Live Top Trend and Viral News & Latest Stories: Daily Urdu News - Modern meat processing plants

Live Top Trend and Viral News & Latest Stories: Daily Urdu News - Modern meat processing plants

Live Top Trend and Viral News & Latest Stories: Daily Urdu News - 15 June 2026
🟢 تازہ ترین مگر اہم آج کی اہم خبریں: اب ہر خبر مستند اور معتبر

pakstan-ky-gaz-sazy-snaat-ko-gdyd-khtot-pr-astoar-krn-kyly-anklaby-akdamat-ka-aghaz
وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کی جہاز سازی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے انقلابی اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے۔
کراچی شپ یارڈ کو کمرشل جہاز سازی میں مرکزی کردار سونپ دیا گیا ہے۔ یہ ادارہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کیلئے کمرشل جہاز تیار کرے گا۔
بین الاقوامی شپ یارڈز کے ساتھ جوائنٹ وینچرز کیلئے اقدامات تیز کر دئیے گئے ہیں۔
ملکی جہاز سازی کے آرڈرز قومی شپ یارڈ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ غیر ملکی شپ یارڈز پر انحصار کم ہونے سے قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت ہوگی۔ قومی شپ یارڈ کی بحالی سے انجینئرز اور ہنرمندوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
ملک بھر میں ہاربر کرافٹس کے معیار کو یکساں بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان علاقائی شپ بلڈنگ ہب بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
وہ اسلام آباد میں خطے میں کشیدگی کے ملکی معیشت پر اثرات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے، اس لیے ہر ممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ملکی معیشت مستحکم ہے، اور ہدایت کی کہ ضرورت پڑنے پر بروقت اقدامات کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ سادگی اور کفایت شعاری مہم میں عوام نے بھرپور کردار ادا کیا، جس پر وہ تہہ دل سے عوام کے مشکور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بروقت اور مؤثر حکومتی حکمتِ عملی کے باعث ملک میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال کا بہترین انداز میں انتظام کیا گیا ہے۔ حکومت نے عام آدمی، موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو تحفظ فراہم کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی سبسڈی کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے منفی اثرات سے ملکی معیشت پر مستقبل میں اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ جس طرح گزشتہ کفایت شعاری مہم میں عوام نے بھرپور ساتھ دیا، اسی طرح کفایت شعاری کو قومی سطح پر اپنانا ہوگا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کے لیے ان کی فراہمی بھی یقینی بنا دی گئی ہے۔

وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے چینی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو پاکستان میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ مذبحہ خانے اور گوشت پروسیسنگ کے جدید پلانٹس قائم کرنے کی دعوت دی ہے۔
وہ اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جس میں لائیو سٹاک کے شعبے میں پاک چین دوطرفہ تعاون کے فروغ، بالخصوص پاکستان سے چین کو گوشت کی برآمدات بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چینی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنے وسیع مویشیوں کے ذخیرے کی بدولت، جغرافیائی محل وقوع اور معیاری حلال گوشت کی پیداوار کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کے باعث لائیو سٹاک کے شعبے میں بے پناہ استعداد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک پاکستان کی زرعی معیشت کا ایک اہم ستون ہے، جو زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن، دیہی روزگار اور قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ چین دنیا میں گوشت استعمال کرنے اور درآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں شامل ہے، جو پاکستان کے لیے گوشت کی برآمدات میں نمایاں اضافے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے چینی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان میں جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ سلاٹر ہاؤسز اور جدید گوشت پروسیسنگ پلانٹس قائم کریں، جو بین الاقوامی حفظانِ صحت کے معیارات، کولڈ چین انفراسٹرکچر اور ٹریس ایبلٹی سسٹم سے لیس ہوں تاکہ اعلیٰ معیار کا حلال گوشت تیار کرکے چین سمیت عالمی منڈیوں کو برآمد کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سازگار کاروباری ماحول، مؤثر پالیسی معاونت اور ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
چینی وفد نے پاکستان کے لائیو سٹاک سیکٹر کی استعداد کو سراہتے ہوئے گوشت کی پروسیسنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، معیار کی یقین دہانی اور برآمدات پر مبنی انفراسٹرکچر کے قیام میں تعاون میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیے تکنیکی تعاون، کاروباری روابط کے فروغ اور ریگولیٹری و سینیٹری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے باہمی اشتراک کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔