اپنی عمر سے کم نظر آنے کا جنون جان لیوا
انسانی زندگی مختلف ادوار میں منقسم ہے۔ بچپن ، جوانی اور پڑھایا۔ بچپن میں کھیل کود میں دل لگتا ہے، جوانی میں قومی مضبوط ہو جاتے ہیں ، امنگوں اور آرزوؤں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے۔ سجنے سنورنے کا دل چاہتا ہے، جسمانی تراش خراش اور لباس پر توجہ زیادہ رہتی ہے ۔ انسان چاہتا ہے کہ یہ وقت یہیں ٹھہرا رہے ، وہ اسی طرح جوان اور پر کشش نظر آتا رہے ۔ مگر کسی کے لئے بھی یہ ممکن نہیں کہ ان ادوار زندگی سے بچ سکے، ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ جوانی کا وقفہ طویل ہو ۔ بڑھاپا دیر سے آئے ۔ قدرت کا یہ نظام حکمت سے پُر ہے ۔ سماج میں بچوں کی موجودگی ، جوانوں کی ضرورت اور بوڑھوں کی اہمیت مسلم ہے۔ کسی سماج میں اگر صرف بچے ہوں تو یہ سماج بچکانہ اور غیر ذمہ دار ہوگا ۔ اگر صرف جوان ہوں تو یہ سماج جوش سے بھرا ہوا مگر تجربہ اور حکمت سے خالی ہو گا او را گر صرف بوڑھے ہوں تو ایسا سماج مستقبل سے مایوس اور عمل سے خالی ہو گا ۔
اسی لئے بچپن کی تیاری ، جوانی کا جوش اور بڑھاپے کا تجربہ ضروری ہے اور انہیں سے سماج میں تعمیری کام انجام پاتا ہے ۔ دور شباب میں انسان چاہتا ہے کہ رکا رہے، وہ ہمیشہ اسی طرح توانا اور حسین نظر آئے ۔ اس خواہش کی تکمیل کے لئے وہ کوئی بھی قیمت دینے کو تیار ہوتا ہے۔ چاہے دوائیاں کھانا پڑے یا سرجری کے عمل سے گزرنا پڑے۔ پچھلے دنوں شغالی زری والا نامی اداکارہ اور گلوکارہ کی کم سنی میں موت نے سبھی کو حیرت زدہ کر دیا ۔ وہ صرف 42 سال کی تھی ۔ اطلاعات کے مطابق اس نے ”اپاس رکھا ہوا تھا ۔ حالانکہ وہ با لکل فٹ نظر آتی تھی لیکن خبروں کے مطابق وہ اینٹی ایجنگ انجکشن، شہرت ، خوبصورت اور جوانی کے جنون میں برسوں سے لے رہی تھی ۔ شاید یہی اس کی موت کا سبب بن گیا۔ حسن و جوانی کی بانہوں میں جھولنے کی خواہش میں قضا کی بانہوں میں سما گئی ۔ کاسمیٹک سرجری اور ایستھیٹک پر وسیجر کا سہارا پہلے صرف سیلیبرٹیز ہی لیتے تھے
لیکن اب یہ شوق عام ہو گیا ہے۔ فیشیل ، لپ فکر، مصنوعی پلکیں لگوانا ، گورا رنگ دکھانا ، لیزر پر وہ ڈبل چن سے نجات پانا اور اس کے علاوہ اگر جسمانی ساخت سے مطمئن نہیں ہیں تو اسے من پسند بنانے کیلئے سرتم ہی کروانا ۔ گزشتہ ہفتے بالی ووڈ کی دو اہم شخصیات کرن جوہر اور اوم کپور میں جسمانی طور پر بڑی تبدیلی نظر آئی ( جن لوگوں کے وزن کافی کم ہوئے اور اپنی عمر سے کم نظر آرہے ہیں )۔ ان لوگوں نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے میریکل ڈرمس ( معجزاتی دوا) استعمال کی ہے جس کا نام اور یمیک ہے۔ ان کے وزن کافی کم ہوئے اور اپنی عمر سے کم نظر آرہے ہیں لیکن یہ سکہ کا ایک رخ ہے۔
کم کا رویشین اور اوپر اوفرے سے لے کر بالی ووڈ تک اب یہ ہندوستان کے اشرافیہ میں بھی مقبولیت حاصل کرلی ہے۔ لیکن یہ سکہ کا ایک رخ ہے۔ دوسری طرف اس کے سائڈ امیلنس سے بعض اوقات جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ موٹاپے سے چھٹکارا پانے کے لئے غیر معمولی خوبصورتی کا معیار حاصل کرنے کے لئے لوگوں میں اس کا استعمال بہت ہی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ لوگ میڈیکل اسٹور کے علاوہ اسے گرے مارکیٹ اور ڈارک ویب سے بھی حاصل کر رہے ہیں ۔ جہاں اسے " او" کہا جاتا ہے۔ وزن کم کرنے والی دوائیاں (Naltrexone bupropion-phentermine-topiramate-orlistat) چہرے کی ساخت کو بگاڑ دیتی ہیں۔ اس پر ضرورت سے زیادہ جھریاں نظر آنے لگتی ہیں۔ سیکڑوں افراد نے اس کے استعمال کے بعد منفی اثرات محسوس کئے ہیں۔ جس کے بعد انہیں کاسمیٹک سرجری کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ صارفین اپنے چہرے کو درست کرنے کے لئے ماہر ہیں جلد سے مدد طلب کرتے ہیں۔ اور جو لوگ دس کلوگرام سے زائد وزن کم کرتے ہیں انہیں فلر ز استعمال کر ہی پڑتا ہے۔ اب خاص ایسے فقر ز بنائے جاتے ہیں جو جبڑوں کو ما (Sharp jaw line ) بناتے ہیں۔ یہ مردوں میں مقبول ہے۔ اب لوگ پلاسٹک سرجری ہی کے علاوہ جلد کو تر وہ زہ رکھنے کے لئے انجکشن کی مانگ کرتے ہیں ۔ اس طرح اور یمیک ، پلاسٹک سرجری کی کو پیچھے دھکیل رہا ہے۔ پچھلے سال صرف امریکہ میں 75 لاکھ افراد اور یمیک استعمال کرنے کے بعد سرجری کے مختلف مراحل سے گزرے ہیں۔ اس کے استعمال کے بعد سرجری کے مختلف مراحل سے گزرنے کے لئے ایک شخص اوسطا 33 ہزار ڈالر خرچ کرتا ہے۔ ڈرماٹولو جست کے مطابق اگر اور نیپیک کا استعمال صحیح طریقے سے کیا جائے تو فکر ز چہرے کی ساخت کو برقرار رکھنے میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں خاص طور پر گالوں اور جبڑوں کی لکیریں ہی انسان کو بوڑھا دکھاتی ہیں۔ با کی Mojsov, Habener گروپ کو GPL1 اینڈو کرا کینوا و جست اور مولیکیولر بائیولوجسٹ نے 1980ء میں دریافت کیا تھا۔ یہ قدرتی ہارمون ہے جو Gila monster: مکی جانور (زہریلی چھپکی) کے venom میں پایا جاتا ہے (4-Exendin) ۔ یہ زہر یلی چھپکلی امریکہ میں پائی جاتی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ انسولین پر اثر کرتا ہے، اسی لئے اسے ذیا بطیس کے علاج کے لئے 2005ء میں استعمال کرنے شروع کیا گیا۔
اس کے بعد اس سے مشتق دوسری دوائیاں تیار کی گئیں جیسے ۔ ان سے بھوک، وزن اورliraglutide, semaglutide موٹا پا کو فائدہ ہو تا ہے۔ اس گروپ میں Ozempic, (Mounjaro) Tirzepatide (GLP-1) وغیرہ شامل ہیں ۔ دیر پا Semaglutide Wegovy Semaglutide Ozempic اثرات کے لئے کو Novo Nordisk نے تیار کیا۔ یہ پورا گروپ ذیا بطیس کے لئے ہی ہے مگر اس کے سائڈ افیکٹس کی وجہ سے اس گروپ کی کچھ دوائیاں وزن کم کرنے کے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ ایسی بہت ساری دوائیاں ہیں جن کے سائڈ افیکٹس ، افیکٹس میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ جیسے Cyproheptadine یہ ہوا Antihistamine (الرجی کے لئے) ہے مگر اس کے سائڈ افیکٹس بھوک زیادہ لگنا اور نیند آتا ہیں ۔ اب یہ انہیں کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ 1 - GLP گروپ کی دوائیاں ٹائپ 2 ذیابطیس کی دوائیں ہے جن میں سے کچھ کو ہفتے میں ایک با را ور کچھ کو روزانہ انجکشن کی شکل میں دیا جاتا ہے۔
یہ دوائیاں لبلبہ (Pancreas) کو زیادہ انسولین پیدا کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد انسانی آنت جی ایل پی ون اور جی آئی پی ہارمون خارج کرتی ہیں تاکہ خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھا جا سکے ۔ یہ انسولین کے اخراج کو متحرک کر کے اور ہاضمے کے عمل کو سست کر کے خون میں شکر جی ایل پی ون بنیادی طور پر دماغ کو یہ بتاتا ہے کہ آپ کا پیٹ بھرا ہوا ہے ، اس لئے انسان کم کھاتا ہے اور اس کا وزن کم ہو جاتا ہے۔ اس لئے اس کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اور یمنیک اور اس فارمولے پر بنائی گئی دیگر دوائیاں جیسے ویگووی اور منجا رو فوری نتائج کا وعدہ کرتی ہیں ۔ وزن کم کرنے کے لئے اور یمیک کا استعمال ایک ٹرینڈ بن گیا ہے۔ اس گروپ کی روائیوں میں ulaglutide نیا قیس کے لئے ، Wegory وزن کم کرنے کیلئے جبکہ Liraglutide اور فایلیس کے لئے استعمال( Semaglutide Ozempic) کی جاتی ہیں۔ چونکہ سیلم پر ٹیز نے اور یمیک استعمال کی اور اسے معجزاتی دو اقرار دیا لمجند الوگوں نے ان کی تقلید شروع کر دی۔ اور اس گروپ میں سب سے زیادہ مشہور ہوگئی ۔ حالانکہ Tirzepatide جیسی بہترین دوا بھی اس گروپ میں موجود ہے۔ اس کے انجکشن اور ٹیبلیٹ دونوں دستیاب ہیں ۔ انجکشن روزانہ (Liraglutide) ہفتے میں ایک بار( and Lixisenatide Ozempic) لئے جاتے ہیں ۔ فی الحال یہ درج ذیل امراض میں بھی استعمال کی جاتی ہیں اور مزید اس پر تحقیقات جاری ہیں ۔ جو سکتا سے کچھ اور نئے امراض میں اس سے شفا حاصل ہو۔

