YT influencer facing backlash after abortion post

YT influencer facing backlash after abortion post

ایشلی (Ashley) نے جینیاتی ٹیسٹ کے بعد اپنے حمل کو ختم (Abortion) کرنے کا فیصلہ

سوشل میڈیا کے معروف انفلوئنسر اور یوٹیوبر جیسی رجوے (Jesse Ridgway)، جنہیں انٹرنیٹ کی دنیا میں 'McJuggerNuggets' کے نام سے جانا جاتا ہے، اور ان کی اہلیہ ایشلی (Ashley) نے جینیاتی ٹیسٹ کے بعد اپنے حمل کو ختم (Abortion) کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جینیاتی ٹیسٹنگ کے نتائج سے معلوم ہوا تھا کہ ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کو ڈاؤن سنڈروم (Down syndrome) ہو سکتا ہے۔ جیسی رجوے نے بدھ کے روز ایک طویل بیان جاری کرتے ہوئے اس کروموسومل خرابی کو اسقاط حمل کی بنیادی وجہ قرار دیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

#BreakingNews #LatestNews #NewsUpdate #PakistanNews #TrendingNow #ViralNews #Headlines #WorldNews #CurrentAffairs #LiveNews #TopStories #BreakingPakistan #MustWatch #ViralPost #NewsAlert

جیسی رجوے نے اپنے بیان میں موقف اختیار کیا کہ ڈاؤن سنڈروم کے ساتھ پیدا ہونے والے کم از کم نصف بچوں میں دل کے نقائص (Heart defects) پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ایسے بچوں میں سننے اور دیکھنے کے مسائل کے ساتھ ساتھ دیگر معذوریوں جیسے سیکھنے اور ذہنی ترقی میں رکاوٹ کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاؤن سنڈروم کوئی نعمت نہیں ہے اور زیادہ تر لوگ اس بیماری کی سنگینی اور اس سے جڑی مشکلات سے واقف نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جینیاتی مشیروں (Genetic counselors) نے انہیں بتایا کہ ٹرائیسومی 21 (Trisomy 21) کی تشخیص کے بعد تقریباً 90 فیصد خواتین حمل ختم کر دیتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن طویل مدت میں ان کے خاندان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ وہ مستقبل میں بہتر نتائج کے ساتھ دوبارہ کوشش کرنے کی امید رکھتے ہیں۔


اس جوڑے نے ٹیسٹ کے نتائج کھولنے اور انہیں پہلی بار پڑھنے کی ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی، جسے رجوے نے انتہائی تکلیف دہ (Traumatic) قرار دیا۔ نتائج پڑھنے کے بعد رجوے نے اعتراف کیا کہ وہ اور ان کی بیوی اسقاط حمل پر غور کریں گے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب ایشلی مسلسل رو رہی تھیں، تو رجوے نے کہا کہ بچہ صحت مند ہے اور ایسی کہانیاں بھی موجود ہیں جہاں ڈاؤن سنڈروم کے بچے بالکل نارمل زندگی گزارتے ہیں۔ اس ویڈیو اور بیان کے سامنے آتے ہی دنیا بھر سے، بالخصوص اسقاط حمل کے مخالف (Pro-life advocates) حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل اور مذمت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔


سوسن بی اینتھونی پرو لائف امریکہ (Susan B. Anthony Pro-Life America) نامی تنظیم نے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے غیر پیدا شدہ بچے کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ تحقیق سے ثابت ہے کہ ڈاؤن سنڈروم کا شکار 99 فیصد افراد اپنے خاندانوں کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارتے ہیں، اس لیے معذوری کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح 'اسٹوڈنٹس فار لائف' کی صدر کرسٹن ہاکنز (Kristan Hawkins) نے اس فیصلے کو اخلاقی طور پر دیوالیہ پن اور یوجینکس (Eugenics) یعنی کمزور نسل کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیا، اور تشویش ظاہر کی کہ سسٹک فائبروسس میں مبتلا ان کا اپنا بیٹا یہ پوسٹ نہ پڑھے۔ پرو لائف ایڈوکیسی گروپ 'لائیو ایکشن' (Live Action) نے بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بچہ جو پیار اور دیکھ بھال کا حقدار تھا، اسے صرف معذور ہونے کی وجہ سے مار دیا گیا۔


دوسری جانب ATTWN کی سی ای او ڈاکٹر ایبی جانسن (Dr. Abby Johnson) نے لکھا کہ ڈاؤن سنڈروم کے حامل بچے جینے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ وہ خدا کی تخلیق ہیں، اور رحمِ مادر میں کسی بچے کا اس وجہ سے قتل کر دینا انتہائی گھناؤنا عمل ہے۔ ایک اور سماجی کارکن کیٹی فوسٹ (Katy Faust) نے ان ماؤں کی مثالیں دیں جنہوں نے ایسی تشخیص کے باوجود بچوں کو جنم دیا اور وہ بچے آج 14 سال کی عمر میں بھی بہترین زندگی گزار رہے ہیں۔ ہیریٹیج فاؤنڈیشن (The Heritage Foundation) نے جیسی رجوے کے اس فیصلے پر طنز کرتے ہوئے ان کی دو ہفتے پرانی ایک پوسٹ کا حوالہ دیا، جہاں رجوے نے اپنے کڈنی فیلئر کے شکار کتے کو چوتھی اسٹیج کی بیماری کے باوجود ایک سال تک لڑنے پر 'سپر ہیرو' قرار دیا تھا، لیکن اپنے ہی بچے کے معاملے میں انہوں نے مختلف راستہ چنا۔