"72ویں نیشنل فلم ایوارڈز" (72nd National Film Awards)
بھارتی سنیما اور عالمی تفریحی دنیا کی ہسٹری میں اس وقت ایک زبردست بھونچال اور بحث و مباحثہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جس کی گونج تمام آن لائن فورمز پر یکساں طور پر سنی جا رہی ہے۔ بھارتی حکومت کے باوقار ادارہ برائے فلمی اعزازات کی جانب سے نئی دہلی میں "72ویں نیشنل فلم ایوارڈز" (72nd National Film Awards) کی باضابطہ تقریبِ رونمائی کا انعقاد کیا گیا، جس میں سال 2024ء میں ریلیز ہونے والی فلموں کی بہترین کارکردگیوں کو نوازا گیا۔ لیکن ایوارڈز کی رسمی فہرست کے اعلان کے ساتھ ہی "72nd National Film Awards SHOCKER – Best Actor Snub Goes Viral!" کی سرخیاں انٹرنیٹ پر تیزی سے گردش کرنے لگی ہیں اور دنیا بھر کے فلمی شائقین، ڈائریکٹرز اور ناقدین میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
نیشنل فلم ایوارڈز جیوری نے اس سال بہترین اداکار (Best Actor in a Leading Role) کا اعزاز مشترکہ طور پر ملیالم سنیما کے مایہ ناز اور سینئر اداکار ماموٹی (Mammootty) کو ان کی ڈارک ہارر فلم "برامیوگم" (Bramayugam) اور بالی ووڈ اداکار کارتک آرین (Kartik Aaryan) کو بائیوگرافیکل اسپورٹس ڈرامہ "چندو چیمپئن" (Chandu Champion) میں کارکردگی کی بنیاد پر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ ماموٹی کی فتح اور ان کے چوتھے نیشنل ایوارڈ کی تعریف کی جا رہی ہے، لیکن جس چیز نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کیا ہے، وہ جنوبی ہند کی دو سب سے بڑی اور تاریخ ساز اداکاریوں کی مکمل نظر اندازی اور غیر متوقع "اسنب" (Snub) ہے۔
وائرل ہونے والی تنقیدی بحث کا بنیادی مرکز جنوبی ہند کے ورسٹائل اور سپر اسٹار اداکار پرتھوی راج سوکمارن (Prithviraj Sukumaran) کا بلاک بسٹر فلم "دی گوٹ لائف" (Aadujeevitham - The Goat Life) میں نبھایا گیا مرکزی کردار ہے۔ پرتھوی راج نے اس سچی کہانی پر مبنی فلم کے لیے اپنی جسمانی ساخت کو بالکل تبدیل کر دیا تھا اور کئی کلوگرام وزن کم کر کے صحرا میں محصور ایک بے بس عربی چرواہے کے جذباتی جذبات کو لائیو فریم پر زندہ کیا تھا۔ فلمی ناقدین اور شائقین کا پختہ یقین تھا کہ 72ویں نیشنل فلم ایوارڈز میں بہترین اداکار کا تاج بلا شبہ پرتھوی راج سوکمارن کے سر سجے گا، لیکن ان کا نام ایوارڈز کی حتمی فہرست سے غائب ہونا سب کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوا ہے۔
اسی ہنگامے اور تحیر کو مزید تقویت تامل سنیما کے لیجنڈری اداکار چیان وکرم (Chiyan Vikram) کی فلم "تھنگالان" (Thangalaan) میں کی گئی بے مثال اداکاری کو نظر انداز کیے جانے سے ملی۔ کولار گولڈ فیلڈز کی تاریخ پر مبنی اس پیریڈ ایکشن فلم کے لیے چیان وکرم نے ناقابلِ یقین حد تک سخت محنت کی اور اپنے روپ کو مکمل طور پر تبدیل کر کے ایک قبائلی رہنما کا کردار ادا کیا۔ وکرم کی لگن، جسمانی قربانی اور بے باک اداکاری کی تعریف دنیا بھر کے فلمی میلوں میں کی گئی تھی، لیکن جیوری کی جانب سے انہیں کسی بھی زمرے میں سراہا نہ جانا شائقین کے لیے ناقابلِ برداشت بن چکا ہے۔
اس فیصلے کے فوراً بعد ڈجیٹل پلیٹ فارمز بشمول ایکس (Twitter)، یوٹیوب، اور فیس بک پر #JusticeForPrithviraj، #ChiyaanVikramSnubbed، #NationalFilmAwards2026 اور #Aadujeevitham جیسے ہیش ٹیگز عالمی سطح پر ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہو چکے ہیں۔ لاکھوں سینما مداحوں اور فلمی ریویورز نے ایوارڈ جیوری کی شفافیت اور معیار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ شائقین کا کہنا ہے کہ تجارتی کامیابی اور مقبولیت کی بنیاد پر فن اور لازوال کارکردگی کو قربان کر دیا گیا ہے، اور "دی گوٹ لائف" جیسی ماسٹر پیس فلم کے ساتھ سراسر ناانصافی کی گئی ہے۔
دیگر زمروں کی بات کریں تو 72ویں نیشنل فلم ایوارڈز میں سیاسی تھرلر فلم "آرٹیکل 370" (Article 370) نے بہترین فیچر فلم (Best Feature Film) کا ایوارڈ حاصل کیا، جبکہ اسی فلم کے لیے یامی گوتم (Yami Gautam) کو بہترین اداکارہ (Best Actress in a Leading Role) کے اعزاز سے نوازا گیا۔ بہترین ڈائریکشن کا ایوارڈ تامل بلاک بسٹر "امارن" (Amaran) کے ہدایت کار راجکمار پیریار سامی کے نام رہا۔ اگرچہ ان فتوحات کی تعریف کی گئی، لیکن تمام تر توجہ اور بحث کی مرکزی پیشرفت صرف اور صرف "Best Actor Snub" کے گرد ہی گھوم رہی ہے۔
فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے متعدد نامور شخصیات اور ڈائریکٹرز نے بھی اس متنازع فیصلے پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ نیشنل ایوارڈز کا بنیادی مقصد ان فنکاروں کو تسلیم کرنا ہوتا ہے جو آرٹ اور آرٹسٹک سنجیدگی کی سرحدوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ پرتھوی راج سوکمارن اور چیان وکرم دونوں کی کارکردگی اس معیار پر سرفہرست تھی، لہٰذا ان کی غیر موجودگی نے نیشنل ایوارڈز کے معتبر امیج اور غیر جانبدارانہ ساکھ کو دھچکا پہنچایا ہے۔
ملیالم فلم انڈسٹری کی دیگر کامیاب فلمیں جیسے "منجمیل بوائز" (Manjummel Boys) کے اداکاروں اور تکنیکی ماہرین کی جانب سے بھی ایوارڈز کے نتائج پر مخفی تنقید کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے پیغامات میں کہا جا رہا ہے کہ حقیقی اور محنت سے بنائے گئے شاہکاروں کو ایوارڈز ملے یا نہ ملے، لیکن عوام کے دلوں میں ان کے لیے جو احترام اور ایوارڈ قائم ہو چکا ہے اسے کوئی جیوری چھین نہیں سکتی۔
خلاصہ یہ کہ "72nd National Film Awards SHOCKER – Best Actor Snub Goes Viral!" کی خبر نے ایک بار پھر ایوارڈز کی میرٹ، جیوری کے فیصلوں اور ریجنل بمقابلہ مین اسٹریم فلموں کے تناؤ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پرتھوی راج سوکمارن اور چیان وکرم کا ایوارڈ سے محروم رہنا شاید نتائج کے کاغذات میں درج رہے، لیکن عالمی شائقین کی نظر میں ان کی لافانی اداکاری ہمیشہ ایک نیشنل ایوارڈ سے بلند تر رہے گی۔

