بدنامِ زمانہ امریکی سرمایہ دار جیفری اپسٹین (Jeffrey Epstein)
فرانس (France) کے دارالحکومت پیرس کی جیل میں بدنامِ زمانہ امریکی سرمایہ دار جیفری اپسٹین (Jeffrey Epstein) کے قریبی حامی اور ماڈل اسکاؤٹ ژاں لوک برونیل (Jean-Luc Brunel) پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں اور "اے بی سی نیوز" (ABC News) کی رپورٹ کے مطابق، 75 سالہ برونیل پر کمسن لڑکیوں کے جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے سنگین الزامات کے تحت تحقیقات جاری تھیں۔
پیرس کے استغاثہ (Paris Prosecutor's Office) نے تصدیق کی ہے کہ برونیل کی لاش "لا سانتے" (La Santé) جیل کے ایک سیل میں ملی ہے، جہاں ابتدائی شواہد خودکشی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ فرانسیسی حکام نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ژاں لوک برونیل پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ ایجنسیوں کے ذریعے نو عمر لڑکیوں کو جیفری اپسٹین اور اس کے اثر و رسوخ والے دوستوں کے پاس فراہم کرنے والے بین الاقوامی نیٹ ورک کا بنیادی حصہ تھے۔
اس ہائی پروفائل ملزم کی اچانک موت کے بعد متاثرہ خواتین اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے شدید مایوسی اور صدمے کا اظہار کیا ہے، کیونکہ عدالت میں ٹرائل سے پہلے برونیل کی موت سے کیس کا حتمی منطقی انجام متاثر ہوا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جیفری اپسٹین کے بعد اس کے اہم ترین ساتھی کی جیل میں موت نے اس بین الاقوامی سکینڈل کے گرد چھائے پراسرار رازوں کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

