Tarzan or Dushman Mehmaan by Mazhar Kaleem M.A

Tarzan or Dushman Mehmaan by Mazhar Kaleem M.A

ٹارزن اور دشمن مہمان (Tarzan or Dushman Mehmaan)

ٹارزن اپنی جھونپڑی سے باہر تالاب کے کنارے موجود بڑے سے پتھر پر بیٹھا ہوا دھوپ سینک رہا تھا منکو بھی نیچے ایک چھوٹے پتھر پر بیٹھا ہوا تھا کہ دور سے ٹارزن کو جنگل کے ہی رہنے والے قبیلے کا سردار ناسوکا آتا ہوا دکھائی دیا ۔

" یہ سردار ناسوکا اتنی صبح یہاں کیوں آ رہا ہے ۔" ٹارزن نے حیران ہو کر کہا ۔
کوئی خاص کام ہی پڑ گیا ہوگا ۔ ورنہ تو یہ صبح سویرے پہلے کبھی نہیں آیا۔- منکو نے جواب دیا اور ٹارزن نے اثبات میں سر ہلا دیا 

تھوڑی دیر بعد سردار ناسوکا قریب آگیا اور اس نے بڑے مؤدبانہ انداز میں ٹارزن کو سلام کیا ۔
آؤ سردار ناسوکا  آؤ کیسے آنا ہوا"۔ ٹارزن نے اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا ۔
سردار  مہذب دنیا کے لوگوں نے آکر ہمارے بہت سے قبائلی مار ڈالے ہیں ۔ وہ ہمارے قبیلے کے ساتھ والی پہاڑی سے ہیرے جواہرات نکالنے کے لئے آئے ہیں"۔ سردار ناسوکا نے کہا تو ٹارزن بے اختیار چونک پڑا ۔
 کتنے آدمی ہیں"۔ ٹارزن نے پوچھا ۔

Tarzan or Dushman Mehmaan by Mazhar Kaleem M.A

پہلے تو ان کی تعداد دس تھی ۔ انہوں نے پہاڑی پر قبضہ کر لیا ۔ میرے قبیلے کے لوگ وہاں گئے تو انہوں نے آگ اگلنے والی لکڑیوں سے ان پر حملہ کر دیا اور انہیں مار گرایا ۔ چونکہ میں ان کی زبان سمجھتا ہوں اس لئے میں خود ان کے پاس گیا ۔ میں نے ان سے بات کی تو انہوں نے مجھے کہا کہ ان کے آدمیوں کا پورا جہاز آ رہا ہے اور وہ اس سارے جنگل پر قبضہ کر لیں گے چنانچہ میں آپ کو اطلاع دینے آیا ہوں"۔سردار ناسوکا نے کہا ۔


 یہ تو بہت زیادتی ہے ۔ میں جنگلوں کا سردار ہوں میری اجازت کے بغیر وہ یہاں کیسے رہ سکتے ہیں ۔ ٹھیک ہے ۔ تم جاؤ میں خود جا کر ان سے بات کرتا ہوں"۔ ٹارزن نے کہا تو سردار ناسوکا سلام کر کے واپس چلا گیا ۔
 آؤ منکو ۔ ہم ان سے بات کریں"۔ ٹارزن نے کہا اور پھر منکو کو کاندھے پر بٹھا کر وہ اس پہاڑی کی طرف روانہ ہو گیا جہاں مہذب دنیا کے لوگوں نے قبضہ کر لیا تھا ۔
منکو ۔ تم ایسا کرو کہ پہلے جا کر معلوم کرو کہ یہ لوگ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں ۔ ان کی تعداد کتنی ہے"۔ ٹارزن نے پہاڑی کے قریب پہنچ کر رکھتے ہوئے منکو سے کہا تو منکو نے اس کے کاندھے سے چھلانگ لگائی اور پھر تیزی سے دوڑتا ہوا جھاڑیوں میں غائب ہو گیا ۔ ٹارزن آہستہ آہستہ آگے بڑھتا چلا گیا لیکن کچھ ہی دور جانے کے بعد اس نے دور سے کسی انسان کے چیخنے کی آواز سنی تو وہ تیزی سے اس طرف کو دوڑنے 
لگا ۔


 لیکن ابھی وہ تھوڑا ہی آگے بڑھا تھا کہ اس نے اپنے سر کے اوپر ایک درخت سے منکو کی آواز سنی ۔ وہ چیخ چیخ کر اسے خطرے سے آگاہ کر رہا تھا ۔ ٹارزن نے اس کی آواز سنتے ہی بجلی کی سی تیزی سے چھلانگ لگائی اور اڑتا ہوا ایک بڑی جھاڑی کی اوٹ میں ہو گیا اسی لمحے دھماکہ ہوا اور ایک گولی اس کے جسم کے قریب سے نکل گئی ۔ اگر ٹارزن منکو کی آواز سن کر اچانک چھلانگ نہ لگا دیتا تو یقیناً گولی اس کے جسم میں اتر جاتی اور وہ ہلاک ہو جاتا ۔ جھاڑی کے پیچھے پہنچتے ہی ٹارزن تیزی سے گھوم کر ایک اور جھاڑی کی اوٹ میں ہو گیا اور پھر اس نے دیکھا کہ منکو ایک اونچے درخت کی ٹہنیوں میں چھپا بیٹھا تھا جبکہ اس درخت کی اوٹ سے مہذب دنیا کا ایک آدمی ہاتھ میں پستول پکڑے اس جھاڑی کی طرف دیکھ رہا تھا جس کے پیچھے ٹارزن چھپا تھا ۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ آدمی ہاتھ بڑھا کر اس جھاڑی پر فائر کرتا جس کے پیچھے ٹارزن چھپا ہوا تھا کہ منکو نے درخت کے اوپر سے اس آدمی پر چھلانگ لگائی اور پلک جھپکنے میں وہ اسکے ہاتھ سے پستول چھین کر دور بھاگ گیا ۔


 اس آدمی نے منکو کے پیچھے بھاگنے کی کوشش کی لیکن اسی لمحے ٹارزن جھاڑی کے پیچھے سے نکلا اور اس نے ایک لمبی چھلانگ لگائی اور اس آدمی کو ساتھ لیتا ہوا ایک جھاڑی پر جا گرا ۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ آدمی سنبھلتا ٹارزن اچھل کر کھڑا ہوا اور اس نے اٹھتے ہوئے اس آدمی کے سینے پر زور سے لات ماری تو وہ آدمی چیختا ہوا اچھل کر نیچے گرا اور چند لمحے تڑپنے کے بعد ساکت ہو گیا۔ ٹارزن نے جھک کر اس کے سینے پر ہاتھ رکھا ۔ اسے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں یہ آدمی مر نہ گیا ہو حالانکہ اس نے جان بوجھ کر ہلکی ضرب لگائی تھی ۔ لیکن جب اس نے محسوس کیا کہ اس آدمی کا سانس چل رہا ہے تو وہ سیدھا کھڑا ہو گیا ۔ اسی لمحے منکو اس آدمی کا پستول اٹھائے دوڑتا ہوا اس کے قریب آگیا ۔
" یہ سب کیا ہوا تھا ۔ اس کے باقی ساتھی کہاں ہیں"۔ ٹارزن نے منکو کے ہاتھ سے پستول لیتے ہوئے اس سے مخاطب ہو کر پوچھا۔


" میں یہاں سے گزر رہا تھا سردار کہ میں نے اس آدمی کو اس درخت کی اوٹ میں چھپے ہوئے دیکھا ۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ بھی ادھر سے ہی گزریں گے اور یہ آدمی آپ پر پستول سے حملہ کر دے گا ۔ اس لئے میں درخت پر چڑھ گیا اور پھر میں نے اپنی وہ مخصوص آواز نکالی جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دور سے کسی آدمی نے چیخ ماری ہے ۔ اس طرح آپ یہ آواز سن کر ادھر آئے ۔ لیکن اس آدمی نے اچانک آپ پر حملہ کر دیا ۔ اس لئے میں نے آواز دے کر آپ کو ہوشیار کیا۔ منکو نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا ۔
تم پہاڑی پر جا کر معلوم کرو کہ اس کے اور ساتھی کہاں ہیں ۔ میں اس سے پوچھ گچھ کرتا ہوں"۔ ٹارزن نے منکو سے مخاطب ہو کر کہا ۔
میں پہاڑی کا چکر لگا کر ہی ادھر آیا تھا سردار ۔ وہاں کوئی آدمی موجود نہیں ہے"۔ منکو نے جواب دیا تو ٹارزن حیران ہو گیا ۔
" یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ سردار ناسوکا تو بتا رہا تھا کہ ان کی تعداد دس ہے"۔ ٹارزن نے حیرت بھرے لہجے میں کہا ۔


" ہو سکتا ہے سردار کہ وہ جنگل میں کہیں گئے ہوئے ہوں"۔ منکو نے کہا اور ٹارزن نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
 تم ایسا کرو کہ مضبوط بیل توڑ کر لاؤ تاکہ میں اس کے ہاتھ باندھ دوں اور پھر اس سے پوچھ گچھ کروں"۔ ٹارزن نے کہا اور منکو سر ہلاتا ہوا دوبارہ ایک طرف کو دوڑ گیا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا تو اس نے ایک سرخ رنگ کی پتلی لیکن انتہائی مضبوط بیل کا گچھ اٹھا رکھا تھا ۔ ٹارزن نے اس سے بیل لی اور پھر بے ہوش پڑے ہوئے آدمی کو اس نے سینے کے بل الٹا کر اس کے دونوں ہاتھ اس کی پشت پر کئے اور بیل کی مدد سے اس کی دونوں کلائیاں مضبوطی سے باندھ دیں ۔ پھر اس نے اسے اٹھایا اور کاندھے پر لاد کر وہ ایک طرف موجود چشمے کی طرف روانہ ہو گیا ۔ چشمے کے کنارے لے جا کر اس نے آدمی کو لٹایا اور پھر پانی ہاتھ میں بھر کر اس نے اس کے منہ پر چھینٹے مارے اور اس کے حلق میں پانی ڈالا تو چند لمحات بعد وہ آدمی کراہتا ہوا ہوش میں آگیا ۔


نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور ایک درخت کے تنے کے سہارے کھڑا کر دیا ۔
ک ۔ ک ۔ کون ہو تم"۔ اس آدمی نے انتہائی حیرت بھرے لہجے میں ٹارزن سے مخاطب ہو کر کہا ۔
 میرا نام ٹارزن ہے اور میں ان سارے جنگلوں کا سردار ہوں ۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم نے اور تمہارے ساتھیوں نے پہاڑی پر قبضہ کر لیا ہے اور تم نے قبائلیوں کو بھی مار ڈالا ہے جبکہ میرے جنگلوں میں میری اجازت کے بغیر کوئی آدمی ایسا کام نہیں کر سکتا میں ایسے کام کرنے والوں کو موت کی سزا دیتا ہوں"۔ ٹارزن نے غصیلا لہجے میں کہا ۔
 ان قبائلیوں نے اچانک ہم پر حملہ کر دیا تھا اس لئے مجبورا ہمیں اپنے بچاؤ کے لئے ان پر فائرنگ کرنا پڑی پھر ان کا سردار آیا ۔ وہ ہماری زبان جانتا تھا ۔ ہم نے اسے بتایا کہ ہم کسی کو یہاں ہلاک کرنے نہیں آئے بلکہ ہمارا تعلق مہذب دنیا کی ایک یونیورسٹی سے ہے ۔ ہم وہاں پڑھاتے ہیں ۔ ہم اس سلسلے میں یہاں آئے تھے تاکہ یہاں کی پہاڑی چٹانوں کا سروے کر
سکیں"۔ اس آدمی نے جواب دیا ۔


تمہارا کیا نام ہے اور تمہارے ساتھی کہاں ہیں"۔ ٹارزن نے پوچھا ۔
میرا نام پروفیسر ناروجی ہے اور میرے باقی ساتھی دور ایک جنگل میں موجود پہاڑی کا سروے کرنے گئے ہیں"۔ پروفیسر نے جواب دیا ۔
یہاں تم نے قبائلی سردار کو بتایا تھا کہ تم یہاں سے ہیرے جواہرات حاصل کرنے آئے ہو اور تمہارا پورا جہاز آ رہا ہے اور اس کے بعد تم پورے جنگل پر قبضہ کر لو گے"۔ ٹارزن نے ہونٹ چباتے ہوئے کہا ۔
 وہ ہمیں دھمکا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ وہ پورے قبیلے کو لے کر آ جائے گا ۔ اس لئے ہم نے اس پر رعب جمانے کے لئے ایسا کہا تھا۔ پروفیسر نے جواب دیا ۔
کیا تمہارے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ تم واقعی یونیورسٹی کے پروفیسر ہو اور صرف سروے کے لئے یہاں آئے ہو"۔ ٹارزن نے پوچھا ۔
 جس غار میں ہم رہتے ہیں وہاں ہمارا سامان موجود
ہے ۔ اس میں ہمارے شناختی کارڈ بھی ہیں اور یونیورسٹی کے کاغذات بھی"۔ پروفیسر نے جواب دیا تو ٹارزن نے اس کے ہاتھ کھول دیئے ۔


آؤ میرے ساتھ اور دکھاؤ مجھے اپنے کاغذات"۔ ٹارزن نے کہا اور پھر وہ پروفیسر کو ساتھ لے کر اس پہاڑی پر پہنچ گیا ۔ وہاں واقعی غار میں ان کا سامان موجود تھا چونکہ ٹارزن مہذب دنیا کی زبان کو آسانی سے پڑھ سکتا تھا اس لئے اس نے ان کے سارے کاغذات پڑھے اور اسے یقین آگیا کہ پروفیسر جو کچھ کہہ رہا ہے وہ درست ہے ۔ یہ لوگ واقعی مہذب دنیا کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر تھے اور یہاں پہاڑی چٹانوں کا سروے کرنے آئے ہوئے تھے ۔ پھر شام سے پہلے پہلے پروفیسر کے باقی ساتھی بھی واپس آگئے اور جب پروفیسر ناروجی نے ان کا تعارف ٹارزن سے کرایا اور سارے حالات بتائے تو وہ ٹارزن سے بڑے کھلے دل سے ملے اور انہوں نے بھی وہی بات بتائی جو پہلے پروفیسر ناروجی نے بتائی تھی ۔ ٹارزن نے انہیں جواب میں بتایا کہ اس نے ان کے کاغذات دیکھ لئےہیں اور اسے ان کی بات پر یقین آگیا ہے تو وہ اس بات پر بے حد حیران ہوئے کہ ٹارزن کو ان کی زبان نہ صرف بولنا آتی ہے بلکہ وہ اسے پڑھ بھی لیتا ہے اور پڑھ کر سمجھ بھی لیتا ہے ۔


لیکن آپ لوگوں نے چونکہ یہاں کے قبائلیوں کو ہلاک کر دیا ہے اس لئے اب جنگل کے قانون کے تحت آپ دشمن ہیں ۔ اگر آپ اپنی جانیں بچانا چاہتے ہیں تو فوراً واپس چلے جائیں ورنہ قبائلی آپ کو دشمن قرار دے کر ہلاک کر دیں گے"۔ ٹارزن نے جواب دیا تو وہ سب پریشان ہو گئے ۔
ہم اتنی دور سے آئے ہیں ۔ ہم اس سارے علاقے کا سروے کئے بغیر کیسے واپس جا سکتے ہیں اور ان قبائلیوں کو تو ہم نے اپنے بچاؤ کے لئے مارا ہے ۔ تم ایسا کرو کہ ہمیں اپنا مہمان بنا لو"۔ پروفیسر نے پریشان ہوتے ہوئے کہا ۔
 پھر تمہیں سردار ناسوکا کو ان قبائلیوں کا خون بہا ادا کرنا پڑے گا ۔ جب تم خون بہا ادا کر دو گے تو پھر دشمن ہونے کے باوجود مہمان بن جاؤ گے"۔
ٹارزن نے کہا تو وہ اس پر تیار ہو گئے تو ٹارزن نے منکو کو بھیج کر سردار ناسوکا کو وہیں بلا لیا ۔


 کتنا خون بہا ہوتا ہے ایک قبائلی کا"۔ پروفیسر نے ٹارزن سے پوچھا ۔
 اس کا فیصلہ سردار کرتا ہے ۔ ہو سکتا ہے وہ معاوضہ لے لے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایک قبائلی کے بدلے میں تم میں سے ایک آدمی کی جان مانگے"۔ ٹارزن نے جواب دیا تو وہ سب پریشان ہو گئے اور انہوں نے ٹارزن کی منتیں کرنا شروع کر دیں کہ وہ جنگلوں کا سردار ہے اس لئے انہیں بچا لے لیکن ٹارزن نے ان سے کوئی وعدہ کرنے سے انکار کر دیا ۔ پھر سردار ناسوکا آگیا ۔ اس نے کہا کہ اس کے چھ قبائلی مارے گئے ہیں اس لئے وہ ان میں سے چھ آدمی خون بہا کے طور پر ہلاک کرے گا لیکن ٹارزن نے اسے جب سارے واقعات بتائے اور ان کی سفارش کی تو سردار ناسوکا نے انہیں بغیر کسی خون بہا کے معاف کر دیا ۔ اب تو وہ سب بے حد خوش ہوئے اور انہوں نے ٹارزن اور سردار ناسوکا دونوں کا شکریہ ادا کیا ۔ پھر ٹارزن نے انہیں اپنا مہمان بنا لیا اور سارے جنگل کے قبائلیوں اور جانوروں کو پیغام بھجوا دیا کہ انہیں کچھ نہ کہا جائے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سب کھلے عام جنگل میں پھرتے رہے اور اپنا کام کرتے رہے ۔ جب ان کا کام ختم ہو گیا تو انہوں نے ٹارزن کا شکریہ ادا کیا اور واپس چلے گئے ۔ ٹارزن نے انہیں سمجھا دیا تھا کہ آئندہ جب بھی وہ آئیں تو سب سے پہلے اسے ملیں اور انہوں نے بھی اس کا وعدہ کر لیا تھا ۔

ختم شد