پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ترمیم (Daily Price Revisions)
پاکستان کی پیٹرولیم انڈسٹری (Petroleum Industry) نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ترمیم (Daily Price Revisions) کی تجاویز پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ "دی ایکسپریس ٹریبیون" (The Express Tribune) کی رپورٹ کے مطابق، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) اور انڈسٹری ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں تبدیلی سے نہ صرف پیٹرولیم سیکٹر میں عدم استحکام پیدا ہوگا بلکہ اس سے سپلائی چین (Supply Chain) اور مالیاتی خطرات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا۔
انڈسٹری ذرائع کا موقف ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل (Crude Oil) کی قیمتوں اور ایکسچینج ریٹ (Exchange Rate) میں اتھل پتھل کے باعث روزانہ کی بنیاد پر نرخ مقرر کرنا انتہائی پیچیدہ عمل ہوگا۔ اس سے نہ صرف آئل کمپنیوں اور ڈیلرز کو انوینٹری مینجمنٹ (Inventory Management) میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ پیٹرول پمپس پر ذخیرہ اندوزی اور مصنوعات کی قلت کا خدشہ بھی جنم لے سکتا ہے۔
حکومت اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کے ساتھ ہونے والے اجلاسوں میں پیٹرولیم انڈسٹری نے سفارش کی ہے کہ قیمتوں میں یکلخت تبدیلی کے بجائے موجودہ پندرہ روزہ نظام (Fortnightly System) کو برقرار رکھا جائے یا مرحلہ وار اصلاحات کی جائیں۔ ماہرین کے مطابق اگر روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کی گئیں تو اس سے صارفین پر بوجھ پڑے گا اور ملک میں معاشی تحفظ کو نقصان پہنچے گا۔

