امریکہ کے سرکاری سونے کے ذخائر (US Gold Reserves) کے حوالے سے اہم بیانات اور پالیسی
امریکہ کے معاشی اور مالیاتی ایوانوں میں سیکرٹری خزانہ (US Treasury Secretary) اسکاٹ بیسنٹ (Scott Bessent) کے امریکہ کے سرکاری سونے کے ذخائر (US Gold Reserves) کے حوالے سے اہم بیانات اور پالیسی اقدامات کے بعد ایک نئی اور گرم جوش بحث چھڑ گئی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں، وال اسٹریٹ (Wall Street) اور عالمی منڈیوں کی نظریں اس وقت امریکی وزارتِ خزانہ کے ان اعلانات پر جمی ہوئی ہیں جن کا تعلق فورٹ ناکس (Fort Knox) میں محفوظ سونے کے باقاعدہ فزیکل آڈٹ (Physical Audit) اور شفافیت سے ہے۔ اسکاٹ بیسنٹ کی معاشی حکمتِ عملی نے عالمی سطح پر امریکی ڈالر (US Dollar) کی قدر اور سونے کی قیمتوں پر براہِ راست اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔
امریکہ کے پاس اس وقت دنیا کا سب سے بڑا سرکاری سونے کا ذخیرہ موجود ہے، جس کا زیادہ تر حصہ کنٹکی کی مشہور فوجی چھاؤنی فورٹ ناکس، ویسٹ پوائنٹ اور ڈینور کی سیکیورٹی والٹس میں محفوظ تسلیم کیا جاتا ہے۔ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے پاس تقریباً 8,133 میٹرک ٹن سونا موجود ہے۔ تاہم، گزشتہ کئی دہائیوں سے مالیاتی ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ کیا فورٹ ناکس کے والٹس میں واقعی سونے کی یہ مقدار محفوظ ہے اور کیا اس کا کوئی مکمل اور جدید شفاف آڈٹ انجام دیا گیا ہے؟ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے اس معاملے پر توجہ مرکوز کرنے کو امریکی معاشی تاریخ کا ایک بڑا پیش رفت اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ ایک سینئر معاشی ماہر اور سابقہ ہیج فنڈ مینیجر کے طور پر بین الاقوامی مالیاتی نظام کی باریکیوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کا بنیادی موقف یہ ہے کہ امریکی عوام اور عالمی منڈیوں کا امریکی ڈالر اور خزانے کے نظام پر اعتماد برقرار رکھنے کے لیے مکمل شفافیت کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ امریکی ڈالر کو دنیا کی ریزرو کرنسی (Reserve Currency) کا درجہ حاصل ہے، اور امریکی سونے کے ذخائر کا وجود اس معاشی طاقت کے پیچھے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ بیسنٹ کا ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے سونے کے ذخائر کی باقاعدہ گنتی اور ٹیسٹنگ کر کے دنیا کے سامنے لانا امریکی معیشت کے استحکام کا ثبوت بنے گا۔
امریکی معاشی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو 1971 میں صدر رچرڈ نکسن نے امریکی ڈالر کو سونے کے معیار (Gold Standard) سے الگ کر دیا تھا، جسے "نکسن شاک" (Nixon Shock) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے بعد سے امریکی ڈالر ایک فیئٹ کرنسی (Fiat Currency) کے طور پر کام کر رہا ہے، یعنی اس کی قدر کسی سونے کے ذخیرے سے براہِ راست منسلک نہیں بلکہ امریکی حکومت کے اعتماد پر قائم ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے قومی قرضوں (US National Debt) اور افراطِ زر (Inflation) کے دور میں اب دوبارہ یہ تجاویز سامنے آ رہی ہیں کہ سونا امریکی مالیاتی نظام کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
عالمی سطح پر مرکزی بینکوں (Central Banks) کی جانب سے سونے کی تیز رفتار خریداری کے رجحان نے اس موضوع کو مزید اہمیت دے دی ہے۔ چین، روس، بھارت اور ترکی جیسے ممالک اپنے غیر ملکی زراطاق کے ذخائر میں امریکی ڈالر پر انحصار کم کر کے سونے کے ذخائر میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ ڈی-ڈالرائزیشن (De-Dollarization) کے اس دور میں امریکہ کی جانب سے اپنے سونے کے ذخائر کا تحفظ اور شفاف آڈٹ دنیا کو یہ پیغام دینے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ معاشی چیلنجز کے باوجود اپنی مالیاتی بالادستی اور اثاثوں کا مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ کی زیرِ قیادت امریکی وزارتِ خزانہ کی پالیسیوں کے تحت اگر فورٹ ناکس کا باضابطہ اور عوامی سطح پر سائنسی آڈٹ انجام دیا جاتا ہے، تو اس سے معاشی مارکیٹوں پر گہرے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ معاشی اینالسٹس کا خیال ہے کہ اس سے فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) اور ٹریژری کی پالیسیوں کے حوالے سے عوام اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔ اس کے علاوہ اس اقدام سے ان تمام سازشی نظریات (Conspiracy Theories) کا بھی خاتمہ ہو جائے گا جن میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ فورٹ ناکس کا سونا پہلے ہی فروخت یا لیز پر دیا جا چکا ہے۔
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں (Gold Prices) کی پیشگوئی کے حوالے سے بھی بیسنٹ کے اس موقف کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اگر امریکہ اپنے ذخائر کی دوبارہ قدر کی پیمائش (Revaluation) کرتا ہے یا سونے کو معاشی بیلنس شیٹ کو مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے، تو بین الاقوامی بلین مارکیٹ (Commodity Market) میں سونے کے ریٹ تاریخی بلند ترین سطح کو چھو سکتے ہیں۔ سرمایہ کار پہلے ہی غیر یقینی معاشی حالات، جیو پولیٹیکل تناؤ اور افراطِ زر کے خلاف تحفظ حاصل کرنے کے لیے سونے کو ایک محفوظ ترین سرمایہ کاری (Safe Haven) تسلیم کرتے ہیں۔
اسکاٹ بیسنٹ کی مالیاتی حکمتِ عملی کا ایک اور اہم پہلو امریکی تجارتی خسارے (Trade Deficit) کو کم کرنا اور معیشت کی پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ سونے کے ذخائر کے صحیح استعمال اور کریڈٹ ریٹنگ کے تحفظ سے امریکہ اپنی عالمی معاشی پوزیشن کو مضبوط رکھ سکتا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ معاشی اصلاحات کا یہ عمل شفافیت اور ذمہ دارانہ مالیاتی انتظام کا عکاس ہوگا جس سے امریکی ڈالر کی بین الاقوامی قدر میں استحکام آئے گا۔
کابینہ اور کانگریس میں بھی اسکاٹ بیسنٹ کے اس اقدام کی حمایت کی جا رہی ہے۔ متعدد امریکی قانون سازوں نے ایک طویل عرصے سے "آڈٹ فورٹ ناکس" (Audit Fort Knox) بل پیش کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن اب انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر دلچسپی دکھانے سے قانون سازی کے عمل کو بھی نئی رفتار ملنے کی امید ہے۔ اس سے معاشی اداروں اور عوام کے درمیان تعلقات میں بہتری آنے کی پیشگوئی کی جا رہی ہے۔
سیکرٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے امریکی سونے کے ذخائر پر دی جانے والی توجہ محض ایک انتظامی قدم نہیں بلکہ یہ امریکہ کی آئندہ کی معاشی سیکیورٹی اور عالمی مالیاتی قیادت کے کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کے مالیاتی ادارے اور معاشی ماہرین اب آنے والے دنوں میں اس آڈٹ اور معاشی پالیسیوں کے حتمی نتائج کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔


