فلیش فلڈ (Flash Flood)یعنی اچانک سیلاب کا الرٹ جاری
پاکستان بھر میں مون سون(Monsoon) کی شدید بارشوں کے نئے اور طاقتور سلسلے کے داخل ہوتے ہی محکمہ موسمیات اور قومی تباہی سے نمٹنے کے ادارے (این ڈی ایم اے) نے ہنگامی بنیادوں پر فلیش فلڈ یعنی اچانک سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں بشمول بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی و میدانی علاقوں میں تیز ترین بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔
پہاڑی علاقوں خاص طور پر مری، گلیات، سوات، کاغان، ناران اور آزاد کشمیر کی ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سیاحوں اور مقامی آبادی کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریزان رہیں۔ شدید بارشوں کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں جس سے اہم شاہراہیں اور رابطے کی سڑکیں بلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کی وجہ سے نظامِ زندگی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ زیرِ زمین ڈرینیج سسٹم پر دباؤ بڑھنے کے باعث پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ شہری انتظامیہ اور واسا (WAS A) کے عملے کو شاہراہوں سے پانی کی فوری ناسی کے لیے بھاری مشنری اور پمپنگ سیٹس متحرک رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بارش کے دوران کھمبوں، بجلی کے ٹرانسفارمرز اور لٹکتی ہوئی تاروں سے دور رہیں تاکہ کسی ناخوشگوار حادثے سے بچا جا سکے۔
کسانوں اور زراعت سے وابستہ افراد کے لیے بھی موسمیاتی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ شدید بارشیں اور ژالہ باری کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، اس لیے کسانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے کھیتوں میں پانی کی نگہداشت اور حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ مال مویشی رکھنے والے افراد کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
حکومت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوامی آگاہی کے لیے لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس جاری کی جا رہی ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سرکاری خبر رساں اداروں کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ کی موسمی صورتحال سے باخبر رہیں، ایمرجنسی نمبرز اپنے پاس محفوظ رکھیں اور بارش کے اس سلسلے کے دوران تمام تر حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

