Nepal flood science - Global warming Himalaya

Nepal flood science - Global warming Himalaya

 نیپال سیلاب (Nepal flood)کی سائنسی وجوہات: کیسکیڈنگ ہیزرڈ اور مائع کنکریٹ کا ہولناک بہاؤ

Nepal flood science, Cascading hazard Nepal, Rock Ice Avalanche Nepal, Global warming Himalaya, Liquid Concrete Flow

 نیپال سیلاب کی سائنسی وجوہات، کیسکیڈنگ ہیزرڈ، گلیشیئر کا گرنا اور گلوبل وارمنگ کے اثرات پر مبنی سائنسی تجزیہ۔

نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں آنے والے اس حالیہ تباہ کن نیپال سیلاب   (Nepal flood) کی سائنسی وجوہات روایتی سیلابوں (جیسے بادل پھٹنے یا شدید برسات) سے بالکل مختلف ہیں۔ سائنسی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں (جیسے ICIMOD اور USGS) کی سیٹلائٹ رپورٹس کے مطابق، یہ ایک "کیسکیڈنگ ہیزرڈ" (Cascading Hazard یعنی ایک کے بعد ایک جڑے واقعات کا سلسلہ) تھا۔

اس تباہی کے پیچھے کام کرنے والے بنیادی سائنسی عوامل درج ذیل ہیں:

1. گلیشیئر اور چٹان کا مشترکہ گرنا (Rock-Ice Avalanche)

سائنسی تجزیے کے مطابق ماؤنٹ لانگ ٹانگ لیرونگ پر 5,200 میٹر کی بلندی سے ایک بہت بڑا گلیشیئر (جس کی چوڑائی تقریباً 2,000 فٹ تھی) چٹان کے ایک بڑے حصے (Bedrock) کے ساتھ ٹوٹ کر نیچے گرا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف برف نہیں تھی، بلکہ یہ چٹان اور گلیشیئر کا ایک مشترکہ لینڈ سلائیڈ تھا جس نے اپنے ساتھ لاکھوں کیوبک میٹر برف، ملبہ اور وزنی پتھر سمیٹ لیے۔

2. زلزلے جیسے جھٹکے (Seismic Signal)

جب یہ لاکھوں ٹن وزنی ملبہ اور برف 7,000 فٹ کی بلندی سے انتہائی تیز رفتاری سے نیچے وادی کی تہہ سے ٹکرایا، تو زمین میں 5.2 شدت کے زلزلے جیسے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے۔ نیپالی حکام نے ابتدائی طور پر اسے زلزلہ سمجھا تھا، لیکن امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے تصدیق کی کہ یہ جھٹکے کسی قدرتی زلزلے کے نہیں بلکہ گلیشیئر کے اتنی بلندی سے گرنے کے شدید اثر (Impact) کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے۔

3. حرارتی توانائی اور پگھلاؤ (Kinetic to Thermal Energy)

سائنسدانوں کے مطابق اتنی بلندی سے گرنے والے ملبے میں زبردست حرکتی توانائی (Kinetic Energy) پیدا ہوئی۔ جب یہ مواد نیچے گرا تو رگڑ اور دباؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی حرارت (Heat) نے گلیشیئر کی برف کو سیکنڈوں میں پگھلا کر پانی میں تبدیل کر دیا۔ اس پانی نے پہاڑی ندیوں (Lhende Khola اور Bhote Koshi) کے راستوں کو عارضی طور پر بلاک کیا اور پھر ایک دم دباؤ ٹوٹنے پر 8 سے 10 میٹر (تقریباً 30 فٹ) اونچی خوفناک سیلابی لہر کی شکل اختیار کر لی۔

4. مائع کنکریٹ جیسا بہاؤ (Liquid Concrete Flow)

چینی ماہرِ ارضیات کے مطابق، یہ نیپال سیلاب   (Nepal flood)عام پانی نہیں تھا بلکہ یہ 50 میٹر فی سیکنڈ (تقریباً 180 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے بہنے والا مٹی، باریک ریت، لکڑی اور پتھروں کا ایک ایسا گاڑھا مکسچر تھا جسے سائنسدان "مائع کنکریٹ" (Liquid Concrete) سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ اس کی کثافت اور رفتار اتنی زیادہ تھی کہ راستے میں آنے والے ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم اور کنکریٹ کے مکانات اس کا دباؤ برداشت نہ کر سکے۔

5. ماحولیاتی تبدیلی اور جغرافیائی ساخت (Tectonics & Climate Change)

برطانوی ماہرین (جیسے پروفیسر سیرل) کے مطابق اس تباہی کے پیچھے دو طویل مدتی سائنسی عمل کام کر رہے ہیں:

جغرافیائی ساخت (Tectonic Movement): ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے زمین کی اندرونی پلیٹوں کے ٹکرانے کی وجہ سے مسلسل اوپر کی طرف اٹھ رہے ہیں، جس سے پہاڑوں کی ڈھلوانیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید عمودی اور خطرناک (Steep) ہوتی جا رہی ہیں اور ان پر موجود گلیشیئرز کا توازن بگڑ رہا ہے۔
گلوبل وارمنگ (درجہ حرارت میں اضافہ): ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہمالیہ کے گلیشیئرز گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ درجہ حرارت بڑھنے سے گلیشیئرز کے نچلے حصے کمزور ہو جاتے ہیں اور وہ پہاڑ کی گرفت چھوڑ کر اچانک پورے کے پورے گر جاتے ہیں۔

پڑھے جانے والے موضوعات: نیپال سیلاب, Nepal flood science, Cascading hazard Nepal, Rock Ice Avalanche Nepal, Global warming Himalaya, Liquid Concrete Flow