تبت میں تباہی، بند جھیل کا خطرہ اور برطانوی زائرین کے لیے ریسکیو آپریشن
گلیشیئر پھٹنے سے تبت میں 5 ہلاک اور 558 لاپتہ، چین کی اعلیٰ قیادت کی نگرانی، جبکہ لاپتہ برطانوی زائرین کے لیے برطانیہ کی ریپڈ رسپانس ٹیم روانہ۔
تبت میں نقصانات اور امدادی کارروائیاں
نیپال کے ساتھ ساتھ تبت کا علاقہ بھی اس گلیشیئر کے پھٹنے سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صورتحال انتہائی تشویشناک ہے:
• ہلاکتیں اور لاپتہ افراد: تبت میں اب تک کم از کم 5 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 558 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
• اعلیٰ قیادت کی نگرانی: آفت کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ نے خود جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور امدادی کاموں کی نگرانی کی، جو کہ کسی قدرتی آفت کے فوراً بعد ایک غیر معمولی قدم ہے۔
• امدادی ٹیمیں: تبت اور سچوان صوبے سے فائر اینڈ ریسکیو سروس کے درجنوں اہلکار اور کھوجی کتے
• بند جھیل (Barrier Lake) کا خطرہ: لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے وہاں ایک عارضی جھیل بن گئی ہے۔ چینی حکام کو ڈر ہے کہ اگر یہ جھیل پھٹی تو مزید پانی کا ریلا نیچے آئے گا، جس کی وجہ سے بیچ میں کچھ دیر کے لیے ریسکیو آپریشن روکنا بھی پڑا تھا۔
• تبت تک رسائی کا چیلنج: تبت ایک انتہائی سخت سکیورٹی والا علاقہ ہے جہاں غیر ملکی میڈیا یا آزاد ذرائع کو جانے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے وہاں کی اصل صورتحال جاننے کے لیے تمام تر انحصار چینی سرکاری میڈیا پر ہی کیا جا رہا ہے۔
برطانوی اور غیر ملکی زائرین کے لیے امدادی کارروائیاں
چونکہ یہ علاقہ ہندوؤں اور بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے انتہائی مقدس مانا جاتا ہے، اس لیے یہاں برطانوی اور دیگر غیر ملکی شہریوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ان کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں:
• برطانیہ کی ریپڈ رسپانس ٹیم: برطانوی حکومت نے فوری طور پر ایک ماہر ٹیم نیپال بھیجی ہے جو کھٹمنڈو میں برطانوی سفارت خانے اور مقامی نیپالی حکام کے ساتھ مل کر اپنے لاپتہ شہریوں کو ڈھونڈنے کا کام کر رہی ہے۔
• لاپتہ برطانوی شہری: نیپالی حکام کے مطابق کم از کم 33 برطانوی شہری لاپتہ ہیں، تاہم برطانوی وزراء کا کہنا ہے کہ دور دراز علاقہ ہونے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے یہ تعداد بدل بھی سکتی ہے۔
• برطانوی خاندانوں کی تشویش: لندن اور کوونٹری جیسے شہروں میں مقیم کئی برطانوی خاندان اپنے پیاروں کے لیے شدید فکر مند ہیں۔ مندروں میں روزانہ دعائیہ تقاریب ہو رہی ہیں اور کچھ خاندانوں نے خود نیپال جا کر تلاش میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
• ہیلپ لائن کا قیام: برطانوی فارن آفس نے نیپال اور چین میں موجود اپنے شہریوں اور ان کے لواحقین کے لیے چوبیس گھنٹے کام کرنے والی ہاٹ لائن قائم کر دی ہے تاکہ انہیں قونصلر مدد فراہم کی جا سکے۔
پڑھے جانے والے موضوعات: Tibet glacier flood, Gyirong Port disaster, Barrier Lake Tibet, British tourists missing Nepal, Tibet rescue operation, شی جن پنگ تبت دورہ
تبت میں نقصانات اور امدادی کارروائیاں
نیپال کے ساتھ ساتھ تبت کا علاقہ بھی اس گلیشیئر کے پھٹنے سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق صورتحال انتہائی تشویشناک ہے:
• ہلاکتیں اور لاپتہ افراد: تبت میں اب تک کم از کم 5 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 558 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
• اعلیٰ قیادت کی نگرانی: آفت کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ نے خود جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور امدادی کاموں کی نگرانی کی، جو کہ کسی قدرتی آفت کے فوراً بعد ایک غیر معمولی قدم ہے۔
• امدادی ٹیمیں: تبت اور سچوان صوبے سے فائر اینڈ ریسکیو سروس کے درجنوں اہلکار اور کھوجی کتے
گیرونگ پورٹ کے پاس پہنچ چکے ہیں۔ ریسکیو ورکرز کے مطابق زمینی راستے مکمل تباہ ہو چکے ہیں اور انہیں گھنے جنگلات اور عمودی چٹانوں کو عبور کر کے متاثرین تک پہنچنا پڑ رہا ہے۔• بند جھیل (Barrier Lake) کا خطرہ: لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے وہاں ایک عارضی جھیل بن گئی ہے۔ چینی حکام کو ڈر ہے کہ اگر یہ جھیل پھٹی تو مزید پانی کا ریلا نیچے آئے گا، جس کی وجہ سے بیچ میں کچھ دیر کے لیے ریسکیو آپریشن روکنا بھی پڑا تھا۔
• تبت تک رسائی کا چیلنج: تبت ایک انتہائی سخت سکیورٹی والا علاقہ ہے جہاں غیر ملکی میڈیا یا آزاد ذرائع کو جانے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے وہاں کی اصل صورتحال جاننے کے لیے تمام تر انحصار چینی سرکاری میڈیا پر ہی کیا جا رہا ہے۔
برطانوی اور غیر ملکی زائرین کے لیے امدادی کارروائیاں
چونکہ یہ علاقہ ہندوؤں اور بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے انتہائی مقدس مانا جاتا ہے، اس لیے یہاں برطانوی اور دیگر غیر ملکی شہریوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ان کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں:
• برطانیہ کی ریپڈ رسپانس ٹیم: برطانوی حکومت نے فوری طور پر ایک ماہر ٹیم نیپال بھیجی ہے جو کھٹمنڈو میں برطانوی سفارت خانے اور مقامی نیپالی حکام کے ساتھ مل کر اپنے لاپتہ شہریوں کو ڈھونڈنے کا کام کر رہی ہے۔
• لاپتہ برطانوی شہری: نیپالی حکام کے مطابق کم از کم 33 برطانوی شہری لاپتہ ہیں، تاہم برطانوی وزراء کا کہنا ہے کہ دور دراز علاقہ ہونے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے یہ تعداد بدل بھی سکتی ہے۔
• برطانوی خاندانوں کی تشویش: لندن اور کوونٹری جیسے شہروں میں مقیم کئی برطانوی خاندان اپنے پیاروں کے لیے شدید فکر مند ہیں۔ مندروں میں روزانہ دعائیہ تقاریب ہو رہی ہیں اور کچھ خاندانوں نے خود نیپال جا کر تلاش میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
• ہیلپ لائن کا قیام: برطانوی فارن آفس نے نیپال اور چین میں موجود اپنے شہریوں اور ان کے لواحقین کے لیے چوبیس گھنٹے کام کرنے والی ہاٹ لائن قائم کر دی ہے تاکہ انہیں قونصلر مدد فراہم کی جا سکے۔
پڑھے جانے والے موضوعات: Tibet glacier flood, Gyirong Port disaster, Barrier Lake Tibet, British tourists missing Nepal, Tibet rescue operation, شی جن پنگ تبت دورہ


