امریکی عوام کا عدم اعتماد( United States and Donald Trump)
امریکہ (United States) کے سپریم کورٹ (Supreme Court) کے فیصلوں اور اس کے غیر جانبدارانہ کردار سے متعلق عوامی اعتماد میں شدید کمی دیکھی جا رہی ہے۔ "دی ہل" (The Hill) کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ امریکی سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت کا ماننا ہے کہ عدالتی فیصلے آئین اور قانون کے بجائے صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کی سیاسی نظریات اور جماعت کے ایجنڈے سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
پول کے نتائج کے مطابق تقریباً نصف سے زائد شہریوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج اپنے ذاتی و سیاسی رجحانات اور حزبی ترجیحات کو بنیادی قانون پر فوقیت دیتے ہیں۔ خاص طور پر گرما گرم سیاسی موضوعات، ٹیرف، مہاجرت اور صدارتی اختیارات سے متعلق مقدمات کے فیصلوں کے بعد عدالتِ عظمیٰ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور عوام میں اس کی مقبولیت کی شرح اب تک کی سب سے نچلی ترین سطح پر آ گئی ہے۔
عدالتی تجزیہ کاروں اور قانون دانوں نے خبردار کیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری پر عوام کا عدم اعتماد امریکی جمہوریت اور آئینی نظام کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں کے حمایتیوں کی ایک بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک رکھنے کے لیے نئی اصلاحات کا نفاذ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

