بی-52 اسٹریٹجک بمبار طیارہ (US Air Force B-52 Bomber) کیلیفورنیا میں اڑان بھرنے کے فوری بعد گر کر تباہ
عالمی دفاعی انڈسٹری (Defense Industry)، ہوا بازی کے شعبے اور پینٹاگون کے فوجی حلقوں سے 15 اور 16 جون 2026 کے ان دنوں میں ایک انتہائی تشویشناک اور سنسنی خیز بریکنگ نیوز سامنے آئی ہے۔ بی بی سی نیوز (BBC News)، سی این این پولیٹکس اینڈ ڈیفنس (CNN Politics & Defense) اور عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز (Reuters) کی تازہ ترین پریس کوریج کے مطابق، امریکی فضائیہ کا ایک تاریخی اور انتہائی مایہ ناز بی-52 اسٹریٹجک بمبار طیارہ (US Air Force B-52 Bomber) کیلیفورنیا میں اڑان بھرنے کے فوری بعد گر کر تباہ ہو گیا ہے، جس نے ملکی دفاعی حکام میں ہلچل مچا دی ہے۔
روئٹرز (Reuters Aerospace & Defense) کی خصوصی اور تفصیلی دفاعی رپورٹ کے مطابق، ایڈورڈز ایئر فورس بیس (Edwards Air Force Base) کی انتظامیہ نے آفیشل پریس ریلیز کے ذریعے باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ یہ حادثہ طیارے کے ٹیک آف کرنے کے فوراً بعد پیش آیا (B-52 Bomber Crashes After Takeoff)۔ امریکی فضائیہ کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی بیس پر موجود ہنگامی امدادی ٹیموں، پبلک ریلیشنز (Public Relations) کے حکام اور فائر فائٹرز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا تھا، تاہم طیارے میں لگنے والی شدید آگ پر قابو پانے میں کافی وقت لگا۔
دوسری جانب، سی این این (CNN.com) اور بی بی سی (BBC Articles) کے ملٹری کمنٹیٹرز کے مطابق، یہ حادثہ کیلیفورنیا کے ایڈورڈز کے مقام پر پیش آیا (B-52 Crash Edwards California)۔ بی-52 طیارے امریکی فضائیہ کے طویل فاصلے تک جوہری اور روایتی ہتھیار لے جانے والے بیڑے کا ایک انتہائی اہم ستون مانے جاتے ہیں، اس لیے اس پریمیم طیارے کی تباہی کو امریکی فضائی بیڑے کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ پبلک میڈیا اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر جنریشن زی (Gen Z) اور ہوا بازی کے شوقین صارفین کے مابین اس وقت طیارے کے پائلٹس کی سیکیورٹی، حادثے کی ممکنہ تکنیکی وجوہات اور پینٹاگون کے حفاظتی پروٹوکولز پر زبردست اور سنجیدہ بحث چھیڑ گئی ہے۔
یہ بی-52 بمبار طیارے کا حادثہ ملکی لاجسٹک سیکیورٹی اور فوجی مینوفیکچرنگ کی کمزوریوں کو تفصیلاً دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ روئٹرز، سی این این اور بی بی سی کی یہ مشترکہ ہنگامی کوریج حادثے کی تحقیقات کے لیے قائم اعلیٰ سطحی بورڈ کے تفتیشی مراحل کو واضح کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے گھنٹوں میں ایئر بیس کمانڈرز اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈرز کی رپورٹ کے ذریعے اس ہائی پروفائل فوجی حادثے کی اصل اور حقیقی وجوہات کیا سامنے آتی ہیں اور کیا امریکی فضائیہ اپنے باقی ماندہ بی-52 بیڑے کی پروازوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا کوئی بڑا فیصلہ کرتی ہے یا نہیں۔

