Lebanon, Israel agree to implement ceasefire

Lebanon, Israel agree to implement ceasefire

 لبنان اور اسرائیل (Lebanon and Israel) کے درمیان باقاعدہ طور پر جنگ بندی کا معاہدہ 

واشنگٹن میں ہونے والے طویل اور انتہائی اہم مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل (Lebanon and Israel) کے درمیان باقاعدہ طور پر جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ گزشتہ رات دیر گئے مصلحتی ملک امریکہ (United States) کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ اعلامیے میں اس تاریخی پیش رفت کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنا اور پائیدار امن کا قیام ہے۔

Lebanon, Israel agree to implement ceasefire

مشترکہ اعلامیے میں واشگاف الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس جنگ بندی (Ceasefire) کا دارومدار چند سخت شرائط پر ہے۔ معاہدے کے تحت مزاحمتی تنظیم حزب اللہ (Hezbollah) کی جانب سے تمام تر معاندانہ سرگرمیوں اور حملوں کا فوری اور مکمل خاتمہ پہلی شرط ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کو دریائے لیطانی (Litani River) کے جنوبی علاقوں سے اپنے تمام جنگجوؤں، اسلحہ اور فوجی ڈھانچے کو مکمل طور پر پیچھے ہٹانا ہوگا۔


معاہدے کی تفصیلات کے مطابق، دونوں فریقین نے امریکہ کی اس سفارش اور تجویز سے مکمل اتفاق کیا ہے جس کے تحت متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر پائلٹ زونز (Pilot Zones) قائم کیے جائیں گے۔ ان مخصوص زونز کا پورا انتظام اور کنٹرول لبنانی مسلح افواج (Lebanese Armed Forces) کے سپرد کیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ان علاقوں میں لبنانی فوج کے علاوہ کوئی بھی غیر ریاستی عناصر (Non-state actors) یا مسلح گروپ موجود نہ رہیں۔


بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، واشنگٹن میں ہونے والے یہ مذاکرات مڈل ایسٹ کی سیاست اور سلامتی کے لیے انتہائی اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی ایسی کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، تاہم اس بار امریکی ضمانت اور لبنانی فوج کو بااختیار بنانے کی شرط نے اس معاہدے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک ان شرائط پر کس حد تک سختی سے عمل درآمد کرتے ہیں۔