کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہیں، جو آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔
اگر یہ عمل کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو نہ صرف پی آئی اے کی ساکھ بحال ہو گی بلکہ پاکستان کی نجکاری پالیسی (Privatization Policy) کو بھی ایک نئی سمت ملے گی۔ عوام اور سرمایہ کار دونوں ہی اس فیصلے کے منتظر ہیں کہ آخرکار پی آئی اے کس کے حصے میں جاتی ہے۔

.jpg)
