مشرقِ وسطیٰ (Middle East)، بحرِ احمر (Red Sea) اور بین الاقوامی سفارتی و ملٹری افق پر اس وقت ایک تنظیم اور تحریک مسلسل عالمی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں کا بنیادی مرکز بنی ہوئی ہے، اور وہ ہے "حوثی تحریک" (The Houthis) جسے باضابطہ طور پر "انصار اللہ" (Ansar Allah)کہا جاتا ہے۔ غزہ تنازعہ کے بعد بحرِ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں، باب المندب کی آبنائے کی ناکہ بندی اور امریکہ و برطانیہ کی جانب سے کی جانے والی جوابی فوجی کارروائیوں کے بعد دنیا بھر میں یہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ "Who Are the Houthis?" یعنی حوثی بنیادی طور پر کون ہیں، ان کا تاریخ پس منظر کیا ہے، وہ کس نظریے کے تحت کام کرتے ہیں اور یمن کی سرزمین سے اٹھنے والی اس مسلح تحریک نے عالمی تجارت اور جیو پولیٹکس کو کس طرح ہلا کر رکھ دیا ہے؟
حوثی تحریک کی شروعات: زیدی شیعہ عقیدہ اور سیاسی پس منظر
حوثی تحریک کا آغاز ۱۹۹۰ء کی دہائی میں شمالی یمن کے دور افتادہ اور پہاڑی علاقے صعدہ (Saada) میں ہوا۔ اس تحریک کی بنیاد حسین بدر الدین الحوثی (Hussein Badreddin al-Houthi)نے رکھی تھی، جن کے نام پر اس گروپ کو دنیا بھر میں "حوثی" کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ تحریک بنیادی طور پر زیدی شیعہ (Zaydi Shia) مسلک سے تعلق رکھتی ہے، جو یمن کی کل آبادی کا تقریباً ۳۵ سے ۴۰ فیصد حصہ تشکیل دیتے ہیں۔ زیدی شیعہ فقہ میں سنت والجماعت کے کافی قریب سمجھے جاتے ہیں، تاہم ان کی تاریخی خودمختاری اور مذہبی شناخت یمن کی سیاست میں اہم رہی ہے۔ ۱۹۹۰ء کی دہائی میں جب یمن کی مرکزی حکومت اور سعودی عرب کے اثر و رسوخ کے تحت خطے میں دیگر مکاتبِ فکر کو فروغ ملنا شروع ہوا، تو اپنے مذہبی و ثقافتی تحفظ اور معاشی محرومیوں کے خلاف حوثیوں نے "شباب المؤمنین" (Believing Youth) کے نام سے ایک احیاء پسند تحریک کا آغاز کیا۔
یمن جنگ اور دارالحکومت صنعاء پر قبضہ
۲۰۰۴ء میں یمن کے وقت کے صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے ساتھ حوثیوں کے شدید مسلح تصادم کا آغاز ہوا، جس میں تحریک کے بانی حسین الحوثی مارے گئے۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے بھائی عبدالملک الحوثی (Abdel-Malek al-Houthi) نے تحریک کی کمان سنبھالی، جو آج بھی اس کے سربراہ ہیں۔
۲۰۱۱ء کی عرب بہار (Arab Spring) کے بعد جب یمن سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا، تو حوثیوں نے اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ۲۰۱۴ء میں حوثی جنگجوؤں نے دارالحکومت صنعاء (Sana'a) پر ہنگامی حملہ کر کے حکومت کو وہاں سے بے دخل کر دیا اور یمن کے بڑے اور گنجان آباد علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس کے جواب میں ۲۰۱۵ء میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت میں عرب اتحاد نے حوثیوں کے خلاف ایک بڑی ملٹری مہم کا آغاز کیا، جو برسوں تک خونی خانہ جنگی میں بدل گئی۔
"محورِ مقاومت" (Axis of Resistance) اور ملٹری صلاحیتیں
حوثی تحریک مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی قیادت میں قائم ماحولیاتی اور سیاسی اتحاد "محورِ مقاومت" (Axis of Resistance) کا ایک اہم اور کلیدی حصہ مانی جاتی ہے، جس میں حماس، حزب اللہ اور عراق کی مختلف ملیشیا کی تنظیمیں شامل ہیں۔ حوثی کا باقاعدہ نعرہ "اللہ اکبر، امریکہ کی موت، اسرائیل کی موت، یہودیوں پر لعنت، اسلام کی فتح" ان کی سیاسی و نظریاتی سمت کو واضح کرتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران حوثیوں نے اپنی فوجی صلاحیتوں میں انتہائی ڈرامائی پیشرفت کی ہے۔ ایک مقامی گوریلا گروپ سے بڑھ کر اب ان کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، اور جدید ترین ڈرونز (UAVs) موجود ہیں۔ ان کی ملٹری ٹیکنالوجی نے نہ صرف ہمسایہ ممالک کی آئل تنصیبات بلکہ سمندر میں موجود جدید ترین جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی ہے۔
بحرِ احمر بحران اور عالمی معیشت پر اثرات
حالیہ دنوں میں حوثی تحریک کے عالمی شہ سرخیوں میں آنے کی بنیادی وجہ بحرِ احمر (Red Sea) میں ان کی بحری کارروائیاں ہیں۔ حوثیوں نے فلسطین اور غزہ کے عوام کی حمایت میں اعلان کیا کہ وہ اسرائیل سے منسلک یا وہاں جانے والے تجارتی بحری جہازوں کو باب المندب کی آبنائے سے گزرنے نہیں دیں گے۔
ان کے ڈرون اور میزائل حملوں کے باعث دنیا کی سب سے بڑی شپنگ کمپنیوں نے سوئز کنال کا راستہ چھوڑ کر افریقہ کا طویل چکر لگانا شروع کر دیا ہے، جس سے عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں اور مال برداری کے اخراجات میں بیپناہ اضافہ ہوا۔ امریکہ اور برطانیہ نے حوثیوں کے حملوں کو روکنے کے لیے 'آپریشن پروسپریٹی گارڈین' شروع کیا اور یمن میں ان کے ملٹری اڈوں پر درجنوں ہوائی حملے کیے، تاہم حوثیوں کا عزم اور کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
حتمی تجزیہ: مشرقِ وسطیٰ میں حوثیوں کا مستقبل
خلاصہ یہ کہ "Who Are the Houthis?" کا سوال محض ایک باغی گروپ کی معلومات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ کی نئی جیو پولیٹیکل حقیقت کو سمجھنے کی کلید ہے۔ حوثی اب یمن کے ایک بڑے حصے کی ڈی فیکٹو (De-facto) حکومت چلا رہے ہیں اور عالمی طاقتوں کے سامنے ایک اہم عسکری قوت کے طور پر ابھرے ہیں۔
اگرچہ ان کی کارروائیوں پر مغرب اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے سخت تنقید کی جاتی ہے، لیکن عرب اور اسلامی دنیا میں ان کے بعض اقدامات کو حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔ ان کے اور عالمی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کے امن اور عالمی معیشت کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔


