عالمی خلائی تحقیق، سائنس اور ماحولیاتی سائنس کی دنیا سے اس وقت ایک انتہائی شاندار، حیران کن اور آنکھیں کھول دینے والی بریکنگ نیوز سامنے آئی ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) اور بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے اسرو (ISRO) کے مشترکہ فلیگ شپ مشن "نثار سیٹلائٹ" (NISAR Satellite) نے انٹارکٹیکا (Antarctica) کی اب تک کی سب سے واضح، تفصیلی اور سنسنی خیز رےڈار تصاویر جاری کر دی ہیں۔ ان تصاویر اور اینالائسز کے ڈیٹا نے دنیا بھر کے ماحولیاتی سائنسدانوں، جغرافیائی ماہرین اور عالمی رہنماؤں کو گہری تشویش اور حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ انٹارکٹیکا کے برفانی گلیشیئرز کے اندرونی ڈھانچے اور برف کے پگھلنے کی تیز ترین رفتار کو ظاہر کرنے والی ان تصاویر کی اشاعت کے بعد انٹرنیٹ، ایکس (Twitter)، اور عالمی نیوز نیٹ ورکس پر "NASA NISAR Satellite – SHOCKING Antarctica Images Released" کا موضوع ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔
نثار سیٹلائٹ ٹیکنالوجی: برف کے پار دیکھنے والی جدید رےڈار صلاحیت
ناسا اور اسرو کا نثار (NASA-ISRO Synthetic Aperture Radar) سیٹلائٹ دنیا کا سب سے مہنگا اور جدید ترین زمین کا مشاہدہ کرنے والا سیٹلائٹ نظام ہے۔ اس سیٹلائٹ کی سب سے بڑی خاصیت اس میں نصب ڈوئل فریکوئنسی (L-band اور S-band) سنتھیٹک اپرچر رےڈار (SAR) ہے، جو دن اور رات کے کسی بھی وقت، چاہے شدید بادل ہوں یا ہولناک طوفان، زمین کے اندرونی اور بیرونی حصوں کی سینٹی میٹر کی درستگی کے ساتھ تصاویر لے سکتا ہے۔
روایتی سیٹلائٹ صرف انٹارکٹیکا کی برفانی سطح کو اوپر سے دکھاتے تھے، لیکن نثار سیٹلائٹ نے رےڈار لہروں کے ذریعے سو فٹ نیچے برف کی تہوں، گلیشیئرز کی حرکت اور ان کے نیچے بہنے والے گرم پانی کی شریانوں کا مکمل خاکہ پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرینِ سائنس ان تصاویر کو زمین کا ایک "ایکس رے" (X-Ray) قرار دے رہے ہیں جس نے انٹارکٹیکا کے چھپے ہوئے رازوں سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
انٹارکٹیکا کے گلیشیئرز کا تیزی سے گرنا اور "ڈومز ڈے گلیشیئر" کا خطرہ
نثار سیٹلائٹ کی جاری کردہ تصاویر میں سب سے زیادہ سنسنی خیز اور خوفناک انکشاف انٹارکٹیکا کے بدنامِ زمانہ "تھوائٹس گلیشیئر" (Thwaites Glacier) کے بارے میں ہوا ہے، جسے دنیا بھر میں "قیامت کا گلیشیئر" (Doomsday Glacier) بھی کہا جاتا ہے۔ تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ گرم سمندری پانی گلیشیئر کی جڑوں تک اندر داخل ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے یہ گلیشیئر نیچے سے تیز رفتاری کے ساتھ کھوکھلا ہو رہا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اگر تھوائٹس گلیشیئر مکمل طور پر ٹوٹ کر سمندر میں گر جاتا ہے، تو اس کے نتیجے میں عالمی سمندروں کی سطح میں فوری طور پر کئی فٹ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، نثار ڈیٹا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مغربی انٹارکٹیکا کی برفانی شیٹ (West Antarctic Ice Sheet) کے ٹوٹنے کا عمل متوقع وقت سے کہیں زیادہ تیز ہو چکا ہے، جو کہ ساحلی شہروں اور جزائر کے لیے انتہائی خطرناک گھنٹی ہے۔
سمندری سطح میں اضافہ اور عالمی ساحلی شہروں پر تباہ کن اثرات
ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نثار سیٹلائٹ کی یہ صدمہ انگیز تصاویر صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں ہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک ہنگامی موسمیاتی الرٹ ہیں۔ انٹارکٹیکا کی برف میں ہونے والی یہ تیز رفتار تبدیلیاں دنیا بھر کے ساحلی خطوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ نیویارک، ٹوکیو، ممبئی، کراچی اور لندن جیسے کثیف آبادی والے ساحلی شہروں کے لیے سمندری سطح میں چند انچ کا اضافہ بھی شدید سیلاب، ساحلی کٹاؤ اور پینے کے پانی میں نمکیات کی آمیزش کا باعث بنے گا۔
عالمی ماحولیاتی اداروں نے اعتراف کیا ہے کہ نثار سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے اس لائیو ڈیٹا کی مدد سے اب وہ کلائمیٹ ماڈلنگ (Climate Modeling) کو زیادہ درست بنا سکیں گے، جس سے حکومتوں کو قبل از وقت سیلا ب سے بچاؤ کے انتظامات اور حفاظتی بند تعمیر کرنے میں مدد ملے گی۔
سائنسی برادری کا ردِعمل اور مستقبل کے اقدامات
نثار سیٹلائٹ سے حاصل شدہ تصاویر اور ڈیٹا شائع ہوتے ہی عالمی سائنسی کانفرنسوں میں ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ (UN) اور بین الاقوامی موسمیاتی پینل (IPCC) نے سائنسدانوں کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ممالک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو محدود کرنے کے لیے عالمی معاہدو ں پر سختی سے عمل کریں۔
ناسا اور اسرو کا یہ مشن ہر 12 دن بعد پوری زمین کی ریڈار میپنگ مکمل کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب انٹارکٹیکا کے ہر گلیشیئر اور برف کی سلائڈ پر چوبیس گھنٹے کڑی نظر رکھی جائے گی۔ خلاصہ یہ کہ "NASA NISAR Satellite – SHOCKING Antarctica Images Released" کی یہ پیش رفت انسانیت کے لیے زمین کے تحفظ اور موسمیاتی آفت کو روکنے کے لیے ایک آخری موقع اور اہم انتباہ ہے۔


