گوگل میپس (Google Maps) کی سیٹلائٹ تصاویر کا معائنہ
سائنس اور فلکیات کی دنیا میں ایک حیران کن اور نایاب دریافت سامنے آئی ہے۔ "اسمتھ سونین میگزین" (Smithsonian Magazine) کی رپورٹ کے مطابق، ایک غیر پیشہ ور سائنسی محقق اور فلکیات کے شوقین شہری نے گوگل میپس (Google Maps) کی سیٹلائٹ تصاویر کا معائنہ کرتے ہوئے زمین کی سطح پر ایک عجیب دائرہ نما نشان (Indentation) دیکھا، جو بعد میں سائنسدانوں کی تحقیق کے بعد 390 ملین (39 کروڑ) سال پرانا شہابِ ثاقب کا گڑھا (Meteorite Crater) ثابت ہوا ہے۔
ابتدائی طور پر اس شخص نے دیکھا کہ روایتی نقشوں اور تصاویر میں زمین کی ساخت عام جغرافیائی بناوٹ سے مختلف اور گول تھی۔ اس نے اس دریافت کے بارے میں ماہرِ ارضیات اور سائنسی ٹیموں کو آگاہ کیا۔ ارضیاتی ماہرین نے جب موقع پر جا کر چٹانوں اور مٹی کے نمونوں کا فارنسک تجزیہ کیا تو وہاں انتہائی تیز رفتار اور شدید دباؤ کے باعث پیدا ہونے والے خاص قسم کے معدنیاتی اور سائنسی اثرات (Impact Glass / Shatter Cones) پائے گئے، جو صرف خلا سے گرنے والے شہابِ ثاقب کی ٹکر سے ہی وجود میں آتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ گڑھا ڈیوونین دور (Devonian Period) کا ہے، جس سے زمین کی قدیم ارضیاتی تاریخ اور ماضی میں ہونے والے خلائی تصادموں کو سمجھنے میں زبردست مدد ملے گی۔ ماہرین نے اس دریافت کو عام شہریوں کی سائنسی کاوشوں (Citizen Science) کی ایک بہترین مثال قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے اب عام انسانوں کے لیے بھی ارضیاتی رازوں کو افشا کرنا آسان بنا دیا ہے۔

