غیر ملکی خواتین کیس(Foreign Women Case)
سنگاپور کی رات ہمیشہ کی
طرح روشن تھی۔ بلند و بالا عمارتوں پر پڑتی روشنی یوں محسوس ہو رہی تھی جیسے پورا
شہر شیشے سے تراشا گیا ہو۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار، ٹیکنالوجی ماہرین اور Cryptocurrency
Investment کے بڑے نام ایک عالمی
بزنس کانفرنس میں شریک تھے۔
انہی مہمانوں میں ایک شخص
بھی موجود تھا
اس کا نام تھا ڈار ۔
ڈار بظاہر ایک کامیاب
تاجر تھا۔ اس کی کئی کمپنیاں مختلف ملکوں میں رجسٹرڈ تھیں۔ اس کے پاس دولت کی کمی
نہیں تھی، لیکن اسے ہمیشہ ایک ایسی سرمایہ کاری کی تلاش رہتی تھی جو کم وقت میں کئی
گنا منافع دے سکے۔
وہ کانفرنس کے اختتامی سیشن
کے بعد ہوٹل کی لابی میں بیٹھا کافی پی رہا تھا کہ دو غیر ملکی خواتین اس کی میز
کے قریب آئیں۔
"مسٹر
ڈار؟"
ڈار نے سر اٹھایا۔
"جی،
فرمائیے۔"
پہلی خاتون نے مسکراتے
ہوئے ہاتھ بڑھایا۔
"میرا
نام ایوا ہے،
اور یہ میری پارٹنر صوفیہ ہیں۔"
دونوں خواتین ایشیا کی
مشہور Blockchain Investigation اور Digital
Asset Management کمپنی سے وابستہ تھیں۔
مختصر تعارف کے بعد گفتگو
شروع ہوئی۔
"ہم
صرف ان لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں جو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔"
ایوا نے ٹیبل پر ایک ٹیبلٹ
رکھا۔
اسکرین پر گزشتہ تین سال
کے گراف نمودار ہوئے۔
ہر گراف اوپر جا رہا تھا۔
ڈار کی آنکھوں میں چمک
آگئی۔
"کتنا
منافع؟"
صوفیہ نے جواب دیا۔
"شروع
میں پندرہ فیصد، پھر پچیس، اور اگر مارکیٹ مستحکم رہی تو چالیس فیصد تک بھی جا
سکتا ہے۔"
ڈار چونک گیا۔
چالیس فیصد؟
اس نے زندگی میں بہت سے
منصوبے دیکھے تھے، لیکن اتنی بلند شرح منافع نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا۔
اگلے تین دن ملاقاتیں جاری
رہیں۔
ہر ملاقات میں خواتین
مکمل ریکارڈ، لائسنس، بین الاقوامی بینکنگ دستاویزات اور سرمایہ کاری کے نمونے
دکھاتیں۔
ہر چیز قانونی دکھائی دیتی
تھی۔
آخرکار ڈار نے پہلا قدم
اٹھا لیا۔
اس نے ابتدائی سرمایہ کاری
کر دی۔
صرف ایک ماہ بعد اس کے
اکاؤنٹ میں غیر معمولی منافع آیا۔
پھر دوسرا مہینہ آیا۔
منافع مزید بڑھ گیا۔
تیسرے مہینے تک واپسی تقریباً
چالیس فیصد تک پہنچ چکی تھی۔
ڈار خوش تھا۔
وہ ہر محفل میں اسی
منصوبے کا ذکر کرنے لگا۔
کچھ ہی ہفتوں میں اس کے تین
کاروباری ساتھی بھی اس منصوبے میں شامل ہوگئے۔
ان کے نام تھے:
حمزہ... سلمان... اور
وقاص...
چاروں نے مل کر کروڑوں
روپے کی سرمایہ کاری کی۔
شروع میں ہر چیز خواب جیسی
لگ رہی تھی۔
پھر اچانک...
مارکیٹ بدل گئی۔
کرپٹو مارکیٹ میں شدید
اتار چڑھاؤ آیا۔
Bitcoin
Crash اور
Crypto Market Correction کی
خبریں دنیا بھر میں پھیل گئیں۔
منافع کم ہونا شروع ہوگیا۔
چالیس فیصد... تیس... بیس... پھر
صرف سات فیصد۔
ڈار کے چہرے سے مسکراہٹ
غائب ہوگئی۔
"یہ
کیا ہو رہا ہے؟" اس
نے ویڈیو کال پر ایوا سے پوچھا۔
ایوا نے پرسکون لہجے میں
جواب دیا۔
"مارکیٹ
میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے۔"
"لیکن
ہمیں مزید سرمایہ چاہیے تاکہ نئی پوزیشن کھولی جا سکے۔"
ڈار نے کال بند کردی۔کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
وقاص بولا۔
"ہم
نے بہت بڑا رسک لیا ہے۔"
حمزہ نے میز پر ہاتھ
مارا۔
"اگر
یہ خواتین ہمارے ملک آ جائیں تو سب کچھ سامنے آ جائے گا۔"
ڈار خاموش بیٹھا رہا۔ چند لمحوں بعد اس نے سر
اٹھایا۔
"انہیں
بلاتے ہیں۔"
چند دن بعد ایک نئی تجارتی
پیشکش تیار کی گئی۔
ایوا اور صوفیہ کو بتایا
گیا کہ مزید سرمایہ کاری کی جائے گی۔
رقم پہلے سے کئی گنا زیادہ
تھی۔
یہ سن کر دونوں خواتین نے
سفر کی تیاری شروع کردی۔
انہیں یقین تھا کہ یہ ان
کی کمپنی کی سب سے بڑی ڈیل ثابت ہوگی۔
ادھر...
ایک اور جگہ...
ملک کے سب سے محفوظ علاقے
میں واقع ایک جدید عمارت کے تہہ خانے میں کئی بڑی اسکرینیں روشن تھیں۔
یہ خصوصی تحقیقاتی مرکز تھا۔
وہاں بیٹھا ایک شخص خاموشی
سے مختلف مالیاتی ریکارڈ دیکھ رہا تھا۔
اس کی نظریں تیز تھیں۔
چہرہ پرسکون تھا۔
اس کا نام تھا...
جاسوس عمران۔
اس کے سامنے بین الاقوامی
مالی لین دین کا نقشہ کھلا ہوا تھا۔
ایک سرخ نقطہ سنگاپور سے
شروع ہو کر کئی ممالک میں تقسیم ہو رہا تھا۔
عمران نے اسکرین زوم کی۔
"عجیب
بات ہے..."
اس نے خود سے کہا۔
"اتنی
بڑی رقم مختلف کمپنیوں کے ذریعے کیوں گھوم رہی ہے؟"
اس نے اپنے معاون ٹائیگر کو بلایا۔
"یہ
تمام ٹرانزیکشنز نکالو۔"
ٹائیگر نے چند لمحوں بعد جواب دیا۔
"سر...
ایک نام بار بار سامنے آ رہا ہے۔"
"کون؟"
"ڈار۔"
عمران نے کچھ نہیں کہا۔
صرف فائل بند کر دی۔
چند دن بعد ایوا اور صوفیہ
نجی پرواز کے ذریعے ملک پہنچ گئیں۔
ہوائی اڈے پر ان کا
پرتپاک استقبال کیا گیا۔
فائیو سٹار ہوٹل میں کمرے بک تھے۔
اگلے دن میٹنگ طے تھی۔
سب کچھ معمول کے مطابق لگ
رہا تھا۔
مگر...
اصل کھیل ابھی شروع ہونا
تھا۔
رات کے تقریباً گیارہ بج
رہے تھے۔
ہوٹل کی لابی تقریباً خالی
تھی۔
ایوا اور صوفیہ ایک گاڑی
میں بیٹھیں۔
ڈرائیور نے بتایا۔
"سر
نے فارم ہاؤس پر ڈنر رکھا ہے۔"
دونوں مطمئن ہو گئیں۔
گاڑی شہر سے نکل کر سنسان
سڑک پر آگئی۔
ایوا نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
"یہ
راستہ ہوٹل سے مختلف ہے۔"
ڈرائیور خاموش رہا۔
چند منٹ بعد گاڑی ایک بڑے
گیٹ کے اندر داخل ہوئی۔
گیٹ بند ہوگیا۔
دونوں خواتین ایک دوسرے کی
طرف دیکھنے لگیں۔
انہیں پہلی بار خطرے کا
احساس ہوا۔
اسی وقت...
تحقیقاتی مرکز میں ایک
سسٹم نے اچانک الارم دیا۔
ایک موبائل نمبر، جو بین
الاقوامی بزنس وفد کے لیے رجسٹر تھا، اچانک اپنی معمول کی لوکیشن سے غائب ہو گیا
تھا۔
ٹائیگر نے فوراً عمران کو اطلاع دی۔
"سر...
دونوں غیر ملکی مہمانوں کے فون ایک ہی مقام پر رک گئے ہیں۔"
عمران نے اسکرین دیکھی۔
"یہ
ہوٹل نہیں ہے..."
اس نے نقشے پر انگلی رکھی۔
"یہ
تو شہر سے باہر ایک نجی فارم ہاؤس ہے۔"
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
عمران نے گہری سانس لی۔
"تمام
دستیاب معلومات اکٹھی کرو۔"
"مجھے
محسوس ہو رہا ہے..."
"یہ
صرف Crypto Scam
یا Financial
Crime کا معاملہ نہیں..."
"اس
کے پیچھے بہت بڑی سازش چھپی ہوئی ہے۔"
وہ اپنی کرسی سے اٹھا،
کوٹ پہنا اور روانہ ہونے لگا۔
دروازے تک پہنچ کر اس نے
صرف ایک جملہ کہا:
"آج
رات کوئی نہ کوئی بڑی غلطی ضرور کرے گا... اور وہی غلطی ہمیں اصل مجرم تک پہنچائے
گی۔"
کمرے کی تمام اسکرینوں پر
ایک ہی نام چمک رہا تھا—
Operation Crypto Trap

