Fed Chair Powell Signals Rate Cut – Is a Recession Coming?

Fed Chair Powell Signals Rate Cut – Is a Recession Coming?

فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے آنے والے دنوں میں شرح سود میں کمی کا واضح اشارہ دے دیا ہے، جس کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ اس فیصلے نے جہاں ایک طرف سرمایہ کاروں کو امید کی کرن دکھائی ہے، وہی دوسری طرف معاشی ماہرین کے درمیان یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ کیا امریکہ اور عالمی معیشت کسی بڑے کساد بازاری (Recession) کی طرف بڑھ رہی ہے؟

Fed Chair Powell Signals Rate Cut – Is a Recession Coming?

شرح سود میں کمی کا پس منظر اور فیڈ چیئرمین کا بیان

جیروم پاول نے اپنے حالیہ خطاب میں واضح کیا کہ افراط زر (مہنگائی) کو کنٹرول کرنے کے لیے کی جانے والی کوششیں اب مثبت نتائج دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق، اب وقت آ گیا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی کی جائے اور اقتصادی نمو کو سہارا دینے کے لیے شرح سود کو نیچے لایا جائے۔ امریکی فیڈرل ریزرو نے گزشتہ کچھ عرصے میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود کو تاریخی بلندی پر برقرار رکھا تھا، تاہم اب لیبر مارکیٹ پر پڑنے والے دباؤ کے باعث پالیسی کو نرم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

کیا یہ کساد بازاری (Recession) کا پیش خیمہ ہے؟

تاریخی طور پر جب بھی مرکزی بینک شرح سود میں تیزی سے کمی کرتے ہیں، تو اسے معاشی سستی کا اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ اکثر ماہرین کا ماننا ہے کہ جب معیشت خودبخود نمو نہ کر پا رہی ہو، تب ہی بینکوں کو سود کی شرح کم کر کے معاشی سرگرمیوں کو مصنوعی سہارادینا پڑتا ہے۔ اگر امریکی لیبر مارکیٹ میں مزید کمزوری آتی ہے اور روزگار کے مواقع گھٹتے ہیں، تو یہ سست روی جلد ہی ایک باضابطہ کساد بازاری کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

عالمی منڈیوں اور عام عوام پر اس کے اثرات

شرح سود میں کمی کے اس اشارے کا اثر اسٹاک مارکیٹ، سونے کی قیمتوں اور کرنسی کے تبادلے کی شرح پر فوراً دیکھا گیا۔ سرمائے کی لاگت سستی ہونے سے کاروباری اداروں کے لیے قرض لینا آسان ہو جائے گا، جس سے مختصر مدت کے لیے مارکیٹ میں تیزی آ سکتی ہے۔ تاہم، طویل المدتی بنیادوں پر اگر کساد بازاری آتی ہے تو اس سے عالمی تجارت اور پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں پر بھی سست روی کے اثرات مرتب ہوں گے۔

جیروم پاول

فیڈ چیئرمین جیروم پاول کا یہ بیان ایک طرف معاشی نقطہ نظر سے خوش آئند ہے لیکن دوسری طرف اس نے بڑے معاشی خدشات کو جنم دیا ہے۔ آنے والے چند ماہ اس بات کا تعیّن کریں گے کہ آیا امریکی معیشت "سافٹ لینڈنگ" کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر دنیا کو ایک اور کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔