"اصحابِ
فیل "
"حمیری
حکومت سے ابرہہ کی سیاست وقیادت تک"
حکومت
سبا کی حدودمملکت جنوبی عرب سے شروع ہو کر شما لی عرب اور افریقہ تک وسیع ہو گئی
تھیں۔ نجران میں یمن کے حمیری یہودی فرما نروا ذونواس نے عیسائیوں پر جو ظلم کیا اس کا بدلہ لینے
کیلئے حبشہ کی عیسا ئی سلطنت نے یمن پر حملہ کر کے حمیری حکومت کا خاتمہ کردیاتھا۔
حمیرعرب کی ایک قوم ہے اور ذونواس حمیری بادشاہ اس علاقہ پر حکومت کررہا تھا
ذونواس حمیری بادشاہ کے متعلق بعض مورخین یہ کہتے ہیں کہ وہ مذہبا یہودی ہو گیا
تھا اور بعض کے نزدیک وہ یہودی نہیں ہوا تھا بلکہ مشرک تھا لیکن یہودیوں کی طرف
مائل تھا۔
غالبا
اُس کے یہودی ہونے کا خیال اس وجہ سے پیدا
ہوا کہ وہ عیسائیوں کا دشمن تھا مگر یہ بھی ممکن ہے کہ وہ یہودی ہو گیا ہوبہر حال
اس کے دل میں عیسائیوں کی سخت دشمنی تھی یا شاید یہ دشمنی اس لئے ہو کہ یمن حبشہ
کے ساحل کے مقابل میں ہے ممکن ہے قریب ہونے کی وجہ سے اس کا حبشہ سے بگاڑ ہو جا یا
کرتا ہو۔ ایک دفعہ اس نے غصہ میں آکر اپنے ملک کے بیس ہزار عیسائی گرفتار کئے اور
خندقیں کھود کر اُن کو زندہ جلادیا۔
مفسرین
کا خیال ہے کہ سورۃالبروج میں اصحاب الاخدودکاواقعہ اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے اُس
نے خندقیں کھودکر آگ جلائی اور بیس ہزار عیسائیوں کو اُس آگ میں زندہ جلادیا۔ صرف
ایک شخص جس کا نام دوس ثعلبان تھا وہ بچکر
بھاگ نکلا۔ یہ سبا کا رہنے والا تھا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر۔۔۔) صحرا ذونواس
کے آدمیوں نے اس کا تعاقب کیا مگر وہ ان کے ہاتھ نہ آیا اور بھاگ کرقیصر روم کی
خدمت میں آگیا۔
اس
وقت عیسائیوں کا تمام دارومدار رومی حکومت پر تھا
رومی حکومت کےتمام با شندے عیسائی تھےاور پھر یہ حکومت اتنی زبر دست اور
وسیع تھی ۔اسی طرح مصراور لیبیا اور حبشہ تک کے بادشاہ اس کے ما تحت تھے عیسائی
لوگ اُس وقت بھاگ کر وہیں پناہ لیا کرتے تھے۔
اس
وقت ایران اور روم کی آپس میں بڑی کثرت سے لڑائیاں ہوتی تھیں جس کی وجہ سے کئی
قیصرسال کا اکثر حصہ شام میں ہی گزارتے تھے اُس وقت بھی قیصر وہیں تھا ۔اور یہ
بادشاہ نصرانی مذہب پر تھا۔
اور
دوس ثعلبان نے قیصر کے پاس فریاد کی کہ اس قتلِ عام کا بدلہ لیا جائے قیصر روما کی
سرحد یمن کے ساتھ نہیں ملتی تھیں درمیان میں پانچ
چھ سو میل کا ایک آزاد علاقہ تھا
اس لئے قیصر روما خود تو کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ چنا نچہ اُس نے دوس ثعلبان کو حبشہ
کے بادشاہ کے نام جو اس کے ما تحت تھا ایک چھٹی لکھ کر دی حبشہ اور یمن کے درمیان
بحیرہ احمر ہے۔ بہرحال اس نے حبشہ کے بادشاہ کے نام چھٹی لکھی کہ اس کے ساتھ اپنی
پوری فوج کردو اس لئے کہ یہاں سے دشمن کا
ملک قریب تھا۔ اس وقت حبشہ کے بادشاہ نجاشی کہلاتے تھے انگریزی میں اُن کو نیگس NEGUS کہتے ہیں۔
اُس
وقت جو نجاشی حکومت کررہا تھا اس کا نام اصحمہ بن بحر تھا یہ اُسی بادشاہ کا نام
ہے جس کے زمانہ میں رسول کریمؐ کے صحابہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور جس کے متعلق تا ریخ اور احادیث سے ثابت ہے
کہ وہ آخری زمانہ میں مسلمان ہو گیا تھا۔
چنا
نچہ اُس نے اپنے دو جر نیل ایک بہت بڑے
لشکر کے ساتھ یمن بھجوائے ان میں سے ایک کانام اریاط تھااور دوسرے کانام ابراہہ بن
الصباح اور اس کی کنیت ابویکسوم تھی یہ سفید رنگ کاتھا۔ رومی حکومت میں یہ بھی
دستور تھا کہ وہ عام طور پر دو دو جر نیل بھیجا کرتے تھے۔ نیز یاد رکھنا چا ہیےکہ
حبشہ میں دو قسم کی قومیں بستی ہیں ایک کالے رنگ کی اور ایک سفید رنگ کی شا ہی
خاندان سفید رنگ کی نسل میں سے اور معلوم ہوتا ہے کہ ابراہہ بن الصباح بھی شاہی
خاندان سے تعلق رکھتا ہوگا۔
یہ
لشکر یمن پہنچا اور یمن کو اور یمنیوں کو تا خت وتاراج کردیا ذونواس بھاگ کھڑا ہوا
اور اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا اور دریا کی گہرائی میں پہنچ کر لقمہ اجل ہوگیا۔
اریاط نے یمن میں داخل ہو کر اس پر قبضہ کر لیا اور اس کا خود مختاربادشاہ بن گیا
اور چند سال تک بےکھٹکے یمن میں اپنی سلطنت کا ڈنکا بجایا۔
اس
کے بعد ابرہتہ الاشرم اور اریاط کے مابین منازعت و مخالفت ہوگئی اس وجہ سے کچھ
حبشی ابرہہ کی طرف ہوگئےاور کچھ اریاط کے طرف داربن گئے پھر مقابلہ کیلئے میدان
جنگ میں آئے ابرہہ نے اریاط کو کہلابھیجاکہ میں اس طرح سے فوجوں کا مقابلہ کرواکر
انہیں ہلاک کروانا نہیں چا ہتا نیز لڑائی تو ہماری آپس میں ہے ہم قوم کو کیوں
مروائیں اگر ہم نے اسی طرح لڑائی کی تو یمن میں نجاشی کی حکومت با لکل جاتی رہے گی
چنا نچہ لڑائی کو ملتوی کیا اور یہ فیصلہ کیا ہم دونوں ایک دوسرے سے لڑیں جو جیت
جائے اور دوسرے کو قتل کر دے وہ حکومت کرے ۔چنانچہ اس فیصلہ کے مطا بق وہ دونوں
آپس میں لڑنے کیلئے نکلے اور دونوں ایک دوسرے کے سا منے آگئے، اریاط نے چا بک دستی
سے آگے بڑھ کر ابر ہہ پر کاری وار کیا۔
لیکن اُس وقت اس کا ایک غلام عتورہ جو اس
سے عشق رکھتا تھا بغیر کسی کو بتا ئے ایک پتھر کے پیچھے چھپ گیا جب اس نے دیکھا اس
کا آقا گر گیا ہے تو اس کی محبت نے جوش مارا اور وہ اپنے آقا کی مدد کیلئے آگے
بڑھا ۔ اِدھر اریاط ابر ہہ کی طرف بڑھا کہ اسے تلوار سے مارڈالے اور اُدھر اچانک پیچھے سے ابر ہہ کے غلام نے اریاط پر
حملہ کر دیا اور خنجرسے اُسے مارڈالا اس طرح جو فا تح تھا وہ مر گیا اور متقوح
زندہ رہا۔ چند دنوں کے بعد ابر ہہ کے زخم اچھےہو گئے اور ساری حکومت اُسکے قبضہ
میں آگئی۔ اور اس طرح ابر ہہ یمن کا واحد بادشاہ بن گیا۔
جب
نجا شی کو یہ خبر پہنچی تو اس پر یہ بات بہت گراں گزری کہ تفرقہ پیدا ہوا اور ایک جرنیل نے دوسرے جرنیل کے خلاف حملہ کیا اور
اسے مار دیا۔ نجا شی فطرتا بہت شریف آدمی تھا بلکہ خود ابر ہہ کے متعلق تا ریخی
شہادتوں سے یہ امر ثابت ہے کہ وہ بھی حلیم طبع تھا اور اس نے مکہ کے خلاف جو
کاروائیاں کیں وہ محض پو لٹیکل وجوہات کی بناپر تھیں بہر حال نجاشی چونکہ شریف بادشاہ
تھا اسے خبر ملنے پر بہت رنج ہوا کہ میرے جرنیل آپس میں لڑے اور ان میں سے ، ایک
نے دوسرے کو مار دیا چنانچہ اُس نے ناراض ہوکر قسم کھائی کہ میں مقتول کا انتقال لینے کیلئے ابرہہ کی پیشانی کے
بال کھینچونگا اور اس کے ملک کو اپنے پاؤں تلے روندونگا۔اور یہ پرانے زمانے میں
طریق رائج تھا کہ جب کسی شخص کو ذلیل کرنا مد نظر ہوتا تھا تو اسکے ماتھے کے بال
پکڑ کر کھینچاجاتا۔نجاشی نے بھی قسم کھائی کہ میں ابرہہ کو ذلیل کرنے کیلئے اس کی
پیشانی کے بال مونڈ دونگا اور اس کے ملک کو اپنے پاؤں تلے روندونگا اور یہ بھی کہ
اسے دنیا کی نگاہ میں ذلیل اور رسوا کرونگا نجاشی نے اپنے دربار میں یہ بات کہی تو
ابر ہہ کے کسی دوست نے فورا یہ بات ابر ہہ تک پہنچا دی کہ اس طرح بادشاہ نے قسم
کھا ئی ہے کہ میں ابر ہہ کی پیشانی کے بال کھنچونگا اور یمن کا ملک اپنے پاؤں تلے
روندونگا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نجا شی اس واقعہ کی وجہ سے یمن پر حملہ کریگا اور
آپکو گورنری سے برطرف کردے گا۔
ابرہہ
بہت ہو شیار آدمی تھا جب اسے یہ خبر پہنچی تو اس نے نائی بلوایا اور اپنی پیشانی
کے بال منڈوا دئیے اسی طرح ایک بوری لی اور اسے یمن کی مٹی سے بھر دیا۔ اس کے بعد
اُس نے یہ دونوں چیزیں ایک آدمی کے ہاتھ نجاشی کے پاس بجھوادیں اور ساتھ ہی معافی کا
ایک خط لکھا اور معذرت کی اِن اِن حالات میں یہ واقعہ ہوا ہے اگر قصور ہے تو ہم
دونوں کا مشترکہ ہے لیکن بہر حال جو کچھ ہوا ہے کسی دھوکے کے ما تحت نہیں ہوا۔
ہمارا فیصلہ یہی تھا کہ ہم میں سے جو شخص دوسرے کو مارے گا وہ یمن کا حاکم بن جائے
گا اگر میں ماراجاتاتو وہ بادشاہ بن جاتا مگر چونکہ لڑائی میں وہ مارا گیا اس لئے اس فیصلہ کے مطا بق میں ہی یمن
کا حاکم بنا اس میں کسی فریب یا دھوکے بازی کا دخل نہیں اور نہ اچانک کسی پر حملہ
ہوا ہے بلکہ سوچی سمجھی ہوئی تدبیر اور با ہمی فیصلہ کے مطا بق ہم نے آپس میں یہ
لڑائی کی تھی اس کے ساتھ ہی اس نے لکھا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ بادشاہ سلامت نے
قسم کھائی ہے کہ وہ میری پیشانی کے بال کھینچوائیں گے۔ میں اس قسم کو پورا کرنے
کیلئے اپنی پیشانی کے بال مونڈ کر حضور کی
خدمت میں بھجوارہا ہوں اسی طرح مجھے یہ بھی اطلاع ہے کہ حضور نے قسم کھائی ہے کہ
ملک کو اپنے پاؤں تلے روندونگا اس قسم کو پورا کرنے کیلئے میں یمن کی مٹی ایک بوری میں بھر کر بھجوارہا ہوں۔ آپ
اس کو پاؤں تلے روندیں تو آپکی قسم پورے ہوجائے گی۔ باقی جہا ں تک میری ذات کا
تعلق ہے میں آپ کا مطیع اور فرمانبردار ہوں اور مجھے آپکی غلامی پر فخر ہے۔
اس کا یہ طریق کہ اس نے اپنے پیشانی کے بال
مونڈکر بھجوائے اور یمن کی مٹی ایک بوری میں بھر کر اس لئے پیش کی کہ بادشاہ اس کو
اپنے پاؤں تلے روندے اوراپنی قسم پوری کرے نجاشی کو بہت پسندآیا اور اس نے لکھا کہ
ہم تمہیں معاف کرتے ہیں۔ اور تمہیں اپنی
طرف سے یمن کا گورنر مقرر کرتے ہیں جب ابر ہہ کو یہ خبر پہنچی تو اس نے اس خوشی
میں کہ بادشاہ نے مجھے معاف کر دیا ہے اور میری جان بخشش کی ہے فیصلہ کیا کہ میں
یمن میں ایک بڑا بھاری گرجابنواؤں گا اتنا بڑا کہ جس کی مثال ان علاقوں میں نہ پائی
جائے۔
ایک
روایت یہ بھی ہے کہ موسم حج کے دنوں میں ابرہہ نے دیکھا کہ لوگ حج بیت اللہ کا
سامان کررہے ہیں اس نے پوچھایہ لوگ کہاں جاتے ہیں جواب ملاکہ حج بیت اللہ کیلئے
مکہ جاتے ہیں پھر پوچھا وہ یعنی بیت اللہ کسی چیز سے بنا اس پر جواب ملا کہ پتھر
سے بنا ہے پھر پوچھا کہ اس کی پوشش کیا ہے؟ کہ گیا، یہاں سے جو دھاری دار کپڑے جاتے ہیں وہی اس کی
پوشش کے کام آتے ہیں
تو
ابرہہ نے کہا:
مسیح
کی قسم تمہارے لئے اس سے اچھا گھر تعمیر کروں گا۔
گرجا/نقلی کعبہ کی تعمیر :-
چنانچہ
جب بادشاہ کی طرف سے اسے گورنری پر فائز ہونے کے آرڈرملے اور ساتھ ہی یہ بھی اطلاع
آگئی کہ ہم تمہیں معاف کرتے ہیں تو ابرہہ نے بادشاہ کو شکریہ کی ایک چھٹی لکھی جس
میں یہ تحریر کیا کہ آپ نے مجھ پر جو یہ مہربانی کی ہے کہ مجھے یمن کا گورنر مقرر
کر دیا ہے اور میرے قصور سے درگزر فرمایاہے میں نے اس خوشی میں آپکے اس احسان کا
شکریہ ادا کرنے کیلئے یہ منت مانی ہے کہ میں یمن میں ایک بہت بڑا گرجابنواؤنگا جس
کی مثال اور ممالک میں نہ پائی جائے۔چنانچہ اس منت کو پورا کرنے کیلئے اس نے دور
دور سے انجینئر بلوائے۔ اچھی لکڑی، اچھا مٹیریل اور اچھے رنگ ساز مہیا کئے اور ایک
بہت بڑا گرجابنوایا۔
ابرہہ
نے اہل یمن کیلئے سفید و سرخ وزردوسیاہ پتھروں کا ایک گھر بنایا جو سونے چاندی سے
مجلیٰ اور جواہرسے مرصّع تھا۔ اس میں کئی دروازے تھے جن میں سونے کے پتھر اور زریں
گل میخیں جڑی تھیں اور بیچ بیچ میں جواہر تھے اس مکان میں ایک بڑا سا یا قوت احمر
لگا ہوا تھا۔ پردے بڑے تھے۔عود مندلی یعنی مقام مندل کا جو خوشبویات کیلئے مشہور
تھا وہاں لوبان، اگر عود سلگاتے رہتے تھے۔ دیواروں پر اس قدر مشک ملایا جاتا تھا
کہ سیاہ ہو جاتیں حتیٰ کہ جواہر بھی نظرنہ آتے ۔
ابرہہ
نے جب یہ دیکھا کہ تمام عرب لوگ حج بیت اللہ کیلئے مکہ مکرمہ جاتے ہیں خانہ کعبہ
کا طواف کرتے ہیں تو اس نے یہ چاہا کہ عیسائی مذہب کے نام پر ایک عالی شان عمارت
بناؤں جو نہایت مکلّف اور مرصع ہو،تاکہ عرب کے لوگ سادہ کعبہ کو چھوڑ کر اسی مصنوعی
پرتکلف کعبہ کا طواف کرنے لگیں۔ چنانچہ یمن کے دارالسلطنت مقام صنعاء میں ایک
نہایت خوبصورت گرجابنایا۔
گرجا کانام اور وجہ تسمیہ :-
یہ
گرجا اتنا بلند تھا کہ اس کو دیکھتے وقت انسان کی ٹوپی گرجاتی تھی عربی میں کلاہ
کو قلنوہ کہتے ہیں۔ اس لئے گرجے کانام عربوں نے قلیں رکھ دیا یعنی وہ گرجا جس کے
دیکھنے سے ٹو پی گر جاتی ہے۔
جب
گرجا بن گیا تو اس کے بعداُس نے صرف اس گرجا کی تعمیر پر ہی کفایت نہیں کی بلکہ یہ
بھی کوشش شروع کردی کہ عرب خانہ کعبہ کوچھوڑ کر قلیں کا حج کریں اور اسی کو اپنا
مرکز اور مرجع قراردےدیں۔
ابرہہ کی خانہ کعبہ کے خلاف پولیٹکل چال:-
اس
زمانے میں تینوں قوموں میں یعنی یہودی، عیسائی اور عربوں میں بھی یہ احساس پیدا
ہوناشروع ہوگیا تھا کہ ایک موعود نبی آنے والا ہے پس یہودی مثیلِ موسیٰ کے منتظر
تھے۔ عیسائی سمجھتے تھے کہ فارقلیط آنے والا ہےیا وہ نبی جس کی خبر دی گئی ،جبکہ
عرب دعوۃابراہیم کے تحت منتظر تھے کہ حضرت ابراہیمؑ نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ مکہ
میں ایک نبی معبوث ہوگا۔ غرض ہرقوم بڑے جوش سے اس امید کا اظہار کرتی کہ ہمارانبی
آئےگا تو وہ ہمارے دشمنوں سے بدلہ لے گا۔
چنانچہ ابرہہ چونکہ عیسائی تھا اور جب اس نے محسوس کیا
کہ عرب میں یہ احساس بڑھ رہاہے تو اس نے چاہا کہ اپنے گرجا سے یہ کام لوں کہ عرب
کے خانہ کعبہ کی عزت کو گرادوں اور اہل عرب کی توجہ اپنے گرجا کی طرف پھرادوں اس
کے 2 فائدےہونگے۔
ایک تو یہ عیسائیت پھیلے گی۔
دوسرے عربوں کا اتحاد ٹوٹ جائے گا کیونکہ خانہ کعبہ عرب میں
اتحاد کا ذریعہ تھا اور ڈرتھا کہ اگر عرب میں کوئی مدعی کھڑا ہوگیا تو وہ اور عرب
اور متحد ہوجائیں اور عرب سے عیسائی حکومت تباہ ہوجائےگی۔ کیونکہ عرب میں عیسائی
حکومت ایک تو یمن میں تھی اور ایک مدینہ سے اوپر یعنی شمالی عرب کا بہت سا حصہ روم کے بادشاہ نے فتح کیاہواتھا اور
وہاں اس کی حکومت قائم تھی۔ گویا فلسطین سے لیکر مدینہ سے ڈیڑھ دوسومیل اُوپر تک
تمام علاقہ عیسائی حکومتوں کے پاس تھا اور یہی عرب کے متمدن علاقے تھے یا یمن
متمدن علاقہ تھا جس میں غلہ بھی پایا جاتا تھا۔معادن بھی پائے جاتےتھےاس کی تجارت
بھی بڑی بھاری تھی اور یا شمالی علاقے متمدن تھے ان کی ایران کے ساتھ بھی تجارتیں
تھیں اور روم کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات تھے۔ ان تمام متمدن علاقوں پر عیسائیوں نے
قبضہ کر رکھا تھا۔
پس
یمن میں ابر ہہ نے ایسا صرف اس لئے کیا کہ وہ خانہ کعبہ کی حرمت کو گرا دے۔ کیونکہ
اس نے دیکھا کہ اگر یہ دو مل گئیں۔
1)
خانہ کعبہ کی حرمت اورنبی آگیا تو لازما عرب حکومت قائم ہو
جائے گی اور ہمارا رہنا مشکل ہوجائے گا چنانچہ اس احساس کے ماتحت اس نےیہ اعلان کر
دیا۔ جو ایک پولیٹکل چال تھی۔ نیز وہ
تجارت پر بھی مکمل قبضہ کرنا چاہتا تھا۔
اس
کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل عرب میں جو سیاسی ودماغی اور مذہبی لوگ تھے اُن میں قدرتا
جوش پیدا ہوا اور احساس ہوا کہ خانہ کعبہ کی ہتک کی جارہی ہےابن کثیر کے مطابق
عدنانیہ اور قحطانیہ عرب کو یہ بہت برا لگا اور خصوصا قریش میں جوش زیادہ پھیل گیا
۔ جس وقت یہ خبر لوگوں میں عام طور پر پھیل گئی۔
ابرہہ کے گرجا (نقلی کعبہ) کا حشر:-
جبکہ
اہل عرب جو نجاشی کی رعیت تھے ان کو یہ حال معلوم ہوا تو ایک شخص جو قبیلہ فقیم بن
عدی بن عامر بن ثعلیہ بن حرث بن مالک بن کنانہ بن خزیمۃ بن مدرکہ بن الیاس بن مغر
کی اولاد میں سے تھا بڑا خفا ہوا۔اور وہ ایک سردار تھا جس کا نام ابوثمامہ بن عوف
تھا اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا اور کسی بہانے سے اُس نے گرجا میں سونے کی اجازت
حاصل کی۔
رات
کو وہاں سویا تو جیسے اوباش لوگوں کا طریق ہوتا ہےاسےایک حرکت سوجھی جواچھی نہ تھی
مگر بہر حال جوکچھ ہوا خداتعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ہوا۔ اُس نے گرجا میں عین عبادت
گاہ کے اندر جاکر پاخانہ کردیا اور پھر کہیں اِدھر اُدھر بھاگ گیا۔ صبح جب نوکر
صفائی کرنے کیلئے اندر گیا تو اُس نے دیکھا کہ عبادت گاہ میں پاخانہ پڑا ہواہے تو
اس نے افسروں کو اطلاع دی اور افسروں نے گورنرکو لکھا کہ اِس اِس طرح ہمارے مقدس
مقام میں کوئی شخص پاخانہ کر گیا ہے اور غالبا پاخانہ کرنے والا عرب تھا کیونکہ
اسی نے رات کو یہاں سونے کی ہم سے اجازت طلب کی تھی اور اب صبح سےوہ غائب ہے۔ اُسے یہ بھی بتایا گیا کہ یہ قریش کاکام ہے
جن کو اس بات پر غصہ ہے کہ انکی عبادت گاہ کے مقابل پر آپ نے یہ عبادت گاہ بنائی
گئی ہے۔ ابرہہ کو جب اس واقعہ کا علم ہوا تو اُسے سخت طیش آیا اور اس کے دل میں
مکہ کے خلاف غصہ پیداہوا۔
ابر
ہہ نے اسی وقت قسم کھالی کہ مکہ پہنچوں گا اوربیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا۔
ایک
روایت مقاتل بن سلیمان کی بھی ہے کہ قریش کے کچھ نوجوان صنعاء گئے جہاں یہ گرجاتھا
اور وہاں کسی کام کیلئے آگ جلائی اتفاقا اس دن ہوا تیز چل تھی آگ کی کچھ چنگاریاں
اصل عمارت کی طرف اڑکر پہنچ گئیں اور اس میں آنا فانا آگ لگ گئی ۔تاریخ سے یہ بھی
پتہ لگتاہے کہ اُس گرجا پر روغن کا بہت زیادہ کام کیا گیا تھاچونکہ روغن کو آگ بہت
جلدی لگ جاتی ہے اس لئے ممکن ہے اس آگ میں زیادہ تر اس روغن کا بھی دخل ہو جو اُس
پر کیا گیاتھا بہر حال یہ بھی خداتعالیٰ کی طرف سے ایک بات پیدا ہوئی اور اس گرجے
کا ایک حصہ جل گیا۔
بعض
روایات میں تو یہ آتا ہے کہ اس وقت ہوا بھی بہت تیز تھی سارا گرجا جل گیا اور منہ
کے بل زمین پر گرگیا۔ جبکہ ایک جگہ یہ بھی آتا ہے کہ لوگوں کو اس مکان کے حج کرنے
ابرہہ نے حکم دیا۔ اکثر قبائل عرب کئی سال تک اس کا حج کرتے رہےعبادت وخدا پرستی
وزہد پارسائی کیلئے متعدداشخاص اس میں معتکف بھی تھے اور مناسک ادا کرتے تھے۔
نیز
ایک واقعہ یہ بھی ملتا ہےکہ نفیل الخشمعی نے نیت کررکھی تھی کہ اس عبادت خانہ کے
متعلق کوئی مکروہ حرکت کرے گا اس میں
زمانہ گزرگیا آخر ایک شب میں جب اس نے کسی کو جنبش کرتے نہ دیکھا تو اُٹھ
کر نجاست و غلاظت اُٹھالایا صومعہ کے قبیلے کو اس سے آلودہ کردیا اور بہت سی گندگی
جمع کرکے اس میں ڈال دی۔
غرض
تمام تر واقعات کے تناظر میں: اول تو یہ کہ سارا گرجا نہیں جلا بلکہ اس کا صرف ایک
حصہ جلا۔ دوم: یہ کہ گرجے کو آگ اتفاقا لگی نہ کہ لگائی گئی۔ سوم: کہ خدا کی حکمت
تھی اور خدا بھی چاہتا تھا کہ خانہ کعبہ کی حفاظت کا آغاز سے ہی انتظام کیا جائے
پس ابر ہہ کے گرجا قلیس کا بننا، اس کاناکام ہونا ہی خانہ کعبہ کی عظمت کا نشان ہے
۔نیز اس طرح کے واقعات سے بادشاہ کے دل میں احساس ہوا یہ جو کچھ ہوا شرارتا ہوا ہے اور اس کے دل میں
مکہ کا بغض اور بھی ترقی کر گیا۔ اس وقت ابرہہ نے اپنے آدمی بھیج کر عرب کے بعض
اچھے اچھے رؤسا کو جمع کرنا شروع کیا تاکہ بغیر چڑھائی کرنےکے عربوں کو خانہ کعبہ
سے ہٹا کر قلیس کی طرف مائل کیاجاسکے۔ چنانچہ محمد بن خزاعی اور قیس بن خزاعی جو
قبیلہ خزاعہ کے بڑے سردار تھے ابرہہ کے پاس آئے ابرہہ نے ان سے انعام و کرام کے
وعدے کئے اور ان سے کہا کہ تم عرب میں پھرو اور لوگوں کو توجہ دلاؤ کہ وہ اپنا
مرکزی نقطہ صنعاء کے گرجاکو بنالیں اور خانہ کعبہ کی طرف سے توجہ ہٹا لیں حج کیلئے
آئندہ قلیس ہی آیا کریں۔ چنانچہ بادشاہ سے ہداتیں لیکر انہوں نے سیدھا مکہ کی طرف
رُخ کیا یہ شمال کی طرف نکل گئے ان کا طریق تھا کہ تمام لوگوں کو جمع کرتے اور پھر
انہیں نصیحت کرتےکہ خانہ کعبہ کوچھوڑواور صنعاءکے گرجا کی طرف جایا کرو اگر ایسا
کروگےتوحاکم قوم سے تمہارے تعلقات ہوجائنیگے اور تم بہت جلدترقی کر جاؤگے جس وقت
یہ دورہ کرتے ہوئے بنوکنانہ کے علاقہ میں پہنچے اور اہل تہامہ یعنی مکہ اور اس کے
نواحی میں رہنے والوں کو اطلاع ہوئی کہ 2 عرب سردار ابرہہ نے اس پراپیگنڈے کیلئے
بجھوائے ہیں کہ اہل عرب خانہ کعبہ کو چھوڑ کر صنعاء کو گرجاکو اپنا مرکزبنائیں تو
انہوں نے حذیل قبیلہ کے سردار عروہ بن حیاض کو بلوایا اور اُسے کہا تم جاؤ اور
صحیح صحیح حالات معلوم کرکےآؤآیاواقعہ اطلاع درست ہےیانہیں۔
وہ
لوگ بے شک مشرک تھے اور بتوں کی پرستش کرتے تھے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ
انہیں خانہ کعبہ سے عقیدت تھی۔ پھر عقیدت کے علاوہ مکہ کی ساری آمدن ہی خانہ کعبہ پرتھی
اگر خانہ کعبہ کی طرف سےلوگوں کی توجہ ہٹ جاتی توصرف اُن کے مذہبی احساسات کو ہی
صدمہ نہ پہنچتا بلکہ ان کی سیاسی برتری کو بھی سخت صدمہ پہنچتا۔ چنانچہ حذیل کا
سردار عروہ بن حیاض سفر کرتے کرتے وہاں پہنچا اور اس نے دیکھا کہ واقعہ میں محمد
بن خزاعی خانہ کعبہ کے خلاف پر اپیگنڈہ کررہاہے اس نے سمجھا کہ میں نے اب قوم سے
کیا مشورہ کرناہے جھٹ کمان سنبھلی تیررکھااور ایسا نشانہ لگایا کہ محمد بن خزاعی
کے سینہ میں تیر لگا اور وہ اسی وقت مرگیا۔ یہ دیکھ کر اس کا بھائی قیس بن خزاعی
وہاں سے بھاگا اور اس نے ابرہہ کو خبر دی کہ
آپکا اپلحی محمد بن خزاعی جو تمام علاقہ کا دورہ کرتا پھرتا تھا اس کو مکہ والوں
نے مارڈالا ہے۔ یہ ایک اور واقعہ پیش آگیا جس پر ابرہہ کو غصہ آگیا اور اس نے
سمجھا کہ جب تک خانہ کعبہ موجودہے میرا گرجا
لوگوں میں مقبول نہیں ہوسکتا۔
چنانچہ
نجاشی کو ابرہہ نے لکھ کے اس واقعہ کی اطلاع اور اس سے درخواست کی اپنا ہاتھی جس
کا نام عمود تھا بھیج دے یہ ہاتھی ایسا تھا کہ عظمت وجسامت وقوت کے لحاظ سے روئے زمین
پر کسی نے اس کی نظیر نہ دیکھی تھی نجاشی نے اسے ابر ہہ کے پاس بھیج دیا ۔ ابرہہ
نے بہت بڑا لشکر ساتھ لیکر مکہ پر چڑھائی کی تا کہ کوئی روک نہ سکے اور اپنے ساتھ
ایک بڑا اونچا اور موٹا ہاتھی لیا جسے عمود کہا جاتا تھا اس جیسا ہاتھی اور کوئی
نہ تھا۔ شاہِ حبشہ نے یہ ہاتھی اس کے پاس اسی غرض سے بھیجا تھا، آٹھ یا بارہ ہاتھی
اور بھی ساتھ تھے۔
جبکہ
تارٰیخ میں کہیں ذکر نہیں کہ نجاشی کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی تھی بہرحال یہ
ہاتھی ا برہہ نے مکہ والوں پررعب ڈالنے کیلئے اپنے ساتھ لئے ،اور غرض یہ بھی تھی
کہ بجائے اس کے کہ خانہ کعبہ کی چاروں دیواروں کو آدمی گرائیں زنجیریں باندھ کر
خانہ کعبہ کی چاروں دیواروں کو دو، دو۔
تین، تین ہاتھیوں سے باندھ دیا جائیگا اور ایک ہی جھٹکے میں اس کی چاروں دیواروں
کو منہدم کردیاجائےگا۔ اس طرح عربوں پربہت زیادہ
رعب پڑےگا اور خانہ کعبہ کا نعوذباللہ چند منٹ میں صفایا ہوجائےگا۔
"ابرہہ کی مکہ پر چڑھائی"
ابرہہ کا پہلے لشکر سے ٹکراؤ:- (ابرہہ کے
مقابل ذونفرحمیری)
جب
ابر ہہ نے لشکر جمع کرناشروع کیا تم اللہ تعالیٰ نے اس معجزے کو خاص اہمیت دینے
کیلئے لوگوں کی توجہ اس کی طرف پھرادی اور عربوںمیں مقابلہ کا ایک عام جوش پیدا
ہوگیا۔ پہلے یمن کے لوگوں میں جوش پیدا ہوا اور پھر انہیں دیکھ کر باقی عرب میں
بھی جوش پیدا ہو گیا۔ حمیری خاندان کے جو جرنیل زندہ تھے انہوں نے اس موقع سے
فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی قیادت قائم کرنے اور دوبارہ بادشاہت حاصل کرنے کیلئے سارے
عرب میں جوش پھیلایا کہ تم نے ہمارا ساتھ نہیں دیا تھا اب تم نے دیکھا کہ ابرہہ
تمہاری قوم کو برباد کرنے اور خانہ کعبہ کو گرانے کیلئے عرب پر حملہ کر رہا ہے۔ اب
بھی موقع ہے اگر تم اپنی عزت کو بر قرار رکھنا چاہتے ہو۔ چنانچہ ذونفرحمیری اس
تحریک کا لیڈر بنا۔ یہ یمن کا باشندہ اور رئیس اور سابق شاہی خاندان میں سے تھا اس
نے خانہ کعبہ کی حفاظت کے نام سے یمن میں ایک عام جوش پیدا کردیا اور یمن کے تمام
عرب قبائل اس کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے جونہی ابرہہ صنعاء سے نکلا یہ لشکر اس کا راستہ
روک کر کھڑا ہو گیا اور دونوں لشکروں کی آپس میں مڈبھیڑ ہو گئی ان لوگوں میں بے شک
مذہبی جوش تھا قومی حمیت تھی ۔ مگر یمن کی حکومت رومی حکومت کا ایک حصہ تھی اور اس
کی فوج باقاعدہ تربیت یافتہ تھی بے شک ان میں بھی نظام تھا مگر ان کا نظام اور ابرہہ کی باقاعدہ فوج کا نظام ایسا ہی
تھا کہ وہ ساری کی ساری فوج تنخواہ دار تھی ان کا مقابلہ کس طرح ہو سکتا تھا
چنانچہ باوجود اس کے یہ لوگ بڑی بے جگری سے لڑے اور انہوں نے اپنے مذہب کو بچانے
کی کوشش کی مگر آخر شکست کھائی اور ابرہہ نے ذونفر کو قید کرلیا۔ ابرہہ ذونفر کو
قتل کرنےلگا تو اس نے کہا میرے قتل میں تو اتنا فائدہ نہ ہوگا اگر مجھے ساتھ رکھا جائے تو زیادہ فائدہ ہوگا۔
کیونکہ ذونفر کو یقین تھا کہ ابھی عرب کے اور کئی قبائل ابرہہ سے لڑنے کیلئے آئیں
گے اور ابرہہ کیلئے مشکلات پیدا ہونگی۔ اگر میں اس کے ساتھ رہا تو اس بارہ میں کچھ
کام کرسکونگا اور بعد میں اس سے نفع اٹھاؤنگا چنانچہ اس کو قید کر لیا گیا۔
ابرہہ کا دوسرے لشکر سے ٹکراؤ:-(مد مقابل:- نفیل بن حبیب الخشعمی)
اس
کے بعد ابر ہہ کا لشکر شمال کی طرف اور بڑھا اور بڑھتے بڑھتے خشعم قبیلہ کی زمین
پر پہنچا۔ طائف اور یمن کے درمیان اس قبیلہ کا علاقہ ہے وہاں ایک دوسرا عرب لشکر
اس کے مقابلہ کیلئے تیار تھا۔ جو نفیل بن حبیب الخشعمی کی زیر قیادت تھا اس لشکر
میں قبیلہ خشعم کے بھی آدمی تھے اور شہدان اور ناعس کے بھی لوگ تھے شہدان اور ناعس
بعض لوگوں کے نزدیک خشعم کا ہی حصہ میں اور بعض کے نزدیک یہ علیحدہ قبائل تھے
انہوں نے بھی مل کر خانہ کعبہ کی حفاظت کیلئے ابرہہ کا مقابلہ کیا مگر پھر وہی بات
ہو گئی۔ یہ لوگ قبائلی تھے جو چھٹے مہینے یا سال میں ایک دفعہ لڑنے کیلئے چلے جاتے
تھے اور وہ باقاعدہ منظم فوج تھی جو چھاؤنیوں میں تر بیت حاصل کرتی تھی اور روزانہ
فوجی مشقیں او ر ورزشیں کرتی تھیں اس کا اور ان کا مقابلہ ہی کہا ہو سکتا تھا یہ
لوگ بڑی بے جگری سے لڑے اور ان میں سے بہت سے مارے گئے اور بہت سے زخمی ہو ئے مگر
آخر انہوں نے بھی شکست کھائی اور نفیل بن حبیب الخشعمی قید کر لیا گیا۔ اسے بھی
ابر ہہ نے قتل کرنا چاہا مگر جب نفیل نے کہا کہ مجھے زندہ رکھنے سے شہدان اور ناعس
کے قبیلوں پر اس کا اثر بڑھ جائے گا تو اس نے اسے زندہ رکھا اور راستہ دکھانے کیلئے
اپنے ساتھ لے لیا۔
ابرہہ اور طائف کا سردار:- (مسعود بن معب ثقیف قوم سے )
ابرہہ
کا لشکر آگے بڑھتے ہوئے جب طائف کے قریب پہنچا تو طائف کا سردار مسعود بن معب جو
ثقیف قوم سے تھا ثقیف قوم کے بڑے بڑے لوگوں کو لے کر بادشاہ کے استقبال کو نکلا اس
نے آگے بڑھ بادشاہ سے کہا کہ اے بادشاہ ہم کو آپ سے کوئی اختلاف نہیں عجیب بات یہ
ہے کہ طائف والے بھی خانہ کعبہ کو مانتے تھے بلکہ حج بھی کرتے تھے مگر پھر بھی لات
بت کی وجہ سے انہیں خانہ کعبہ سے رقابت تھی اور وہ محسوس کرتے تھے کہ خانہ کعبہ کی
موجودگی میں ہمارا بت خانہ لوگوں کا مرجع نہیں بن سکتا اس کی کچھ یہ بھی وجہ تھی
کہ طائف کے لوگ بڑے مالدار تھے اور ان کی زمین بھی بڑی اعلیٰ درجہ کی تھی۔ ابر ہہ
کے آنے سے ان کی رقابت جوش میں آگئی اور ابرہہ سے سردار نے کہا کہ ہم کو آپ سے
کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہمیں خانہ کعبہ سے کوئی ہمدردی ہے اور ہم تو آپ کے مطیع
اور فرمانبردار ہیں ہم آپ کے ساتھ ایک آدمی کر دیتے ہیں جو آپ کو سیدھا مکہ تک لے
جائے۔ چنانچہ اس نے ابو رغال نامی شخص کو راستہ دکھانے کیلئے ابرہہ کے ساتھ روانہ
کیا اوروہ مخمس نامی مقام پر مر گیا۔ اور تمام تا ریخیں بھی متفق ہیں کہ ابر ہہ کا
لشکر مخمس نامی مقام جو کہ مکہ سے 15، 16
میل کے فا صلے پر ہے تک ہی پہنچا۔
حضرت عبدالمطلب کی ابرہہ سے ملاقات:-
جب
مخمس مقام پر ابرہہ کا لشکر پہنچا تو اس نے اسودبن مقصود حبشی کو روانہ کیا کہ وہ
کچھ فوج اپنے ساتھ لے جائے اور مکہ کا حال معلوم کر کے آئے۔ جب وہ فوج کا ایک دستہ
لیکر مکہ کے قریب پہنچا تو مکہ کے اردگرد بہت سی وادیاں ہیں جن میں جانور چرتے
رہتے تھے اس نے مکہ والوں کے جانور ان وادیوں میں چرتے دیکھے تو معلومات حاصل کرنے
کے بعد واپسی پر ان جانوروں کو بھی ہانک کر اپنے ساتھ لے آیا ان میں حضرت عبدالمطلب
کے بھی دوسو اونٹ تھے جب یہ خبر رسانی کیلئے مکہ کے قریب آئے اور انہوں نے حالات
معلوم کئے تو مکہ والوں نے سمجھ لیا کہ اب حملہ سر پر پہنچ گیا ہے۔
چنانچہ
انہوں نے ایک اجتماع کیا جس میں کنانہ حذیل اور قریش کے بڑے بڑے سردار جمع ہوئے
اور انہوں نے غور کرنا شروع کیا کہ ہمیں ابر ہہ کا مقابلہ کرنا چاہیے یا نہیں ۔
پھر اِدھر جبکہ ابرہہ نے حیاطہ یا حناط حمیری کو مکہ میں بھیجا اور کہا مکہ میں
جاکر اس کے سردار سے کہو کہ بادشاہ کہتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ لڑائی کرنے کو نہیں
آیا میرا ارادہ صرف خانہ کعبہ کو گرانا ہے تم اگر ایک طرف ہو جاؤ اور مجھے خانہ
کعبہ کو گرانے دو تو میں خونریزی نہیں کرونگا۔ ابر ہہ نے حناطہ سے یہ بھی کہا کہ
اگر سردار مکہ اس بات کو مان جائے تو اس کو میرے پاس لے آنا۔ چنانچہ
اس کو عبدالمطلب کا بتایا گیا اور اس نے ابرہہ کا پیغام دیا انہوں نے جواب
میں کہا کہ اگر اس کی ہم سے لڑنے کی نیت نہیں تو تمہاری بھی اس سے لڑنے کی نیت
نہیں ۔ باقی یہ گھر جسے ہم مانتے ہیں اس کے متعلق ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ خدا
کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وعدہ کیا ہوا ہے۔
چنانچہ
حضرت عبدالمطلب اپنے بعض رؤسا کے ساتھ مخمس نامی مقام پر اس کے لشکر میں پہنچے اور پتہ لگنے پر ذونفر حمیری
سے ملاقات کی اس نے ہاتھی کے مہاوت انیس کے متعلق بتایا کیونکہ اس زمانہ میں
بادشاہ نوکروں کی بات بہت مانتے تھے اور انیس بادشاہ کا نہ صرف منہ چڑھا نوکر تھا
بلکہ مہاوت عہدہ بھی بڑا بھاری اور ذمہ داری والا ہوتا تھا۔ اور بادشاہ کی جان کی حفا ظت بھی
اس کے ذمہ ہوتی تھی گویا وہ جرنیل یا کرنل
کا عہدہ تھا ذونفر نے انیس کو نیک سفارش کرنے کو کہا۔ اور انیس حضرت عبدالمطلب کو
لیکر ابرہہ کے پاس گیا۔ اور آپ کی صفات بھی بیان کیں۔ حضرت عبدالمطلب بڑے مضبوط،
قوی الجثہ ، لمبے قد والے ، چوڑے چکے جسم والے اور سفید رنگ کے انسان تھے جب آپ خیمہ
دربار میں داخل ہوئے اور ابرہہ نے اپنے سامنےایک نہایت وجیہ خوبصورت، چوڑے چکلےجسم
والا اور یہ مضبوط انسان پایا تو وہ آپ کی شکل اور قدوقامت کو دیکھ کر بہت متا ثر
ہوا اور کھڑا ہوگیا۔ اس نے پہلے تو چاہا
کہ آپ کو اپنے ساتھ ہی تخت پر بٹھا لے مگر یہ خیال کہ اگر میں نے انہیں اپنے ساتھ
تخت پر بٹھالیا تو حبشی قوم ناراض ہوجائےگی کہ شاہی مقام کی بے حرمتی کی گئی
بالآخر خیمہ میں جو قالین بچھا ہواتھا اس پر وہ خود بھی بیٹھ گیا اور حضرت
عبدالمطلب کو بھی اپنے ساتھ بٹھالیا اور ترجمان کے ذریعے کہا کہ :
مجھے
آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے آپ یہ بتائیں کہ آپ کے آنے کی کیاغرض ہے اور آپ مجھ
سے کیا چاہتے ہیں۔ اس پر حضرت عبدالمطلب نے جواب دیاکہ آپ کے آدمی میرے دوسواونٹ
پکڑ کر لائے ہیں وہ مجھے واپس کر دئیے جائیں اس پر ابرہہ نے کہا کہ جب میں نے آپ
کی شکل دیکھی تو میں بہت متا ثر ہوااور میں نے سمجھا کہ آپ بڑے عقلمند لائق اور
تجربہ کار انسان ہیں اس لئے میں آپ سے ملنے کیلئے تخت سے قالین پر آیا مگر آپ کی
بات سن کر تمام اثر جاتارہا میں سمجھتا تھا کہ آپ اپنے مذہبی مقدس اور آباؤاجداد
کے عبادت گاہ کو چھوڑ دینے کی بات کریں گے مگر آپ نے اس کاذکر بھی نہیں کیا اور اپنے اونٹ طلب کئے ۔ پس
مجھے تعجب ہے کہ آپ نے اپنے اونٹوں کا تو ذکر کیا مگر اس گھر کو بھول گئے جس سے
آپ کا اور آباؤاجداد کا دین وابستہ ہے۔ اس
پر حضرت عبدالمطلب نے کہا کہ میں صرف اونٹوں کا مالک ہوں اور یہی بتانے کیلئے
مانگے ہیں کہ اگر خانہ کعبہ بھی کسی کاگھر ہے تو اس کے دل میں اس کا درد ہوگا۔ اگر
ہمارا عقیدہ اس کے متعلق صحیح ہے پس آپ اس پر حملہ کر کے نہیں بچیں گے۔ ابرہہ یہ
جواب سن کر مبہوت سا ہوگیا مگر اس نے کہا کہ اب مجھے اس گھر کو گرانے سے کوئی نہیں
روک سکتا اور حضرت عبدالمطلب کے اونٹ انہیں واپس کر دئیے اور وہ واپس مکہ آگئے۔
ابرہہ کے لشکر یعنی اصحاب الفیل کا
انجام:-
قریش
ابرہہ کی اتنی بڑی فوج سے لڑ کر کعبے کو بچانے کی طاقت نہ رکھتے تھے چنانچہ حضرت
عبدالمطلب نے لوگوں سے کہا کہ اپنے بال بچوں کو لے کر پہاڑوں میں چلے جائیں تاکہ
ان کا قتل عام نہ ہو پھر وہ اور قریش کے چند سردار حرم میں داخل ہوئے اور اللہ کے
حضور دعائیں مانگیں کہ وہ اپنے گھر کی حفاظت فرمائے ۔ ابن ہشام ،سہیلی، اور ابن
جریرنے عبدالمطلب کے جو اشعار نقل کئے ہیں وہ یہ ہیں۔
ترجمہ:
الہیٰ
بندہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما۔
کل
ان کی صلیب اور ان کی تدبیر تیری تدبیر کے مقابلے میں غالب نہ آنے والے
اگر
تو ان کو اور ہمارے قبیلے کو اپنے حال پر چھوڑدینا چاہتا ہے تو جو تو چاہےکر
صلیب
کی آل اور اس کے پر ستاروں کے مقابلہ میں آج اپنی آل کی مدد فرما
اے
میرے رب تیرے سوا میں ان کے مقابلہ میں کسی سے امید نہیں رکھتا اے میرے رب ان سے
اپنے حرم کی حفاظت فرما۔
اس
گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے اپنی بستی کو تباہ کرنے سے ان کو روک۔
یہ
دعائیں کرکے اور قربانی کے 100 اونٹ بیت اللہ کے اردگرد نشان لگا کر چھوڑ دئیے اس
نیت سے کہ اگر یہ بددین آئے اور انہوں نے خدا کے نام کی قربانی کے ان جانوروں کو
چھیڑاتو خدا کا عذاب ان پر اترےگا اور خود بھی پہاڑوں پر چلے گئے۔
دوسری
صبح ابرہہ کا لشکر مکہ کے لئے تیار ہوا اور مکہ کی طرف چلنے کو تیار ہی تھا کہ خاص
ہاتھی عمود نے مکہ کی طرف منہ اٹھاکر چلنے سے انکار کردیا اور وہیں بیٹھ گیا۔
مہاوتیوں نے ہزار جتن کئے مگر خدا نے خاص حکمت کے تحت ہا تھیوں کو جو وہ خانہ کعبہ
کو گرانے کیلئے لائے تھےکو روک لیا فیل بان نے ہزارہا کوششیں کیں مگر ہاتھی نے مکہ کی طرف
چلنے سے انکار کر دیا۔ بطور امتحان اس کا یمن اور پھر شام کی طرف کیا گیا تو وہ
ہاتھی جھٹ سے نہ صرف کھڑا ہوا بلکہ دوڑنے لگا مگر جب پھر مکہ کی طرف منہ کیا جاتا
تو وہ بیٹھ جاتا۔
اور
اس اثناء میں لشکر میں چیچک کی متعدی وباپھوٹ پڑی ہاتھی پہلے ہی نہیں چل رہے تھے
تو پہلے دن لشکر رُک گیا اور پھر دوسرے دن چیچک اس تیزی سے نہ صرف پھیلی بلکہ اس
سے ہلاکتیں ہوئیں کہ عذاب الٰہی بن کر لشکر میں پھیلی اور لشکر میں کھلبلی مچ گئی۔
اور چونکہ عرب میں یہ وبا پہلی مرتبہ
پھوٹی تھی اس لئے انہوں نے بھی اس کو عذاب الٰہی ہی سمجھا اور تھا اور بالآخر سارے
کا سارا لشکر اسی وبا کی بھینٹ چڑھ گیا۔
جبکہ
ابرہہ بادشاہ کا یہ حال تھا کہ وہ بھی اس مرض سے نہ بچا اور عذاب الٰہی کا شکار
ہوا اس کے جسم پر چیچک کے دانے نکل آئے چنے یا مسور کے دانے کے برابر کے۔ اور ان
میں پیپ بھی پڑگئی اور ابرہہ کا بھی صنعاء تک پہنچتے پہنچتے ہی حال ہوا کہ چیچک کی
وجہ سے اس کا جسم بھی پیپ آلود ہوگیا اور اس کا گوشت جھڑنے لگا اور اعضاء کٹ کٹ کر
گرتے تھے۔ نیز اس کے جسم سے پتلا اور گاڑھا ریم اور خون بہنے لگا اور بالآخر اس کی
صرف ہڈیاں اور سرباقی رہ گیا اور اس کا سینہ پھٹ پڑا اور وہ مر گیا۔
جس
سال یہ واقعہ پیش آیا اہل عرب اسے عام الفیل کہتے ہیں۔ اور اسی سال حضرت محمدﷺ کی
ولادت مبارکہ ہوئی گویا یہ واقعہ ارہاص کے طور پر بھی ہے۔ اور ایک معجزہ بھی۔ اور
اس طرح خدا نے اپنے گھر کی حفاظت کی۔
ابرہہ
کے بعد اس کا لڑکا یکسوم یمن کا بادشاہ بنا وہ بھی ہلاک ہوا پھر اس کا بھائی مسروق
بن ابرہہ کو سلطنت ملی ادھر سیف بن ذونفر حمیری نے کسری سے مدد طلب کی اور کسری نے
ایک لشکر جزار کے ساتھ اس کی مدد کی اور اس نے اہل حبشہ کو شکست دی اور یوں ابرہہ
کے خاندان کے ہاتھ سے سلطنت نکل گئی اور پھر قبیلہ حمیر یہاں کا بادشاہ بن گیا۔
عربوں نے اس پر بڑی خوشی منائی۔
ختم شد
کتابیات
1) اطلس القرآن از دکتور
رشوقی ابو خلیل ترجمہ شیخ الحدیث حافظ محمد امین صفحہ 267تا 271
2) تفسیر کبیر جلد
دہم صفحہ 23 تا 50
3) سیرۃ ابن ہشام مؤلفہ
حضرت علامہ ابو محمد عبدالملک بن محمد بن ہشام
صفحہ 43 تا 48
4) تفسیر ابن کثیر اردو
پارہ عم سورۃ فیل صفحہ 596 تا 600
5) طبتعات ابن سعد حصہ
اوّل صفحہ 109 تا 112
6) سیرت مصطفیٰ ؐ از
حضرت علامہ مولانا محمد ادریس صاحب حصہ اوّل
صفحہ 48 تا 50
7) تفسیر احسن البیان
اردو از حافظ صلاح الدین یوسف صفحہ
793

