🇵🇰 پاکستان کے لیے بڑا اعزاز! سعدیہ زاہدی عالمی ایوی ایشن آرگنائزیشن (IATA) کی سربراہ مقرر—ان کی کامیابی کی سنسنی خیز کہانی!
عالمی ایوی ایشن انڈسٹری اور بین الاقوامی معاشی افق پر پاکستان کے لیے ایک تاریخ ساز اور انتہائی فخر کا مقام سامنے آیا ہے۔ ورلڈ اکانومک فورم (WEF) کی ممتاز مینیجنگ ڈائریکٹر اور نامور پاکستانی نژاد ماہرِ اقتصادیات سعدیہ زاہدی (Saadia Zahidi) کو بین الاقوامی ہوائی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA - International Air Transport Association) کا نیا ڈائریکٹر جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔ "نایاب پاکستانی خاتون کا عالمی ایوی ایشن میں اعزاز" (Saadia Zahidi IATA Director General) کی یہ پیشرفت نہ صرف عالمی سطح پر ایوی ایشن انڈسٹری میں ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے بلکہ 1945ء میں آئی اے ٹی اے کے قیام کے بعد سے لے کر اب تک کے 81 سالہ سفر میں وہ اس عالمی ادارے کی سربراہی سنبھالنے والی دنیا کی پہلی خاتون اور نویں ڈائریکٹر جنرل بن گئی ہیں۔
آئی اے ٹی اے (IATA) دنیا بھر کی 370 سے زائد ایئر لائنز کی نمائندگی کرنے والی سب سے بڑی باڈی ہے جو عالمی ایئر ٹریفک کے تقریباً 85 فیصد حصے کو کنٹرول اور منظم کرتی ہے۔ سعدیہ زاہدی 1 نومبر 2026ء کو باقاعدہ طور پر ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالیں گی اور وہ سابق چیف ایگزیکٹو ولی والش (Willie Walsh) کی جگہ لیں گی۔ آئی اے ٹی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور لیٹم ایئر لائنز کے سی ای او روبرٹو الوو نے اس تاریخی تعنیاتی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سعدیہ زاہدی کی معاشی، تکنیکی، جیو پولیٹیکل اور عالمی پالیسی سازی کے شعبوں میں طویل اور بے مثال خدمات آئی اے ٹی اے کو ایک نئی بلندی پر لے جانے کے لیے زبردست ثابت ہوں گی۔
سعدیہ زاہدی کی زندگی، تعلیمی پس منظر اور شاندار کیریئر پر نظر ڈالی جائے تو وہ لاہور، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنے اعلیٰ تعلیمی سفر کے دوران امریکہ کی معروف سمتھ کالج (Smith College) سے معاشیات میں بی اے، جنیوا گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ سے انٹرنیشنل اکنامکس میں ایم فل، اور دنیا کی اعلیٰ ترین درسگاہ ہارورڈ یونیورسٹی (Harvard University) سے ماسٹرز ان پبلک ایڈمنسٹریشن (MPA) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کے پاس پاکستان اور سویٹزرلینڈ کی دوہری شہریت ہے اور وہ چار مختلف زبانوں پر مکمل عبور رکھتی ہیں۔
سعدیہ زاہدی نے دو دہائیوں سے زائد کا عرصہ ورلڈ اکانومک فورم (WEF) میں گزارا، جہاں وہ بورڈ کی سب سے کم عمر مینیجنگ ڈائریکٹرز میں شامل رہیں۔ انہوں نے ڈبلیو ای ایف کے سینٹر فار دی نیو اکانومی اینڈ سوسائٹی (Centre for the New Economy and Society) کی بنیاد رکھی اور اس کی سربراہی کی۔ عالمی سطح پر معاشی تجزیوں اور افرادی قوت کے رجحانات پر مبنی ان کی مشہور زمانہ رپورٹس بشمول "فیوچر آف جابز رپورٹ" (Future of Jobs Report)، "گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ" (Global Gender Gap Report)، اور "چیف اکانومسٹس آؤٹ لک" کو دنیا بھر کے تمام ممالک کی حکومتیں اور پالیسی ساز مرکزی رہنمائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
عالمی سطح پر خواتین کی معاشی خودمختاری اور افرادی قوت میں شمولیت پر سعدیہ زاہدی کی تحقیقات کو خصوصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ویمنز اکانومک ایمپاورمنٹ پینل اور یورپیئن سپیس ایجنسی (ESA) کے ہائی لیول ایڈوائزری گروپ میں بھی خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی لکھی گئی شہرہ آفاق کتاب "Fifty Million Rising" میں مسلم دنیا میں روزگار کے میدان میں داخل ہونے والی کروڑوں خواتین کے معاشی سفر اور اثرات کا احاطہ کیا گیا ہے، جس پر انہیں بین الاقوامی سائنسی و مالیاتی اداروں کی جانب سے معتبر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔
تعیناتی کا اعلان ہوتے ہی سعدیہ زاہدی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "ہوائی سفر اور ایوی ایشن انڈسٹری عالمی معاشی نمو، تجارت، سیاحت، روزگار اور تجارتی سرمایہ کاری کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جیو پولیٹیکل تناؤ، موسمیاتی تبدیلیوں، مصنوعی ذہانت (AI) کی آمد، اور جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں آئی اے ٹی اے کا کردار دنیا بھر کی ایئر لائنز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے اور پائیدار پوزیشن فراہم کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ میری اولین ترجیح تمام ایئر لائنز، حکومتوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایوی ایشن کے مستقبل کو محفوظ، جدید اور ماحول دوست بنانا ہوگی۔"
عالمی معاشی ماہرین اور فضائی ماہرین کا ماننا ہے کہ سعدیہ زاہدی کا انتخاب ایوی ایشن انڈسٹری میں ایک نئے اور جدید دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ کووڈ 19 کے بحران اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نبرد آزما ہونے کے بعد، اب دنیا بھر کی ایئر لائنز کو سال 2050ء تک کاربن کے اخراج کو صفر پر لانے (Net-Zero Carbon Emissions 2050) کا سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے۔ سعدیہ زاہدی کی اقتصادی بصیرت اور عالمی گرین پالیسیوں پر گرفت اس وژن کو عملی جامہ پہنانے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگی۔
پاکستان کے عوام، حکومتی نمائندوں، سول سوسائٹی اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے سعدیہ زاہدی کے اس تاریخی عالمی اعزاز پر بے حد مسرت اور فخر کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی ایک بیٹی کا عالمی ایوی ایشن کے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہونا اس بات کی زندہ مثال ہے کہ پاکستانی خواتین کی قابلیت اور استعداد عالمی سطح پر کسی سے کم نہیں ہے، اور وہ کسی بھی بین الاقوامی ادارے کی قیادت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
سوشل میڈیا پورٹلز بشمول لنکڈ ان (LinkedIn)، ایکس (Twitter)، فیس بک، اور خبر رساں اداروں پر #SaadiaZahidi، #IATA، اور #PakistaniWomen کے ہیش ٹیگز دنیا بھر میں ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ دنیا بھر کے معاشی رہنما، عالمی اداروں کے نمائندے، اور ایوی ایشن انڈسٹری کے سربراہان سعدیہ زاہدی کو اس شاندار کامیابی اور تقرری پر مبارکباد پیش کر رہے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ "نایاب پاکستانی خاتون کا عالمی ایوی ایشن میں اعزاز (Saadia Zahidi IATA Director General)" پاکستان اور بین الاقوامی فضائی انڈسٹری کے لیے ایک یادگار اور فخر سے بھرپور لمحہ ہے۔ سعدیہ زاہدی کا انتخاب نہ صرف عالمی ایوی ایشن میں خواتین کے لیے نئی راہیں کھولے گا بلکہ عالمی فضائی نقل و حمل کو زیادہ پائیدار، مستحکم اور جدید بنانے میں ایک کلیدی سنگِ میل ثابت ہوگا۔

