ہالی ووڈ کی نامور اداکارہ اور آسکر ایوارڈ یافتہ جینا ڈیوس (Geena Davis)
ہالی ووڈ کی نامور اداکارہ اور آسکر ایوارڈ یافتہ جینا ڈیوس (Geena Davis) نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے کہ انہیں 1980ء کی دہائی کی ایک مشہور اور 'کلٹ کلاسک' (Cult Classic Movie) فلم میں مرکزی کردار دینے سے صرف اس بنیاد پر انکار کر دیا گیا تھا کہ وہ اس کردار کے لیے 'کافی خوبصورت اور پرکشش' (Not Attractive Enough) نہیں ہیں۔ جینا ڈیوس، جو اپنے شاندار کیریئر میں کئی یادگار کردار ادا کر چکی ہیں، نے بتایا کہ یہ واقعہ ان کے کیریئر کے ابتدائی دور کا ہے، جب ایک فلم ساز نے ان کے بارے میں یہ سخت تبصرہ کیا۔
اداکارہ نے اس مخصوص فلم کا نام ظاہر نہیں کیا، لیکن انہوں نے اس تجربے کو انتہائی تکلیف دہ اور حوصلہ شکن قرار دیا۔ جینا ڈیوس کا کہنا ہے کہ اس وقت ہالی ووڈ انڈسٹری میں خواتین اداکاروں کے لیے خوبصورتی کے معیارات انتہائی سخت اور غیر منصفانہ تھے، اور ان کے ٹیلنٹ سے زیادہ ان کی ظاہری شکل و صورت کو ترجیح دی جاتی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تنقید نے ان کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور محنت جاری رکھی، جس کے نتیجے میں وہ بالآخر ہالی ووڈ کی سب سے کامیاب اداکاروں میں سے ایک بنیں۔
جینا ڈیوس نے، جنہوں نے "دیلمہ اور لوئیس" (Thelma & Louise) اور "اے لیگ آف دیر اون" (A League of Their Own) جیسی سپر ہٹ فلموں میں مرکزی کردار ادا کیے، اپنے اس انکشاف کے ذریعے ہالی ووڈ میں صنفی تعصب اور ظاہری شکل پر مبنی تنقید پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اب حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں، لیکن انڈسٹری میں اب بھی بہت سی خواتین کو اس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جینا ڈیوس اب اپنی تنظیم "جینا ڈیوس انسٹی ٹیوٹ آن جینڈر ان میڈیا" (Geena Davis Institute on Gender in Media) کے ذریعے میڈیا میں خواتین کے مثبت اور غیر جانبدارانہ کرداروں کے لیے کام کر رہی ہیں۔

