متحدہ عرب امارات (UAE) نے اپنی معاشی ترقی، پائیدار خوشحالی اور مقامی افرادی قوت کو بااختیار بنانے کے سفر میں ایک اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ اگست 2026 کے اس موجودہ معاشی سیزن میں اماراتی حکومت اور وزارت برائے انسانی وسائل و اماراتائزیشن (MoHRE) نے ملک کے مشہور و معروف "نافس پروگرام" (Nafis Program) کے حوالے سے اب تک کی سب سے بڑی اور اہم ترین اپڈیٹ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس نئی اپڈیٹ کے تحت نجی شعبے (Private Sector) میں کام کرنے والے اماراتی شہریوں کے لیے مالیاتی امداد کے نئے قواعد و ضوابط (Financial Support Rules) متعارف کرائے گئے ہیں، اور ساتھ ہی کمپنیوں کے لیے اماراتائزیشن کے نئے اہداف (Emiratization Targets) کی تفصیلی وضاحت بھی جاری کر دی گئی ہے۔
نافس پروگرام کا یہ نیا مرحلہ نہ صرف مقامی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع کو تیز تر بنائے گا بلکہ اماراتی معیشت میں نجی اداروں کی شرکت کو بھی ایک نئی بلندی پر لے جائے گا۔ حکومت کی اس انقلابی حکمتِ عملی کا مقصد قومی ٹیلنٹ کو نجی شعبے کی طرف راغب کرنا، تنخواہوں کے خلا کو پر کرنا اور اماراتی شہریوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اس جامع اور مفصل مضمون میں ہم نافس پروگرام کی تازہ ترین اپڈیٹس، مالیاتی وظائف کے نئے قوانین، اماراتائزیشن کی شرائط، نجی کمپنیوں پر عائد جرمانوں اور اس کے مجموعی معاشی اثرات پر سیر حاصل گفتگو کریں گے۔
نافس پروگرام (Nafis Program) کیا ہے؟ ویژن اور پس منظر (Vision & Core Background)
نافس پروگرام یو اے ای حکومت کا ایک سنگِ بنیاد قومی منصوبہ ہے جو "پروجیکٹس آف دی 50" (Projects of the 50) کا حصہ ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے شہری صرف سرکاری شعبے (Public Sector) پر انحصار کرنے کے بجائے نجی شعبے کی مسابقتی اور متحرک مارکیٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں۔
اس پروگرام کے تحت اماراتی حکومت نے اربوں درہم کا بجٹ مختص کیا ہے تاکہ نجی اداروں میں ملازم اماراتیوں کو ماہانہ مالیاتی الاؤنسز، پیشہ ورانہ تربیت اور تعلیمی وظائف دیے جا سکیں۔ 2026 میں نافس پروگرام کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ ملک کی معاشی ترقی میں تمام اماراتی شہری اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔
مالیاتی امداد کے نئے قوانین: ماہانہ الاؤنسز اور تنخواہوں کی ٹاپ اپ اپڈیٹ (New Financial Support Rules)
2026 کی نئی اپڈیٹ کے مطابق یو اے ای حکومت نے مالیاتی اعانت کے ڈھانچے میں اہم ترمیم کی ہے تاکہ اماراتی شہریوں کے لیے نجی شعبے کی ملازمتیں مزید پرکشش بن سکیں۔ نئے مالیاتی قوانین کی اہم ترین خصوصیات درج ذیل ہیں:
1۔ تنخواہ میں ٹاپ اپ الاؤنس (Salary Top-Up Scheme): نجی شعبے میں کام کرنے والے اماراتی کارکنوں کو ان کی بنیادی تنخواہ کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے ماہانہ مالیاتی ٹاپ اپ فراہم کیا جائے گا۔ بیچلر ڈگری ہولڈرز کو اب 7,000 درہم تک کا اضافی ماہانہ الاؤنس ملے گا، جبکہ ڈپلومہ اور میٹرک کی تعلیم رکھنے والے شہریوں کو بالترتیب 6,000 اور 5,000 درہم ماہانہ اضافی دیے جائیں گے۔
2۔ بچوں کا الاؤنس (Child Allowance Support): اماراتی ملازمین کے خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے ہر بچے پر ماہانہ 600 درہم کا الاؤنس فراہم کیا جائے گا (زیادہ سے زیادہ 4 بچوں تک)، بشرطیکہ مجموعی ماہانہ آمدنی متعین کردہ حد سے کم ہو۔
3۔ عارضی بے روزگاری کا الاؤنس (Emergency Financial Relief): اگر کوئی اماراتی شہری بغیر کسی ذاتی غلطی کے نجی کمپنی کی بندش کی وجہ سے نوکری سے محروم ہوتا ہے، تو اسے نئی نوکری ملنے تک 6 ماہ کے لیے عارضی مالیاتی سیکیورٹی الاؤنس دیا جائے گا۔
اماراتائزیشن کا نیا ہدف (Emiratization Targets) اور نجی کمپنیوں کے لیے لازمی قوانین
مالیاتی الاؤنسز کے ساتھ ساتھ، وزارت برائے انسانی وسائل (MoHRE) نے نجی کمپنیوں کے لیے اماراتائزیشن کے اہداف کو سخت اور واضح کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد محض کاغذات پر ملازمتیں دکھانا نہیں بلکہ حقیقی اور باقاعدہ روزگار کو یقینی بنانا ہے۔
1۔ 50 یا اس سے زائد ملازمین والی کمپنیاں: ایسی تمام نجی کمپنیوں پر لازمی ہے کہ وہ سالانہ 2 فیصد کے حساب سے ماہرانہ عہدوں (Skilled Roles) پر اماراتی شہریوں کی بھرتی میں اضافہ کریں۔ سال 2026 کے اختتام تک تمام بڑی نجی کمپنیوں کے پاس کم از کم 10 فیصد اماراتی ورک فورس کا ہونا قانوناً لازمی قرار دیا گیا ہے۔
2۔ 20 سے 49 ملازمین والی چھوٹی اور درمیانی کمپنیاں (SMEs): متعین کردہ 14 اہم معاشی شعبوں (جیسے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، فائنانس، رئیل اسٹیٹ، اور ہیلتھ کیئر) میں کام کرنے والی چھوٹی کمپنیوں کے لیے بھی لازمی ہے کہ وہ کم از کم ایک اماراتی شہری کو 2026 میں اور دوسرے کو 2027 تک ملازم رکھیں۔
جعلی اماراتائزیشن (Fake Emiratization) پر سخت سزائیں اور جرمانے
شفافیت اور قانونی نظام کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اماراتی حکام نے جعلی اماراتائزیشن (Fake Emiratization) کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ بعض کمپنیاں صرف سرکاری جرمانوں سے بچنے کے لیے کاغذات پر اماراتی شہریوں کا اندراج کرتی ہیں لیکن واقعی کام نہیں لیتیں۔
نئے قانون کے تحت اگر کوئی ادارہ جعلی اماراتائزیشن کا مرتکب پایا گیا تو اس پر 20,000 درہم سے لے کر 100,000 درہم فی ملازم تک کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں کمپنی کا زمرہ (Category) ختم کر دیا جائے گا اور اس کے مالکان کو قانونی عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مزید برآں، غیر قانونی طور پر نافس کے فنڈز حاصل کرنے والے افراد سے رقم بھی واپس وصول کی جائے گی۔
تربیتی پروگرامز اور پروفیشنل ڈیولپمنٹ (Training & Skill Enhancement)
نافس پروگرام کا صرف مالی امداد پر ہی ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس میں اماراتی نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)، ہیلتھ کیئر اور فائنینشل سروسز کے میدان میں تیار کرنے کے لیے باقاعدہ ووکیشنل اور پروفیشنل ٹریننگز شامل کی گئی ہیں۔
عالمی سطح کے سرٹیفکیٹس حاصل کرنے والے اماراتی طلباء کو بھی نافس کی طرف سے خصوصی تعلیمی وظائف اور کیریئر کونسلنگ فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ نجی کمپنیوں میں انتظامی اور ڈائریکٹر لیول کے عہدوں پر فائز ہو سکیں۔
روشن معاشی مستقبل کی تعمیر (Conclusion & Final Summary)
مجموعی طور پر، یو اے ای کے نافس پروگرام (Nafis Program) میں متعارف کرائے گئے نئے مالیاتی امدادی قوانین اور اماراتائزیشن کے اہداف اماراتی معیشت اور نجی شعبے کے لیے ایک انقلابی تبدیل ثابت ہو رہے ہیں۔
ان اقدامات کے ذریعے نہ صرف اماراتی شہریوں کا نجی شعبے پر اعتماد بحال ہو رہا ہے بلکہ یو اے ای کا نجی شعبہ زیادہ جامع، پائیدار اور معاشی طور پر مضبوط بن رہا ہے۔ نجی اداروں اور اماراتی شہریوں دونوں کو چاہیے کہ وہ ان قوانین پر مکمل پاسداری کریں اور امارات کے روشن معاشی مستقبل کی تعمیر میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔

