عمرو اور عقاب پری(Ummro Or Uqaab Pari)
شاہی پیادے"۔ باہر سے ایک چیختی ہوئی آواز سنائی دی تو وہ بے اختیار چونک پڑا۔ پھر وہ بستر سے اٹھا اور اس نے دروازہ کھول دیا تو دو باوردی پیادے اندر داخل ہوئے۔
ہاں، تم کون ہو"۔ خواجہ عمرو نے کہا۔
" ہم بادشاہ توران کے پیادے ہیں اور ہمیں یہاں اس لئے بھیجا گیا ہے کہ ہم عمرو عیار کو ساتھ لے جا کر صبح دربار میں پیش کریں۔ چونکہ سفر طویل ہے اس لئے تم فوراً تیار ہو جاؤ اور ہمارے ساتھ چلو۔ اس پیادے نے کہا۔
" لیکن میں تو مالکیہ جا رہا ہوں"۔ خواجہ عمرو نے کہا۔
" اگر تم اپنی رضامندی سے نہیں جاؤ گے تو ہم تمہیں بے ہوش کرکے اٹھا کر لے جائیں گے۔ کیونکہ ہم نے تو بہر حال شاہی فرمان کی تعمیل کرنی ہے"۔
اس پیادے نے سخت لہجے میں کہا۔
لیکن ہوا کیا ہے۔ کوئی خاص بات ہو گئی ہے"۔ عمرو نے کہا۔ اسے دراصل غصہ آ رہا تھا کہ اس کا کام رک جائے گا اور بادشاہ نے ظاہر ہے صرف دعوت کرکے اور تعریف کر کے واپس بھیج دینا تھا۔
بادشاہ کی اکلوتی بیٹی جہاں آراء کو ایک جادوگر اٹھا کر لے گیا ہے اور کسی کو اس بارے میں علم نہیں ہو رہا۔ بادشاہ کو اطلاع ملی ہے کہ تم یہاں موجود ہو تو انہوں نے ہمیں بھیج کر تمہیں بلوا لیا ہے ۔ اس پیادے نے کہا تو عمرو کی آنکھوں میں بے اختیار چمک ابھر آئی ۔ کیونکہ اب اسے بھاری انعام ملنے کی امید پیدا ہو گئی تھی۔
ٹھیک ہے۔ تم باہر رکو میں لباس بدل لوں پھر تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ عمرو نے اس بار خوش ہوتے ہوئے کہا۔
اسے لالچ میں اپنا ذاتی کام بھی بھول گیا تھا۔ پیادوں کے باہر جانے کے بعد اس نے جلدی جلدی لباس بدلا اور اپنی زنبیل گلے میں ڈال کر وہ کمرے سے باہر آگیا۔ شاہی پیادوں نے سرائے کے مالک کو پہلے ہی اس کے بارے میں بتا دیا تھا اس لئے سرائے کا مالک باہر شاہی پیادوں کے ساتھ ہی موجود تھا۔ اس نے بھی خواجہ عمرو کی تعریف کی اور پھر خواجہ عمرو ان پیادوں کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہو کر ملک توران کے بڑے شہر فارسیہ روانہ ہو گیا۔ سارے راستے گھوڑے کی پیٹھ پر سفر کرنے سے خواجہ عمرو بے حد تھک گیا تھا لیکن شاہی پیادے اسے ساتھ لئے مسلسل چلے جا رہے تھے۔ بہر حال صبح ہوتے ہی وہ شاہی محل میں پہنچ گئے جہاں پہلے خواجہ عمرو نے غسل کیا۔ لباس بدلا اور پھر شاہی مہمان خانے میں ناشتہ کرکے وہ بادشاہ سے ملاقات کے لئے تیار ہو گیا لیکن اس سے پہلے اس نے شاہی مہمان خانے میں اپنا کمرہ بند کرکے زنبیل میں سے بولنے والی گڑیا کو نکالا اور اس کے سر پر انگوٹھا رکھ کر دبایا تو گڑیاکی آنکھیں زندہ انسانوں جیسی ہو گئیں۔
خواجہ عمرو کو بتایا جاتا ہے کہ شہزادی جہاں آراء کو ایک جادوگر اٹھا کر لے گیا ہے۔ اس جادوگر کا نام لاما جادوگر ہے اور وہ سرخ پہاڑوں کے اندر رہتا ہے۔ لاما جادوگر کو ایک خاص جادو حاصل کرنے کے لئے ایسی نوجوان شہزادی کا خون چاہئے جو اکلوتی ہو اور اس کی شادی نہ ہوئی ہو۔ اس لئے وہ شہزادی جہاں آراء کو اٹھا کر لے گیا ہے اور اس نے سرخ پہاڑوں میں ایک غار کے اندر اسے بے ہوش کرکے رکھا ہوا ہے اور خود وہ ایک خفیہ غار میں جادو حاصل کرنے کے لئے جاپ کر رہا ہے۔ آج سے سات روز بعد وہ شہزادی کو ہلاک کرکے اس کا خون پیالے میں ڈال کر پی جائے گا۔ اس طرح اسے وہ جادو مل جائے گا۔
خواجہ عمرو کے پوچھنے پر بولنے والی گڑیا نے جواب دیتے ہوئے کہا۔
شہزادی کو ہوش میں لانے کے لئے کیا کرنا پڑے گا۔ عمرو نے بولنے والی گڑیا سے پھر پوچھا۔
شہزادی ایک خاص جادو کی وجہ سے بے ہوش ہے۔ یہ اس وقت تک ہوش میں نہیں آ سکتی جب تک عقاب پری اپنی گردن کا خون اس پر نہ ڈالے گی ۔ بولنے والی گڑیا نے جواب دیا۔
عقاب پری کہاں رہتی ہے اور کیسے اسے میں مجبور کر سکتا ہوں کہ وہ اپنی گردن کا خون شہزادی پر ڈالے" ۔ عمرو عیار نے پریشان ہو کر کہا۔
" عقاب پری اصل میں ایک جادوگرنی ہے۔ ایک جادو میں اس سے غلطی ہو گئی تھی اس لئے جادو دیوتا کے پجاری نے اسے عقاب بنا دیا تھا لیکن پھر اس نے پجاری کی ایک شرط پوری کر دی تو پجاری نے اسے پری بنا دیا لیکن صرف اس کا چہرہ انسانوں جیسا ہے اور اس کے پر بھی پریوں کی طرح خوبصورت ہیں لیکن اس کے پنجے عقاب جیسے ہی ہیں اور اس کا جسم بھی عقاب کی طرح کا ہے۔ وہ چونکہ جادوگرنی ہے اس لئے اس کے گلے میں ایک انسانی کھوپڑی لٹکی رہتی ہے۔ اس کے سر پر ایک خوبصورت تاج بھی ہے اور یہ بات سن لو کہ اگر تم عقاب پری کو مجبور کرنا چاہتے ہو تو پھر تمہیں اسے اپنی زنبیل کی تمام دولت دینا پڑے گی کیونکہ عقاب پری تمہاری طرح بے حد لالچی اور دولت کی بھوکی ہے"۔ بولنے والی گڑیا نے کہا اور اس کے ساتھ ہی اس کی آنکھیں دوبارہ . پہلے جیسی ہو گئیں تو عمرو نے اسے واپس زنبیل میں ڈال لیا۔
" ہونہہ ، دولت اور اس نامراد عقاب پری کو دے دوں ۔ میں اسے ویسے ہی مجبور کر دوں گا۔ عمرو نے بڑبڑاتے ہوئے کہا اور پھر وہ شاہی پیادوں کے ساتھ بادشاہ کے خاص کمرے میں پہنچ گیا۔
" تم نے میری اکلوتی بیٹی کے بارے میں سن لیا ہوگا۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میری بیٹی کو صحیح سلامت واپس لے آؤ۔ میں تمہیں اس کا منہ مانگا انعام دوں گا ۔ بادشاہ نے عمرو سے مخاطب ہو کر کہا۔
بادشاہ سلامت، آپ قطعاً بے فکر رہیں۔ میں شہزادی صاحبہ کو صحیح سلامت واپس لے آؤں گا لیکن بتا دوں کہ شہزادی صاحبہ کو جو جادوگر اٹھا کر لے گیا ہے وہ انہیں ہلاک کرنا چاہتا ہے لیکن میں اسے بھی ہلاک کر دوں گا اور شہزادی صاحبہ کو بھی لے آؤں گا مگر بادشاہ سلامت نیک شگون کے طور پر آپ کچھ نہ کچھ پیشگی انعام مجھے دے دیں۔ خواجہ عمرو نے اپنی لانچی طبیعت سے مجبور ہو کر کہا تو بادشاہ نے فوری طور پر خزانے دار کو حکم دیا اور ایک سو بڑی تھیلیاں جو سونے کے سکوں سے بھری ہوئی تھیں منگوا کر اس نے پیشگی انعام کے طور پر خواجہ عمرو کو دے دیں تو
خواجہ عمرو کی فوراً ہی باچھیں کھل گئیں کیونکہ اتنا بڑا
انعام تو اسے کام کرکے بھی نہ ملتا تھا جبکہ یہ انعام
اسے پیشگی کے طور پر دیا گیا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ
بعد میں اسے بہت زیادہ انعام ملے گا۔ اس نے جھک
کر بادشاہ کو سات فرشی سلام کئے اور پھر بادشاہ سے
اجازت لے کر وہ شاہی محل سے باہر آ گیا اور پھر
ایک ویران جگہ پر پہنچ کر اس نے اپنی جوتیاں
اتاریں اور انہیں زنبیل میں ڈال کر اس نے زنبیل
میں سے اڑنے والی جوتیاں نکال کر پیروں میں پہن
لیں اور پھر اس نے جوتیوں کو حکم دیا کہ وہ اسے
سرخ پہاڑوں میں اس غار کے قریب پہنچا دے جہاں
شہزادی جہاں آراء کو بے ہوشی کے عالم میں رکھا گیا
ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کے جسم کو ایک جھٹکا سا
لگا اور وہ کسی پرندے کی طرح ہوا میں اڑنے لگا۔ کافی
بلندی پر پہنچ کر اس کا رخ بدل گیا اور وہ ان انتہائی
تیز رفتاری
سے اڑتا ہوا آگے بڑھتا چلا گیا۔ پھر تقریباً
چار گھنٹے تک مسلسل اڑنے کے بعد اس کی رفتار سست ہونے لگ گئی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خود بخود نیچے اترتا چلا گیا۔ نیچے سرخ رنگ کی پہاڑیاں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد جوتیوں نے اسے ایک پہاڑی کے سامنے اتار دیا۔ خواجہ عمرو نے اڑنے والی جوتیاں اتار کر اپنی زنبیل میں ڈالیں اور عام جوتیاں زنبیل سے نکال کر پہن لیں۔ اس کے بعد اس نے پہاڑی میں موجود غاروں میں شہزادی کو تلاش کرنا شروع کر دیا اور پھر ایک غار میں اسے شہزادی لیٹی ہوئی دکھائی دی۔ شہزادی بے ہوش تھی۔
اس نے شہزادی کو اٹھا کر کاندھوں پر لادا اور گرتا پڑتا کسی نہ کسی طرح غار سے نکل کر وہ کھلی جگہ پر لٹا دیا۔ اور اس نے شہزادی کو وہاں زمین پر شہزادی
نے انتہائی خوبصورت زیور پہنے ہوئے تھے۔ ایک بار تو خواجہ عمرو کا دل چاہا کہ وہ یہ زیور اتار کر اپنی زنبیل میں ڈال لے۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر شہزادی کے ہاتھ میں موجود سونے کے کنگن اتارنا چاہے لیکن پھر اس نے ہاتھ روک لئے۔ کیونکہ اس طرح اس کی زنبیل میں موجود بزرگوں کی دی ہوئی چیزیں غائب ہو سکتی تھیں اسی لئے اس نے ہاتھ روک لئے تھے ۔ اس کے ساتھ ہی اسے خیال آیا کہ اب اس عقاب پری کو بلایا جائے لیکن اسے یاد آگیا کہ بولنے والی گڑیا نے بتایا تھا کہ اسے زنبیل میں موجود تمام دولت عقاب پری کو دینا پڑے گی وہ کسی صورت بھی نہ کر سکتا تھا چنانچہ اس نے عیاری کرنے کا سوچا۔
وہ دوڑ کر ایک بڑے غار میں آیا۔ اس نے زنبیل میں سے تمام دولت نکال کر اسے چادر سلیمانی میں لپیٹ کر رکھ دیا تاکہ کسی کو حتی کہ عقاب پری کو بھی نظر نہ آ سکے البتہ اس نے سونے کی دو تھیلیاں زنبیل میں رکھ لیں تاکہ کچھ نہ کچھ اس عقاب پری کو دے سکے۔ اس کے بعد وہ واپس شہزادی کے پاس پہنچ گیا اور اونچی آواز میں عقاب پری کو بلانا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے اپنے عقب میں پروں کی پھڑ پھڑاہٹ سنائی دی تو اس نے مڑ کر دیکھا تو اسے عقاب پری اپنے قریب اڑتی ہوئی دکھائی دی۔ وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسی بولنے والی گڑیا نے بتایا تھا۔
کیوں پکار رہے ہو مجھے"۔ عقاب پری نے کہا۔
اپنے گلے کا خون اس شہزادی پر ڈال دو تاکہ یہ ہوش میں آ سکے۔ عمرو نے کہا۔
لیکن مجھے کیا فائدہ ہوگا۔ پری نے کہا۔
تم کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہو۔ عمرو نے پوچھا۔
تم مجھے اپنی زنبیل میں موجود تمام دولت دینے کا وعدہ کرو"۔ عقاب پری نے کہا۔ چونکہ خواجہ عمرو پہلے ہی عیاری کر چکا تھا اس لئے وہ فوراً ہی رضامند ہو گیا۔ اس کے بعد عقاب پری نیچے اتری اس نے خواجہ عمرو سے خنجر لیا اور اپنے گلے پر ہلکا سا زخم لگایا اور نکلنے والے خون کے قطرے اس نے شہزادی پر ڈالے۔ جیسے ہی خون کے قطرے شہزادی پر پڑے شہزادی ہوش میں آگئی۔ اسی لمحے ایک اس میں سے خوفناک دھماکا ہوا اور ہر طرف دھواں سا پھیل گیا اور پھر ایک روتی ہوئی آواز سنائی دی۔
" میرا نام لاما جادوگر تھا۔ میں نے شہزادی کو بے ہوش کیا تھا۔ تھا مگر عمر و عیار نے اسے ہوش دلا کر میرا جادو توڑ دیا جس کی وجہ سے میں ہلاک ہو گیا ۔ آواز بند ہوئی تو دھواں بھی ختم ہو گیا۔
" اب نکالو دولت" - عقاب پری نے کہا تو عمرو .
" نے زنبیل میں سے دو تھیلیاں نکال کر باہر رکھ دیں۔ جو دولت تم نے چادر سلیمانی میں ڈال کر غار میں چھپا رکھی ہے وہ بھی دو ۔ عقاب پری نے کہا تو عمر و عیار بے اختیار اچھل پڑا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں چنانچہ اس نے فوری فیصلہ کر لیا کہ اس عقاب پری کو جو دراصل جادوگرنی ہے ہلاک کر دینا چاہئے۔ اس نے زنبیل میں خنجر نکالا اور یکلخت عقاب پری کے پیٹ میں مار دیا۔ خنجر سلیمانی کی وجہ سے عقاب پری جو دراصل جادوگرنی تھی ہلاک ہو گئی اور ایک بار پھر ہر طرف دھواں سا چھا گیا اور اسے پھر عقاب پری کی روتی ہوئی آواز سنائی دی ۔
" میرا نام عقاب پری تھا اور میں جادوگرنی تھی۔ میں لالچ میں آگئی لیکن عمرو عیار نے عیاری کرکے مجھے ہلاک کر دیا۔ جب آواز بند ہوئی اور دھواں چھٹ گیا تو وہاں عقاب پری کی لاش پڑی تھی۔ عمرو نے جلدی سے سونے کی دونوں تھیلیاں اٹھا کر واپس زنبیل میں ڈالیں اور پھر غار میں موجود اپنی دولت بھی اٹھا کر اپنی زنبیل میں ڈال کر وہ شہزادی کو ساتھ لے کر اڑن قالین کے ذریعے بادشاہ توران کے پاس پہنچ گیا۔ وہ خوش تھا کہ اس نے اپنی دولت بھی بچا لی اور اب وہ بادشاہ سے بھی انعام حاصل کرے گا۔


