PM Shehbaz Urges Prompt Follow-Up on Chinese MoUs as Chinese Envoy Visits NUML

PM Shehbaz Urges Prompt Follow-Up on Chinese MoUs as Chinese Envoy Visits NUML

پاک چین تعلقات کا یہ نیا رخ ملکی معیشت کی بحالی 

پاکستان اور چین کے مابین اسٹریٹجک اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے جون 2026 کے آغاز میں اسلام آباد کے اعلیٰ سفارتی حلقوں سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف (PM Shehbaz Sharif) اور پاکستان میں متعین چینی سفیر جیانگ زیڈونگ کے درمیان ایک اہم ترین ملاقات ہوئی ہے، جس میں سی پیک (CPEC) کے دوسرے مرحلے اور حالیہ معاہدوں پر تیزی سے عملدرآمد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

PM Shehbaz Urges Prompt Follow-Up on Chinese MoUs as Chinese Envoy Visits NUML

ڈان نیوز (Dawn) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چینی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر شدید زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین حالیہ دوروں کے دوران دستخط کیے جانے والے مفاہمت کی یادداشتوں (Recent MoUs) کو صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ان پر عملی طور پر فالو اپ (Follow-up) کو یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے مختلف شعبوں خصوصاً انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور صنعت میں چینی سرمایہ کاری کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور چینی ماہرین کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی اقدامات کو مزید فول پروف بنانے کا اعادہ کیا۔


ریڈیو پاکستان (Radio Pakistan) کی رپورٹ کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں دوطرفہ اقتصادی تعاون کے علاوہ خطے کی مجموعی صورتحال (Regional Situation) اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ پاک چین دوستی خطے میں امن و استحکام کا بنیادی محور ہے۔ اسی سفارتی سرگرمی کے تسلسل میں، دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، چینی سفیر نے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) کے ایک خصوصی سیشن میں شرکت کی، جہاں انہوں نے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے مابین اعلیٰ علمی اور تحقیقی تعاون (Academic Collaboration) کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ نوجوان نسل جدید علوم سے فائدہ اٹھا سکے۔


جون 2026 میں پاک چین تعلقات کا یہ نیا رخ ملکی معیشت کی بحالی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو رہا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے معاہدوں پر فوری فالو اپ کا مطالبہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومتِ پاکستان چینی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے کس قدر سنجیدہ ہے۔ دوسری طرف، تعلیمی میدان میں علمی شراکت داری کا فروغ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ لازوال دوستی اب اقتصادی راہداریوں سے آگے بڑھ کر انسانی اور سماجی ترقی کے دھارے میں شامل ہو رہی ہے۔