بحر الکاہل (Pacific Ocean) میں ایک طوفانی اور غیر معمولی نوعیت کا "سپر ایل نینو" (Super El Niño)
عالمی موسمیاتی تنظیموں اور ماحولیاتی سائنسدانوں کی جانب سے سال 2026 کے لیے ایک انتہائی تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی جیو فزیکل اور کلائمیٹ ریسرچ سینٹرز کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، بحر الکاہل (Pacific Ocean) میں ایک طوفانی اور غیر معمولی نوعیت کا "سپر ایل نینو" (Super El Niño) جنم لے رہا ہے۔ سائنسدانوں کا خبردار کرنا ہے کہ 2026 کا یہ سپر ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے، انتہائی شدید گرمی ، لہروں، غیر متوقع بارشوں اور ہولناک خشک سالی کا سبب بن سکتا ہے، جس کے اثرات ایشیا، امریکہ، یورپ اور افریقہ سمیت دنیا بھر کے خطوں پر شدید طور پر مرتب ہوں گے۔
ایل نینو ایک ایسا قدرتی اور قدرتی سائنسی مظہر ہے جس میں خطِ استوا کے قریب بحر الکاہل کے سطح کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ تاہم، جب یہ درجہ حرارت اوسط سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ تجاوز کر جائے تو اسے معمولی ایل نینو کے بجائے "سپر ایل نینو" قرار دیا جاتا ہے۔ 2026 کا ممکنہ سپر ایل نینو گزشتہ کئی دہائیوں کے سب سے طاقتور ایل نینو واقعات جیسے کہ 1997-98 اور 2015-16 کے شدت کے ریکارڈ کو بھی توڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں کرہ ارض کے عالمی موسم کا توازن مکمل طور پر درہم برہم ہونے کا اندیشہ ہے۔
موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپر ایل نینو 2026 کا سب سے بڑا اور براہِ راست اثر جنوبی ایشیا، خاص طور پر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے مونسون کے نظام پر پڑے گا۔ تاریخی ڈیٹا اور کمپیوٹرائزڈ موسمیاتی ماڈلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایل نینو کے سالوں کے دوران جنوبی ایشیائی خطے میں روایتی مونسون کی بارشیں غیر متوازن ہو جاتی ہیں۔ کچھ علاقوں میں شدید ترین خشکی اور خشک سالی (Drought) کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض مقامات پر اچانک شدید ترین کلاؤڈ برسٹ اور فلش فلڈنگ (Flash Floods) کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، جو زرعی شعبے کے لیے ایک تباہ کن پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
جنوبی فلپائن، انڈونیشیا اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں سپر ایل نینو کی وجہ سے طویل خشک سالی اور جنگلات میں ہولناک آگ (Wildfires) لگنے کے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے برعکس، شمالی اور جنوبی امریکہ کے ساحلی علاقوں میں انتہائی شدید طوفانی بارشیں، سمندری طوفان (Hurricanes) اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ موسمیاتی تبدیلیاں بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، پُلوں اور رہائشی علاقوں کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
عالمی معیشت اور خوراک کی حفاظت (Food Security) پر سپر ایل نینو 2026 کے منفی اثرات انتہائی گہرے ہوں گے۔ زرعی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گندم، چاول، گنا، کپاس اور مئی کی فصلوں کی پیداوار میں نمایا کمی واقع ہو سکتی ہے۔ پانی کی قلت اور غیر متوقع درجہ حرارت کی وجہ سے ایشیائی اور افریقی ممالک میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ (Inflation) ہو سکتا ہے، جس سے غریب اور ترقی پذیر ممالک کے باشندوں کی معاشی مشکلات میں مزید ہولناک اضافہ ممکن ہے۔
سمندری حیات اور سمندری ماحولیاتی نظام (Marine Ecosystem) پر بھی سپر ایل نینو کے تباہ کن اثرات مراتب ہوں گے۔ سمندر کے اوپری پانی کے درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے دنیا بھر میں مرجان کی چٹانیں (Coral Bleaching) بڑی تعداد میں تباہ ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، مچھلیوں کی نقل مکانی کے راستے بدلنے کی وجہ سے ماہی گیری (Fishing Industry) سے وابستہ لاکھوں افراد کا روزگار شدید خطرے میں پڑ جائے گا، کیونکہ پانی کے گرم ہونے سے سمندری غذا کی دستیابی میں نایاب کمی واقع ہوتی ہے۔
ماحولیاتی سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے ہونے والی گلوبل وارمنگ (Global Warming) اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج نے قدرتی ایل نینو کے سائیکل کو مزید خطرناک اور متحرک بنا دیا ہے۔ جب زمین کا اوسط درجہ حرارت پہلے ہی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہو، تو ایسے میں سپر ایل نینو کا ظہور کرہ ارض کے کئی علاقوں میں ہیٹ ویوز (Heatwaves) کے دورانیے کو طویل اور جان لیوا بنا سکتا ہے، جس سے ہیٹ اسٹروک اور بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
توانائی کے شعبے پر بھی اس کے اثرات واضح نظر آئیں گے۔ گرمی کی شدت میں اضافے سے ایئر کنڈیشننگ اور کولنگ کے لیے بجلی کی طلب میں سرفہرست اضافہ ہوگا، جبکہ دوسری جانب پانی کے ذخائر کم ہونے کی وجہ سے ہائیڈرو الیکٹرک پاور (Hydroelectric Power) کی پیداوار میں زبردست کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال سے توانائی کے بحران کا سامنا کرنے والے ممالک پر اضافی معاشی بوجھ پڑے گا اور پاور گرڈز کے فیل ہونے کے خطرات بڑھ جائیں گے۔
عالمی اداروں نے دنیا بھر کی حکومتوں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو ابھی سے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ حکومتوں کو پانی کے ذخائر کی حفاظت، جدید آبپاشی کے طریقوں کا اپناؤ، تباہ کن سیلابوں سے نمٹنے کی تیاری اور غذائی اجناس کے ہنگامی اسٹاک قائم کرنے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ پیشگی منصوبہ بندی اور سائنسی انتباہات پر عمل کر کے ہی سپر ایل نینو 2026 کے تباہ کن معاشی اور جانی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔
سپر ایل نینو 2026 کا خطرہ صرف ایک سائنسی پیشگوئی نہیں بلکہ کرہ ارض کی بقا اور انسانی فلاح کے لیے ایک سنگین امتحان ہے۔ دنیا کو اس موسمیاتی ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی تعاون، پائیدار پالیسیوں اور فوری عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ انے والی نسلوں کو ماحولیاتی تباہی کے بدترین اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔


