Umar Massih ne Ridaa k sath Zeyati Ki - Today viral Story

Umar Massih ne Ridaa k sath Zeyati Ki - Today viral Story

عمر مسیح(Umar Massih)  نے کی اپنی بیوی کے ساتھ زیادتی

کسی خوبصورت شہر کے ایک پُرسکون محلے میں عمر مسیح اور ردا  (Umar Massih and Ridaa) اپنی تیرہ سالہ ازدواجی زندگی نہایت خوش اسلوبی سے گزار رہے تھے۔ ان کا ایک بارونق گھر تھا، جہاں دو معصوم بچوں کی قہقہے ہر وقت گونجتے رہتے تھے۔ ردا  ایک انتہائی سلیقہ شعار، باحیا اور شوہر کی وفادار بیوی تھی، جس کی زندگی کا محور صرف اس کا گھر اور بچے تھے۔ دوسری طرف عمر مسیح(Umar Massih) ایک نجی کمپنی میں مینیجر تھا، جو بظاہر تو اچھا انسان تھا لیکن اس کی ایک پرانی عادت تھی کہ وہ بہت جلدی دوسروں کی باتوں میں آ جاتا تھا اور اس کے اندر چھپا شک کا کیڑا اکثر بیدار ہو جاتا تھا۔

#BreakingNews #LatestNews #NewsUpdate #PakistanNews #TrendingNow #ViralNews #Headlines #WorldNews #CurrentAffairs #LiveNews #TopStories #BreakingPakistan #MustWatch #ViralPost #NewsAlert

کہانی میں موڑ اس وقت آیا جب عمر مسیح کے دفتر میں ایک نئے حاسد ساتھی کی انٹری ہوئی۔ اس شخص نے عمر مسیح کی ترقی سے جل کر آہستہ آہستہ اس کے کان بھرنا شروع کر دیے۔ ایک دن ردا اپنے بھائی کے ساتھ بازار میں گھر کا راشن لینے گئی ہوئی تھی، جہاںعمر مسیح کے اس ساتھی نے انہیں دیکھ لیا۔ اس نے عمر مسیح(Umar Massih)کو فون پر لگی لپٹی بغیر یہ بات بتائی کہ اس کی بیوی کسی نامعلوم شخص کے ساتھ گھوم رہی ہے۔عمر مسیح، جو پہلے ہی دفتری کام کے دباؤ (Work Stress) کی وجہ سے چڑچڑا ہو رہا تھا، اس نے بغیر سوچے سمجھے اور بغیر کسی تصدیق کے اپنے دل میں ایک خوفناک طوفان کھڑا کر لیا۔


جب عمر مسیح شام کو گھر لوٹا تو غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ردا ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے پانی کا گلاس لے کر آئی، لیکن عمر مسیح نے جھٹکے سے وہ گلاس دیوار پر دے مارا۔ اس سے پہلے کہ ردا کچھ سمجھ پاتی،  عمر مسیح(Umar Massih)  اس پر ایک انتہائی گھناؤنا اور جھوٹا الزام (False Accusation) لگا دیا۔ اس نے چیختے ہوئے کہا کہ ردا کا کسی اور کے ساتھ ناجائز تعلق ہے اور وہ اسے دھوکہ دے رہی ہے۔ معصوم رداکے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ حیرت اور صدمے کی تصویر بنی اپنے اس شوہر کو دیکھ رہی تھی جس پر اس نے زندگی کے تیرہ سال نچھاور کیے تھے۔


ردا نے روتے ہوئے، مقدس کتاب کی قسم کھا کر اور اپنے بھائی کا حوالہ دے کر عمر مسیح کو سچائی بتانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن عمر مسیح(Umar Massih) پر اس وقت غصے اور اندھے شک (Blind Suspicion) کا بھوت سوار تھا۔ اس نے ردا کی ایک نہ سنی اور بچوں کے سامنے ہی اسے بدکردار کہہ کر گھر سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ رات کے اندھیرے میں ردا  اپنے آنسو پونچھتی ہوئی اپنے میکے روانہ ہو گئی، جبکہ بچے سہمے ہوئے کمرے کے کونے میں بیٹھے رو رہے تھے۔ ایک ہنستا کھیلتا خاندان چند منٹوں کی غلط فہمی اور جھوٹے الزام کی بھیٹ چڑھ چکا تھا۔


اگلے چند دن عمر مسیح کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں تھے۔ گھر کا سکون برباد ہو چکا تھا اور بچے ماں کی جدائی میں نڈھال تھے۔ اسی دوران عمر مسیح کی ساس اور سالے نے عمر مسیح(Umar Massih) سے ملاقات کی اور اسے اس دن کی تمام سی سی ٹی وی (CCTV Footages) اور ثبوت دکھائے کہ ردا واقعی اپنے سگے بھائی کے ساتھ شاپنگ مال میں موجود تھی۔ سچائی سامنے آتے ہی عمر مسیح کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے ایک پاکدامن عورت کی عزت پر کیچڑ اچھالا تھا اور اپنے حاسد دوست کی جھوٹی باتوں میں آ کر اپنی جنت جیسے گھر کو خود اپنے ہاتھوں سے آگ لگا دی تھی۔


شدید پشیمانی اور ندامت کے آنسو لیے عمر مسیح(Umar Massih)  ردا کے گھر پہنچا اور اس کے پیروں میں گر کر معافی مانگنے لگا۔ لیکن ردا دل پر جو گہرا زخم لگا تھا، وہ اتنی جلدی بھرنے والا نہیں تھا۔ردا نےعمر مسیح(Umar Massih) کو معاف تو کر دیا اور بچوں کی خاطر گھر بھی واپس آ گئی، لیکن ان کے رشتے سے وہ پرانا اعتبار اور محبت ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکی تھی۔ یہ کہانی ہمیں سبق دیتی ہے کہ بغیر تحقیق کے لگایا گیا جھوٹا الزام اور شک (Distrust) انسان کے ضمیر کو ہمیشہ کے لیے مجروح کر دیتا ہے اور ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرح رشتوں کو دوبارہ جوڑنا ناممکن ہو جاتا ہے۔