ٹارزن اور جادوئی چمگادڑوں کا حملہ
گھنے کانگو کے جنگل کی گہرائی میں، جہاں سورج کی روشنی بھی بمشکل پتوں کے جھرمٹ سے نیچے اتر پاتی تھی، ٹارزن اپنی جھونپڑی کے باہر ایک ٹوٹی ہوئی لکڑی کو تراش رہا تھا۔ ہوا میں نمی تھی اور دور کہیں ہاتھیوں کے چنگھاڑنے کی آواز آ رہی تھی۔ یہ اس کا گھر تھا، اس کا سکون تھا۔
اچانک درختوں کے اوپر سے تیز شور مچا۔ "ہو ہو!" منکو بندر، ٹارزن کا سب سے پرانا دوست، شاخ سے شاخ اچھلتا ہوا اس کے پاس آ گرا۔ منکو کی آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی تھیں، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ ہانپ رہا تھا جیسے کئی میل دوڑ کر آیا ہو۔
ٹارزن نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "کیا ہوا منکو؟ بول!"
منکو نے تیزی سے اشاروں اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بتایا: "ٹارزن... شمال... پرانا غار... کالے بادل... چمگادڑ... جادو!"
ٹارزن فوراً کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنی کمر پر چاقو باندھا اور منکو کے ساتھ شمال کی طرف دوڑ لگا دی۔ جتنا وہ غار کے قریب پہنچتے، ہوا اتنی ہی ٹھنڈی اور بھاری ہوتی گئی۔ آسمان پر کالے بادلوں کا ایک طوفان منڈلا رہا تھا، اور ان بادلوں سے ہزاروں کی تعداد میں چمگادڑ نکل کر پورے جنگل پر سایہ کر رہی تھیں۔ لیکن یہ عام چمگادڑیں نہیں تھیں۔ ان کی آنکھیں سرخ انگاروں کی طرح چمک رہی تھیں اور ان کے پروں سے ہلکی نیلی روشنی نکل رہی تھی۔ یہ "شیڈو ونگز" تھیں، صدیوں پرانا جادوئی قبیلہ جنہیں ایک بدنام جادوگر نے غار کے اندر قید کر دیا تھا۔ اب وہ قید ٹوٹ چکی تھی۔
چمگادڑوں کا سردار، جو باقی سب سے تین گنا بڑا تھا، ایک سڑی ہوئی شاخ پر بیٹھا ٹارزن کو گھور رہا تھا۔ اس کی آواز گونجتی ہوئی آئی:
"انسان، یہ جنگل اب ہمارا ہے۔ روشنی مٹ جائے گی!"
ٹارزن نے للکار کر جواب دیا: "جب تک میں زندہ ہوں، یہ جنگل آزاد رہے گا!" اور وہ حملہ آور ہو گیا۔ لیکن یہ جنگ عام نہیں تھی۔ شیڈو ونگز کا جادو تین بڑے مراحل پر مشتمل تھا، اور ہر مرحلہ پچھلے سے زیادہ خطرناک تھا۔
پہلا مرحلہ: اندھیرے کا سمندر جیسے ہی ٹارزن نے پہلا وار کیا، سردار چمگادڑ نے اپنے پر پھڑپھڑائے۔ پورے جنگل پر ایک گھنا، چپچپا اندھیرا چھا گیا۔ یہ عام اندھیرا نہیں تھا۔ یہ "اندھیرے کا سمندر" تھا جس میں آوازیں گم ہو جاتی تھیں، سمت کا پتہ نہیں چلتا تھا، اور ہر قدم پر ایسا لگتا تھا جیسے کوئی نامعلوم چیز آپ کا پیچھا کر رہی ہو۔
ٹارزن کی آنکھیں کام کرنا بند کر گئیں۔ چمگادڑیں ہر طرف سے حملہ کر رہی تھیں، ان کے نوکیلے دانت اس کے بازو اور کندھے کاٹ رہے تھے۔ ٹارزن لڑکھڑا کر گر پڑا۔ منکو چیختا ہوا اس کے پاس آیا۔ ٹارزن نے اندھیرے میں ہی منکو کا ہاتھ پکڑا۔ اسے یاد آیا کہ جنگل کی مٹی میں ایک خاص جڑی بوٹی اگتی ہے جس کی مہک اندھیرے کے جادو کو کاٹ دیتی ہے۔ اس نے اندھیرے میں ہاتھ مار کر وہ جڑی بوٹی ڈھونڈی، اسے نچوڑ کر اپنی آنکھوں پر لگایا۔ فوراً ہی اندھیرا چھٹ گیا جیسے دھند ہٹ گئی ہو۔ ٹارزن نے ایک لمبی بیل پکڑی اور اسے گھما کر چمگادڑوں کے پورے جھنڈ کو دور پھینک دیا۔ پہلا مرحلہ ختم ہوا، لیکن وہ تھک چکا تھا۔
دوسرا مرحلہ: آواز کا بھنور چمگادڑوں کے سردار نے غصے سے چیخ ماری۔ اب دوسرا جادو شروع ہوا۔ تمام چمگادڑیں ایک دائرے میں جمع ہو گئیں اور ایک ساتھ ایسی تیز آواز نکالی جسے "صوت کا بھنور" کہتے ہیں۔ یہ آواز کان کے پردے پھاڑنے والی تھی۔ درختوں کے پتے جھڑنے لگے، زمین لرزنے لگی، اور ٹارزن کے سر میں ہزاروں سوئیاں چبھنے لگیں۔ وہ درد سے زمین پر لوٹنے لگا۔ اس کا دماغ شل ہو رہا تھا۔ منکو نے اپنے دونوں ہاتھوں سے کان بند کر لیے تھے۔
ٹارزن کو سمجھ آ گیا کہ اس آواز کا مقابلہ طاقت سے نہیں ہو سکتا۔ اس نے جلدی سے اپنے کانوں میں درخت کا گوند اور پتے ٹھونسے۔ پھر اس نے اپنی مشہور جنگلی چیخ ماری۔ اس کی چیخ اتنی طاقتور تھی کہ وہ صوت کے بھنور سے ٹکرا گئی۔ دو آوازوں کے ٹکرانے سے ہوا میں ایک دھماکہ ہوا اور چمگادڑوں کا دائرہ ٹوٹ گیا۔ کئی چمگادڑیں زمین پر گر کر بے ہوش ہو گئیں۔ دوسرا مرحلہ بھی ٹارزن نے پار کر لیا، مگر اب اس کے کانوں سے خون رس رہا تھا۔
تیسرا مرحلہ: سائے کا قید خانہ
چمگادڑوں کا سردار اب آخری اور سب سے خطرناک جادو پر اتر آیا۔ اس نے اپنے پروں سے ایک سیاہ شعلہ نکالا اور اسے زمین پر مارا۔ زمین پھٹ گئی اور ٹارزن کے پاؤں کے نیچے سے سائے اٹھ کر اس کے گرد ایک زندہ قید خانہ بنانے لگے۔ یہ "سائے کا قید خانہ" تھا۔ ہر سایہ ایک زنجیر کی طرح تھا جو ٹارزن کے ہاتھ پاؤں جکڑ رہا تھا۔ جتنا وہ چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا، سائے اتنے ہی مضبوط ہو جاتے۔
سردار ہنس رہا تھا: "اب تم ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں قید ہو!"
ٹارزن زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کے پاس نہ طاقت بچی تھی نہ کوئی ہتھیار۔ منکو رو رہا تھا۔ تب ٹارزن کو ایک نیک بزرگ کی ایک بات یاد آئی جو اس نے سکھائی تھی: "بیٹا، روشنی کو شکست دینے کے لیے تلوار نہیں، دل چاہیے۔"
ٹارزن نے آنکھیں بند کیں اور جنگل کے ہر درخت، ہر جانور، ہر پرندے کو یاد کیا جن سے اسے محبت تھی۔ اس نے دل سے روشنی کو پکارا۔ اس کے دل سے ایک سنہری روشنی نکلی۔ یہ جادو کی روشنی نہیں تھی، یہ محبت اور ہمت کی روشنی تھی۔ وہ روشنی سائے کی زنجیروں پر پڑی تو وہ پگھلنے لگیں، دھواں بن کر اڑ گئیں۔ سائے کا قید خانہ ٹوٹ گیا۔
ٹارزن ایک جست میں اٹھا اور سیدھا چمگادڑوں کے سردار کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اس بار اس نے وار نہیں کیا۔ اس نے صرف سردار کی سرخ آنکھوں میں دیکھا اور کہا:
"اندھیرا تب ہی ختم ہوتا ہے جب تم روشنی کو جگہ دو۔" سردار کی آنکھوں کی سرخی مدھم پڑ گئی۔ صدیوں کا غصہ اور قید کا درد ایک لمحے میں بہہ گیا۔ اس نے اپنے پر جھکا دیے۔ اس کے اشارے پر باقی تمام شیڈو ونگز بھی نیچے اتر آئیں۔ جادو ٹوٹ چکا تھا۔ کالے بادل چھٹ گئے اور سورج کی پہلی کرن جنگل پر پڑی۔ جنگ ختم ہو چکی تھی۔ ٹارزن نے جیت حاصل کر لی تھی، نہ صرف چمگادڑوں پر بلکہ نفرت اور اندھیرے پر بھی۔ اس رات جنگل میں جشن تھا۔ منکو ٹارزن کے کندھے پر بیٹھا کیلے کھا رہا تھا۔ ٹارزن نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔ اسے معلوم تھا کہ جنگل میں خطرات کبھی ختم نہیں ہوں گے، لیکن جب تک دل میں ہمت اور محبت ہے، ہر مشکل کے تین ہی نہیں، سو مرحلے بھی پار کیے جا سکتے ہیں۔
ٹارزن نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "کیا ہوا منکو؟ بول!"
منکو نے تیزی سے اشاروں اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بتایا: "ٹارزن... شمال... پرانا غار... کالے بادل... چمگادڑ... جادو!"
ٹارزن فوراً کھڑا ہو گیا۔ اس نے اپنی کمر پر چاقو باندھا اور منکو کے ساتھ شمال کی طرف دوڑ لگا دی۔ جتنا وہ غار کے قریب پہنچتے، ہوا اتنی ہی ٹھنڈی اور بھاری ہوتی گئی۔ آسمان پر کالے بادلوں کا ایک طوفان منڈلا رہا تھا، اور ان بادلوں سے ہزاروں کی تعداد میں چمگادڑ نکل کر پورے جنگل پر سایہ کر رہی تھیں۔ لیکن یہ عام چمگادڑیں نہیں تھیں۔ ان کی آنکھیں سرخ انگاروں کی طرح چمک رہی تھیں اور ان کے پروں سے ہلکی نیلی روشنی نکل رہی تھی۔ یہ "شیڈو ونگز" تھیں، صدیوں پرانا جادوئی قبیلہ جنہیں ایک بدنام جادوگر نے غار کے اندر قید کر دیا تھا۔ اب وہ قید ٹوٹ چکی تھی۔
چمگادڑوں کا سردار، جو باقی سب سے تین گنا بڑا تھا، ایک سڑی ہوئی شاخ پر بیٹھا ٹارزن کو گھور رہا تھا۔ اس کی آواز گونجتی ہوئی آئی:
"انسان، یہ جنگل اب ہمارا ہے۔ روشنی مٹ جائے گی!"
ٹارزن نے للکار کر جواب دیا: "جب تک میں زندہ ہوں، یہ جنگل آزاد رہے گا!" اور وہ حملہ آور ہو گیا۔ لیکن یہ جنگ عام نہیں تھی۔ شیڈو ونگز کا جادو تین بڑے مراحل پر مشتمل تھا، اور ہر مرحلہ پچھلے سے زیادہ خطرناک تھا۔
پہلا مرحلہ: اندھیرے کا سمندر جیسے ہی ٹارزن نے پہلا وار کیا، سردار چمگادڑ نے اپنے پر پھڑپھڑائے۔ پورے جنگل پر ایک گھنا، چپچپا اندھیرا چھا گیا۔ یہ عام اندھیرا نہیں تھا۔ یہ "اندھیرے کا سمندر" تھا جس میں آوازیں گم ہو جاتی تھیں، سمت کا پتہ نہیں چلتا تھا، اور ہر قدم پر ایسا لگتا تھا جیسے کوئی نامعلوم چیز آپ کا پیچھا کر رہی ہو۔
ٹارزن کی آنکھیں کام کرنا بند کر گئیں۔ چمگادڑیں ہر طرف سے حملہ کر رہی تھیں، ان کے نوکیلے دانت اس کے بازو اور کندھے کاٹ رہے تھے۔ ٹارزن لڑکھڑا کر گر پڑا۔ منکو چیختا ہوا اس کے پاس آیا۔ ٹارزن نے اندھیرے میں ہی منکو کا ہاتھ پکڑا۔ اسے یاد آیا کہ جنگل کی مٹی میں ایک خاص جڑی بوٹی اگتی ہے جس کی مہک اندھیرے کے جادو کو کاٹ دیتی ہے۔ اس نے اندھیرے میں ہاتھ مار کر وہ جڑی بوٹی ڈھونڈی، اسے نچوڑ کر اپنی آنکھوں پر لگایا۔ فوراً ہی اندھیرا چھٹ گیا جیسے دھند ہٹ گئی ہو۔ ٹارزن نے ایک لمبی بیل پکڑی اور اسے گھما کر چمگادڑوں کے پورے جھنڈ کو دور پھینک دیا۔ پہلا مرحلہ ختم ہوا، لیکن وہ تھک چکا تھا۔
دوسرا مرحلہ: آواز کا بھنور چمگادڑوں کے سردار نے غصے سے چیخ ماری۔ اب دوسرا جادو شروع ہوا۔ تمام چمگادڑیں ایک دائرے میں جمع ہو گئیں اور ایک ساتھ ایسی تیز آواز نکالی جسے "صوت کا بھنور" کہتے ہیں۔ یہ آواز کان کے پردے پھاڑنے والی تھی۔ درختوں کے پتے جھڑنے لگے، زمین لرزنے لگی، اور ٹارزن کے سر میں ہزاروں سوئیاں چبھنے لگیں۔ وہ درد سے زمین پر لوٹنے لگا۔ اس کا دماغ شل ہو رہا تھا۔ منکو نے اپنے دونوں ہاتھوں سے کان بند کر لیے تھے۔
ٹارزن کو سمجھ آ گیا کہ اس آواز کا مقابلہ طاقت سے نہیں ہو سکتا۔ اس نے جلدی سے اپنے کانوں میں درخت کا گوند اور پتے ٹھونسے۔ پھر اس نے اپنی مشہور جنگلی چیخ ماری۔ اس کی چیخ اتنی طاقتور تھی کہ وہ صوت کے بھنور سے ٹکرا گئی۔ دو آوازوں کے ٹکرانے سے ہوا میں ایک دھماکہ ہوا اور چمگادڑوں کا دائرہ ٹوٹ گیا۔ کئی چمگادڑیں زمین پر گر کر بے ہوش ہو گئیں۔ دوسرا مرحلہ بھی ٹارزن نے پار کر لیا، مگر اب اس کے کانوں سے خون رس رہا تھا۔
تیسرا مرحلہ: سائے کا قید خانہ
چمگادڑوں کا سردار اب آخری اور سب سے خطرناک جادو پر اتر آیا۔ اس نے اپنے پروں سے ایک سیاہ شعلہ نکالا اور اسے زمین پر مارا۔ زمین پھٹ گئی اور ٹارزن کے پاؤں کے نیچے سے سائے اٹھ کر اس کے گرد ایک زندہ قید خانہ بنانے لگے۔ یہ "سائے کا قید خانہ" تھا۔ ہر سایہ ایک زنجیر کی طرح تھا جو ٹارزن کے ہاتھ پاؤں جکڑ رہا تھا۔ جتنا وہ چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا، سائے اتنے ہی مضبوط ہو جاتے۔
سردار ہنس رہا تھا: "اب تم ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں قید ہو!"
ٹارزن زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کے پاس نہ طاقت بچی تھی نہ کوئی ہتھیار۔ منکو رو رہا تھا۔ تب ٹارزن کو ایک نیک بزرگ کی ایک بات یاد آئی جو اس نے سکھائی تھی: "بیٹا، روشنی کو شکست دینے کے لیے تلوار نہیں، دل چاہیے۔"
ٹارزن نے آنکھیں بند کیں اور جنگل کے ہر درخت، ہر جانور، ہر پرندے کو یاد کیا جن سے اسے محبت تھی۔ اس نے دل سے روشنی کو پکارا۔ اس کے دل سے ایک سنہری روشنی نکلی۔ یہ جادو کی روشنی نہیں تھی، یہ محبت اور ہمت کی روشنی تھی۔ وہ روشنی سائے کی زنجیروں پر پڑی تو وہ پگھلنے لگیں، دھواں بن کر اڑ گئیں۔ سائے کا قید خانہ ٹوٹ گیا۔
ٹارزن ایک جست میں اٹھا اور سیدھا چمگادڑوں کے سردار کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اس بار اس نے وار نہیں کیا۔ اس نے صرف سردار کی سرخ آنکھوں میں دیکھا اور کہا:
"اندھیرا تب ہی ختم ہوتا ہے جب تم روشنی کو جگہ دو۔" سردار کی آنکھوں کی سرخی مدھم پڑ گئی۔ صدیوں کا غصہ اور قید کا درد ایک لمحے میں بہہ گیا۔ اس نے اپنے پر جھکا دیے۔ اس کے اشارے پر باقی تمام شیڈو ونگز بھی نیچے اتر آئیں۔ جادو ٹوٹ چکا تھا۔ کالے بادل چھٹ گئے اور سورج کی پہلی کرن جنگل پر پڑی۔ جنگ ختم ہو چکی تھی۔ ٹارزن نے جیت حاصل کر لی تھی، نہ صرف چمگادڑوں پر بلکہ نفرت اور اندھیرے پر بھی۔ اس رات جنگل میں جشن تھا۔ منکو ٹارزن کے کندھے پر بیٹھا کیلے کھا رہا تھا۔ ٹارزن نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا۔ اسے معلوم تھا کہ جنگل میں خطرات کبھی ختم نہیں ہوں گے، لیکن جب تک دل میں ہمت اور محبت ہے، ہر مشکل کے تین ہی نہیں، سو مرحلے بھی پار کیے جا سکتے ہیں۔
ختم شد


