حج 2027ء اور عمرہ پالیسی کی نئی ہدایت نامے(Hajj 2027 Registration Guidelines)
کوٹہ، ویزا کے نئے قوانین، درخواستوں کی وصولی اور اخراجات کی مکمل تفصیلات حج اور عمرہ ہر مسلمان کے لیے ایک انتہائی اہم، مقدس اور روحانی فریضہ ہے۔ دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر سال بیت اللہ کی زیارت اور مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ ہر سال کی طرح سعودی حکومت اور پاکستان کی مذہبی امور کی وزارت مل کر حج و عمرہ کے انتظامات کو بہتر اور شفاف بنانے کے لیے نئی پالیسیاں اور اصول طے کرتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں سعودی وزارتِ حج و عمرہ اور حکومتِ پاکستان نے نئے حج اور عمرہ سیزن کے لیے انتہائی اہم اور کلیدی تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں جن کا علم ہر اس شہری کے لیے ضروری ہے جو اس سال یا آنے والے سالوں میں حج یا عمرہ کا مقدس سفر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس تفصیلی اور جامع آرٹیکل میں ہم حج کی نئی پالیسی، کوٹہ کی تقسیم، ویزا کے نئے قوانین، بائیومیٹرک تصدیق، طبی شرائط، عمرہ ویزا کی مدت اور متوقع اخراجات کا مکمل اور تفصیلی جائزہ لیں گے۔
حج پالیسی اور پاکستان کا نیا کوٹہسعودی وزارتِ حج و عمرہ کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایت کے مطابق پاکستان کے لیے حج کا کل کوٹہ اور اس کی تقسیم کی تفصیلات واضح کر دی گئی ہیں۔ پاکستان کو اس بار بھی ایک بڑا اور معقول کوٹہ فراہم کیا گیا ہے جسے دو بنیادی حصوں یعنی سرکاری حج سکیم (Government Hajj Scheme) اور پرائیویٹ حج سکیم (Private Hajj Scheme) میں مساوی طور پر تقسیم کیا گیا ہے۔ سرکاری حج سکیم کے تحت وہ عام شہری سفر کرتے ہیں جو حکومت کی جانب سے لگائی جانے والی قرعہ اندازی میں حصہ لیتے ہیں، جبکہ پرائیویٹ سکیم کے تحت منظور شدہ حج ٹور آپریٹرز کے ذریعے حج کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ تمام ڈسٹری بیوشن کا عمل شفاف رہے اور ہر شہری کو برابر کا موقع مل سکے۔
درخواستوں کی وصولی اور قرعہ اندازی کا طریقہ کار
وزارتِ مذہبی امور نے سرکاری حج سکیم کے لیے درخواستوں کی جمع آوری کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔ تمام امیدوار اپنے قریبی منظور شدہ بنکوں کے ذریعے آن لائن یا بالمشافہ درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔ درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ ان کے پاس کم از کم چھ ماہ کی مدت والا درست پاکستانی پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ موجود ہو۔ درخواستوں کی چھان بین کے بعد ایک شفاف کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی کے ذریعے کامیاب عازمینِ حج کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ حکومت نے اس بار سپانسرشپ سکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت بیرونِ ملک مقیم پاکستانی یا ان کے وہ عزیز و اقارب جو غیر ملکی کرنسی یعنی امریکی ڈالر میں تمام اخراجات ادا کریں گے، انہیں بغیر کسی قرعہ اندازی کے براہِ راست حج کا کوٹہ دیا جائے گا۔
جدید ویزا قوانین اور ڈیجیٹل عمل
ٹیکنالوجی کے اس دور میں سعودی حکومت نے حج اور عمرہ ویزا کے عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور پیپر لیس بنا دیا ہے۔ اب عازمین کو ویزا کے لیے روایتی طریقہ کار یا سفارت خانے کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمام ویزے نسک (Nusuk) ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور الیکٹرانک ویزا سسٹم کے ذریعے جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف ویزا حاصل کرنے کے عمل میں شفافیت آئی ہے بلکہ وقت کی بھی بے تحاشا بچت ہوتی ہے۔ تمام عازمینِ حج و عمرہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ سفر سے قبل اپنی بائیومیٹرک تصدیق یعنی سعودی ویزا بائیو (Saudi Visa Bio) ایپ کے ذریعے اپنے فنگر پرنٹس اور چہرے کی تصدیق کا عمل لازمی مکمل کریں۔ بائیومیٹرک تصدیق کے بغیر ویزا کا اجراء ممکن نہیں ہوگا۔
طبی شرائط، ویکسینیشن اور صحت کی گائیڈ لائنز
مناسکِ حج کے دوران شدید گرمی، جفاکشی اور لاکھوں کے ہجوم کو مدنظر رکھتے ہوئے عازمینِ حج کی صحت اور سلامتی کے لیے سخت طبی ضوابط نافذ کیے گئے ہیں۔ سعودی وزارتِ صحت کی جانب سے تمام عازمین کے لیے گردن توڑ بخار یعنی مائلنجائٹس (Meningococcal Meningitis) اور پولیو کی ویکسینیشن کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موسمی فلو کی ویکسین لگوانا بھی مفید قرار دیا گیا ہے۔ شدید بیمار، گردے کے مسائل کا شکار اور انتہائی معمر افراد کے لیے طبی سرٹیفکیٹ کی شرط رکھی گئی ہے تاکہ سفر کے دوران ان کی جان کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے جگہ جگہ میڈیکل کیمپ قائم کیے جائیں گے جہاں تمام عازمین کا مکمل طبی معائنہ کیا جائے گا اور انہیں ہیلتھ فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں رہائش اور طعام کے انتظامات
سرکاری حج سکیم کے تحت جانے والے عازمین کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اعلیٰ معیار کی رہائش، ٹرانسپورٹ اور کھانے پینے کے زبردست انتظامات کیے گئے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں حرم شریف کے قریب ترین بلڈنگز کا انتخاب کیا گیا ہے اور جہاں رہائش حرم سے دور ہے وہاں عازمین کی سہولت کے لیے چوبیس گھنٹے مفت بس سروس کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ عازمین نمازوں کی باقاعدگی سے ادائیگی کر سکیں۔ مدینہ منورہ میں مرکزیہ کی حدود میں رہائش فراہم کی جائے گی تاکہ عازمین سجدہ گاہِ نبوی اور روضہ رسول پر بآسانی حاضری دے سکیں۔ اس کے علاوہ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں جدید ایئر کنڈیشنڈ خیمے اور صحت بخش پاکستانی کھانا فراہم کرنے کی مکمل منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
عمرہ ویزا پالیسی اور نئی اپ ڈیٹس
عمرہ زائرین کے لیے بھی سعودی حکومت نے کئی آسانیاں پیدا کی ہیں۔ اب دنیا بھر سے آنے والے مسلمان سیاحتی ویزا، بزنس ویزا یا ٹرانزٹ ویزا پر بھی عمرہ کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔ عمرہ ویزا کی مدت اب 90 دن تک بڑھا دی گئی ہے جس کے دوران زائرین نہ صرف مکہ اور مدینہ کی زیارت کر سکتے ہیں بلکہ سعودی عرب کے دیگر تاریخی شہروں جیسے جدہ، طائف اور العلا کی سیر بھی کر سکتے ہیں۔ نسک (Nusuk) ایپ کے ذریعے روضہ رسول پر حاضری اور ریاض الجنہ میں نماز کی ادائیگی کے لیے پرمٹ حاصل کرنا انتہائی آسان اور لازمی کر دیا گیا ہے۔ بغیر پرمٹ ریاض الجنہ میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، اس لیے تمام زائرین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان سے روانگی سے قبل ہی اپنی ایپ پر ٹائم سلاٹ بک کر لیں۔
حج اخراجات اور پیکیج کی تفاصیل
پاکستان میں افراطِ زر اور ڈالر کی قیمت میں مسلسل تبدیلی کی وجہ سے حج اخراجات پر بھی اثر پڑا ہے۔ تاہم حکومتِ پاکستان نے تمام ممکنہ اقدامات کر کے پیکیج کو مناسب ترین بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس بار سرکاری حج پیکیج کے دو بنیادی اختیارات دیے گئے ہیں یعنی لانگ پیکیج جو تقریباً 38 سے 40 دن پر مشتمل ہوتا ہے، اور شارٹ پیکیج جو 20 سے 25 دن کا ہوتا ہے۔ شارٹ پیکیج ان کاروباری اور ملازمت پیشہ افراد کے لیے ہے جو زیادہ دن کی چھٹی حاصل نہیں کر سکتے۔ سرکاری حج پیکیج کی تخمینی قیمت ساڑھے 10 لاکھ سے 12 لاکھ روپے کے درمیان رکھی گئی ہے جبکہ پرائیویٹ حج پیکیج خریدار کی سہولیات کے انتخاب کے مطابق 15 لاکھ سے 30 لاکھ روپے سے اوپر تک جا سکتا ہے۔
عازمین کی تربیت اور آگاہی کیمپ
حج کا سفر صرف ایک جسمانی سفر نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی تجربہ اور طریقہ کار پر مبنی عبادت ہے۔ مناسکِ حج کی صحیح اور درست ادائیگی کے لیے تمام عازمین کو تربیت دینا انتہائی ضروری ہے۔ حکومتِ پاکستان ہر سال کی طرح اس بار بھی تمام اضلاع کی سطح پر حج تربیتی کیمپس کا انعقاد کر رہی ہے۔ ان کیمپس میں علماء کرام اور تجربہ کار اساتذہ عازمین کو احرام باندھنے کا طریقہ، طواف، سجدہ، سعی، رامی یعنی جمرات پر کنکریاں مارنے کے اصول اور سفر کے دوران درپیش آنے والے انتظامی و طبی مسائل کے بارے میں تفصیلی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ تمام منتخب عازمین کے لیے ان تربیتی نشستوں میں شرکت کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

