قدیم اسرائیل کے تاریخی مقام شیلو (Shiloh) پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو مقدس عبادتی باقیات
قدیم آثارِ قدیمہ اور بائبل کی تاریخ میں ایک اہم اور نایاب سائنسی دریافت سامنے آئی ہے۔ "ایسوسی ایٹس فار بائبلیکل ریسرچ" (Associates for Biblical Research) کے شائع کردہ تحقیقی مقالے کے مطابق، قدیم اسرائیل کے تاریخی مقام شیلو (Shiloh) پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو مقدس عبادتی باقیات کا ایک خاص ذخیرہ (Favissa) ملا ہے، جسے قدیم ترین اسرائیلی مذہبی اور لاوی سنتوں (Levitical Prescriptions) سے منسوب کیا جا رہا ہے۔
محققین ڈاکٹر سکاٹ اسٹرپلنگ (Scott Stripling)، جوناثن مور اور جارڈن میک کلنٹن کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شیلو کے ایریا ڈی (Area D) سے ملنے والے اس ذخیرے میں تقریباً 10 ہزار ہڈیاں، راکھ کی تہیں، سونے اور چاندی کے آٹھ نایاب نوادرات، اور عبادت میں استعمال ہونے والے مٹی کے برتن شامل ہیں۔ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ (Radiocarbon Data) اور مٹی کے برتنوں کی درجہ بندی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تمام اشیاء لیٹ برونز ایج (1400 تا 1200 قبل مسیح) کی ہیں، جو قدیم اسرائیلی آبادی کے دور سے مطابقت رکھتی ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ جنوبی لیوینٹ کے خطے میں چالیس سے زائد ایسے مذہبی ذخائر مل چکے ہیں، لیکن شیلو کا یہ ذخیرہ اپنی قسم کا واحد ذخیرہ ہے جو کنعانی یا فلستی رسم و رواج سے ہٹ کر بائبل کی کتابِ احبار (Leviticus) میں درج مقدس اشیاء کو ٹھکانے لگانے کی شرعی ہدایات کے عین مطابق ہے۔ یہ تاریخی دریافت قدیم دور کے اسرائیلی مذہبی رسومات اور عبادتی نظام کو سائنسی بنیادوں پر سمجھنے میں انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوئی ہے۔

