Trump Signs Executive Order Reviving Schedule F: Reclassifies 8,000 Federal Workers

Trump Signs Executive Order Reviving Schedule F: Reclassifies 8,000 Federal Workers

 ہزاروں کیریئر افسران (Federal Workers)کو نوکریوں سے برطرف کرنا اب انتہائی آسان

امریکی سیاست، بیوروکریسی اور وائٹ ہاؤس کے انتظامی ڈھانچے سے 3 جون 2026 کو ایک انتہائی اہم، متنازع اور دور رس نتائج کی حامل خبر سامنے آئی ہے۔تازہ ترین بریکنگ رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وفاقی ملازمین کی ملازمت کے تحفظات کے خلاف ایک بڑا ایکشن لیتے ہوئے ایک نئے انتظامی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت واشنگٹن میں موجود ہزاروں کیریئر افسران کو نوکریوں سے برطرف کرنا اب انتہائی آسان ہو جائے گا۔

Trump Signs Executive Order Reviving Schedule F: Reclassifies 8,000 Federal Workers

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز (Reuters) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں، اس کا بنیادی مقصد تقریباً 8,000 وفاقی ملازمین کو ملازمت کے روایتی سول سروس تحفظات سے محروم کرنا ہے (Easier to Fire 8000 Federal Workers). اس اقدام کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ ان ملازمین کو طویل قانونی چارہ جوئی یا اپیلوں کے پیچیدہ طریقہ کار سے گزرے بغیر فوری طور پر ملازمت سے فارغ کرنے کی مجاز ہوگی۔ وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ وفاقی بیوروکریسی میں جوابدہی قائم کرنے اور کام چور ملازمین کو ہٹانے کے لیے ناگزیر تھا۔


امریکی قومی نشریاتی ادارے این پی آر (NPR) اور فیڈرل نیوز نیٹ ورک کی کوریج کے مطابق، اس نئی پالیسی کو پولیٹیکل سرکلز میں 'شیڈول ایف' (Schedule F) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس زمرے کے تحت، پالیسی سازی اور کلیدی پوزیشنز پر کام کرنے والے کیریئر ملازمین کو "سیاسی تقرریوں" (Political Appointments) کی طرح ڈیل کیا جاتا ہے، جس سے ان کا غیر جانبدارانہ سول سروس اسٹیٹس ختم ہو جاتا ہے۔ ٹرمپ کے ناقدین اور لیبر یونینز نے اس اقدام کو وفاقی اداروں کا سیاسیات کی نذر کرنے (Politicizing Civil Service) اور بیوروکریسی کو خوفزدہ کرنے کی ایک منظم کوشش قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔


 صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 'شیڈول ایف' کا یہ دوبارہ نفاذ امریکی انتظامی تاریخ کا ایک بہت بڑا اور متنازع اقدام بن کر ابھرا ہے، جو 'ڈیپ اسٹیٹ' (Deep State) کے خلاف ان کی جنگ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ جہاں حامی اسے کارکردگی اور شفافیت کی بحالی قرار دے رہے ہیں، وہیں مخالفین کا ماننا ہے کہ اس سے میرٹ کا جنازہ نکل جائے گا اور وفاقی ملازمین آزادی سے کام نہیں کر پائیں گے۔ آنے والے ہفتوں میں اس آرڈر کے خلاف بڑی قانونی اور عدالتی جنگیں شروع ہونے کی واضح توقع کی جا رہی ہے۔