حوثی باغیوں (Houthis) نے سعودی عرب (Saudi Arabia) کے خلاف فوری طور پر بحری ناکہ بندی (Naval Blockade)
یمن (Yemen) کے حوثی باغیوں (Houthis) نے سعودی عرب (Saudi Arabia) کے خلاف فوری طور پر بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ "الجزیرہ" (Al Jazeera) کی رپورٹ کے مطابق، حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع (Yahya Saree) نے ایک ویڈیو بیان میں اعلان کیا کہ باب المندب (Bab al-Mandeb) کی اہم سمندری گزرگاہ کو تمام سعودی بحری جہازوں اور سعودی عرب جانے والے کارگو کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جسے انہوں نے "اینٹ کا جواب پتھر" اور محاصر کے بدلے محاصر قرار دیا ہے۔
حوثیوں کی جانب سے یہ اقدام صنعاء ایئرپورٹ (Sanaa Airport) پر حالیہ حملوں اور فائرنگ کے تبادلے کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ باب المندب کے اس 32 کلومیٹر پر محیط سمندری راستے سے عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد اور نہر سویز (Suez Canal) جانے والا ایک چوتھائی کنٹینر ٹریفک گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں جاری کشیدگی کے بعد سعودی عرب بحیرہ احمر (Red Sea) کی ینبع (Yanbu) بندرگاہ کے ذریعے تیل برآمد کر رہا تھا، جو اب اس ناکہ بندی کی براہِ راست زد میں آ گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ (United Nations) اور بین الاقوامی معاشی تجزیہ کاروں نے حوثیوں کے اس اعلان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں (Crude Oil Prices) میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، ایران اور علاقائی قوتوں کے درمیان جاری تناؤ کے باعث یمن میں 2022 سے قائم جنگ بندی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا ہو چکے ہیں۔

