احساس کمتری و برتری
عملی زندگی میں ہماری ناکامیوں، پریشانیوں اور الجھنوں میں جتنا حصہ ہمارے احساس کمتری کا ہوتا ہے، اتنا ہی حصہ ہمارے احساس برتری کا بھی ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں احساسات (COMPLEXES) دراصل ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں اور جذباتی لحاظ سے نابالغ شخصیت کی علامت ہیں۔ جذباتی بلوغت پر ان شاء اللہ اسی کورس میں آگے چل کر بات ہوگی۔ اس سبق میں ہم اپنی توجہ انہیں احساسات (COMPLEXES) پر مرتکز رکھنا چاہتے ہیں۔ اب سب سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلہ کی سنگینی کے کچھ پہلو آپ اپنے ذہن میں اجاگر کر لیں۔
اول" یہ کہ یہ مسئلہ بہت ہمہ گیر ہے۔ عام لوگوں میں شائد ہی کوئی ہو جو اس قسم کے احساسات سے پوری طرح محفوظ ہو۔ فرق صرف کمی یا زیادتی کا ہوتا ہے۔ دوم یہ کہ عموماً نوجوانی میں احساس کمتری کا مرض نسبتا زیادہ عام ہوتا ہے، پھر رفتہ رفتہ جب ہم اس پر قابو پاتے ہیں تو پختہ عمر کو پہنچنے تک احساس برتری کا مرض نسبتا زیادہ عام ہو جاتا ہے۔ سوم یہ کہ جس کو یہ مرض لاحق ہوتا ہے، اسے اس وقت تک اس کا احساس نہیں ہوتا جب تک یہ مرض شدت نہ اختیار کر جائے۔ چہارم یہ کہ اس مرض سے پوری طرح محفوظ رہنا بہت مشکل ہے۔ دوسرے الفاظ میں اپنی شخصیت اور صلاحیت کے متعلق پورے طور پر حقیقت پسندانہ اور متوازن نقطه نظر قائم کرنا بہت مشکل ہے۔ پھر زندگی کی گہما گہمی میں ہر مرحلہ پر اس توازن کو برقرار رکھنا مزید مشکل ہے۔ مسئلہ کی سنگینی اگر سمجھ میں آگئی ہے تو اس کی وجہ سے اپنے اوپر مایوسی طاری نہ کریں اور میری یہ بات گرہ میں باندھ لیں کہ کامیابی کبھی آسانی سے نہیں آتی اور اگر کوئی کامیابی آسانی سے حاصل ہو جائے تو وہ دیرپا نہیں ہوتی۔ دراصل مذکورہ بالا حقائق ہی اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے ہمیں توجہ اور انہماک سے کوشش کرنی ہوگی اور اپنے آپ سے لڑنا ہو گا۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ کام کیسے کیا جائے(How to work for yourself)؟
اس ضمن میں میرا ذاتی تجربہ بھی ہے اور مشاہدہ بھی کہ ماہرین نفسیات کی وضاحتوں کو سمجھنے اور ان کی ہدایات پر عمل کرنے کے نتیجے میں ہم احساس کمتری پر قابو پانے میں تو بالعموم کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن اس میں نقص یہ ہے کہ انہیں ہدایات پر عمل کرنے کی وجہ سے ہم پھر احساس برتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر جب ہم اپنے بزرگوں کے واقعات پڑھ کر یا سن کر احساس برتری سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارے قدم دوبارہ احساس کمتری کے دلدل میں دھننا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلہ نے مجھے کافی عرصہ پریشان رکھا اور اس سلسلہ میں میری تشفی اس وقت ہوئی جب میں نے قرآن مجید کو سمجھ کے پڑھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سبق میں ماہرین نفسیات کی ہدایات کا ذکر کئے بغیر میں براہ راست قرآن مجید کی راہنمائی کی بات کر رہا ہوں۔ اس ضمن میں ہم قرآن مجید کے دو مقامات کا مطالعہ کریں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ ان کی وضاحت میں مفسرین نے کیا کہا ہے تاکہ قرآن مجید کے ان مقامات کے اہم گوشے بھی ضمنی طور پر ہمارے علم میں آجائیں۔
اس کے بعد ہم یہ دیکھیں گے کہ ان مقامات کا ہمارے موضوع سے کیا ربط ہے اور اس سلسلہ میں ہمیں کیا راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”وہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہ اترا یہ قرآن ان دو عظیم بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر۔ تو کیا تیرے رب کی رحمت کو وہ لوگ تقسیم کرتے ہیں۔ ہم نے تقسیم کیا ان کے مابین ان کی معیشت کو دنیا کی زندگی میں اور ہم نے بلند کیا ان کے بعض کو بعض پر درجات کے لحاظ سے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے کام آئیں اور تیرے رب کی رحمت بہتر ہے اس سے جو یہ لوگ جمع کرتے ہیں۔
" ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ پہلے تو مشرکین عرب یہ ماننے کے لئے تیار نہ تھے کہ کوئی بشر اللہ کا رسول ہو سکتا ہے لیکن جب متعدد قرآنی آیات کے ذریعہ یہ واضح کر دیا گیا کہ صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہیں، دنیا میں جتنے بھی انبیاء و رسل آئے وہ سب بشر تھے
تو پھر انہوں نے دوسرا اعتراض کیا کہ کسی بشر کو ہی نبوت سونپنی تھی تو یہ منصب مکہ اور طائف کے کسی بڑے سردار کو کیوں نہ دیا گیا؟ (معارف القرآن بحوالہ روح المعانی)
چنانچہ ان کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے چند مختصر الفاظ میں کچھ بہت اہم باتیں اللہ تعالی نے ہم کو سمجھائی ہیں۔
اول یہ کہ نبوت رسالت تو بہت بڑی چیز ہے۔ دنیا میں زندگی بسر کرنے کے عام ذرائع کی تقسیم بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔ اس نے کسی کو خوبصورت کسی کو بدصورت کسی کو خوش آواز کسی کو بد آواز کسی کو موٹا کسی کو پتلا کسی کو امیر زادہ، کسی کو فقیر زادہ پیدا کیا ہے۔ یہ ہر شخص کی تقدیر ہے جسے کوئی بدل نہیں سکتا۔ اس کے علاوہ دولت، عزت، شہرت، اقتدار وغیرہ کی تقسیم بھی اسی کے اختیار میں ہے البتہ اس میں ہماری کوشش کا بھی حصہ شامل ہے)
دوم یہ کہ تقسیم کے اس نظام میں اللہ تعالی نے اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ سب کچھ کسی ایک ہی شخص کو نہ دیا جائے اور نہ ہی سب کچھ ہر شخص کو دیا جائے بلکہ یہ تقسیم اس اصول کے تحت کی جائے کہ کسی شخص کو اگر ایک چیز دی گئی ہے تو اسے کسی دوسری چیز سے محروم رکھا جائے اور وہ چیز کسی اور کو دی جائے۔
سوم اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تقسیم کا یہ انتظام اس حکمت کی بنا پر کیا گیا ہے کہ کوئی انسان دوسرے انسانوں سے بے نیاز نہ ہو بلکہ ہر شخص کسی نہ کسی پہلو سے دوسرے کا محتاج رہے ( تفہیم القرآن)
اب اگر ہم تھوڑا سا غور کریں تو ماننا پڑتا ہے کہ دنیا کی اس امتحان گاہ کے لئے یہی بہترین نظام ہے۔ اللہ تعالی کے اس ارشاد سے کہ درجات کے لحاظ سے ہم نے ایک کو دوسرے پر رفعت دی ہے، یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ معاشی مساوات کا موجودہ تصور نہ تو مطلوب ہے اور نہ ہی قابل عمل ہے۔
اسلامی مساوات کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کی استعداد اور صلاحیتوں کے مطابق کوشش کرنے کے یکساں مواقع میسر ہوں (معارف القرآن) ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ”اور تم لوگ اس کی تمنامت کرو جس سے اللہ تعالی نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی۔ مردوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جس کی انہوں نے کوشش کی اور عورتوں کے لئے حصہ ہے اس میں سے جس کی انہوں نے کوشش کی۔ اور اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ یقیناً اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔" (النساء :32)
اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ بعض عورتوں نے تمنا کی کہ کاش ہم مرد ہوتے تو مردوں کی طرح جہاد میں حصہ لیتے اور جہاد کی فضیلت ہمیں حاصل ہوتی۔ ایک عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کو مرد کو میراث میں دو گنا حصہ ملتا ہے اور عورت کی گواہی مرد سے آدھی ہے
تو کیا عبادات میں ہم کو نصف ثواب ملے گا؟
چنانچہ اس آیت میں دونوں کو جواب دیا گیا۔ (معارف القرآن) اس آیت میں ان غیر اختیاری فضائل کی تمنا کرنے سے منع کیا گیا ہے جن میں انسان کی کوشش کا کوئی دخل نہیں ہے۔ مثلاً کسی کا مرد یا عورت ہونا کسی خاندان میں پیدا ہونا خوبصورت ہونا وغیرہ ایسی تمنا کا نتیجہ اپنے لئے رنج و غم اور حسد کے گناہ عظیم کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ جبکہ کچھ فضائل انسان کے اختیار میں ہیں۔ جیسے علمی عملی اور اخلاقی کمالات ان کے لئے اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ مرد اور عورت دونوں کو ان کی کوشش کے لحاظ سے حصہ ملے گا۔
اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اپنی کم ہمتی اور بے عملی پر پردہ ڈالنے کے لئے تقدیر کا بہانہ بنانا غلط ہے۔ (معارف القرآن)
اس آیت میں ایک حکیمانہ اور متوازن ضابطہ دے دیا گیا ہے کہ انسان غیر اختیاری فضائل کے ضمن میں اپنی تقدیر پر راضی رہے اور اختیاری فضائل کے لئے کوشش کرتا رہے، پھر اللہ تعالی سے اس کا فضل مانگے اور یہ یاد رکھے کہ فضل خداوندی ہر شخص کے لئے جدا جدا صورتوں میں ہوتا ہے کہ کس کے حق میں کیا چیز بہتر ہے۔ (معارف القرآن)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ لوگو! اللہ تعالی سے اس کا فضل طلب کرو۔ اللہ سے مانگنا اللہ تعالی کو بہت پسند ہے۔ یاد رکھو سب سے اعلیٰ عبادت، کشادگی اور وسعت اور رحمت کا انتظار کرنا اور اس کی امید رکھنا ہے۔" (ابن کثیر)
اس دنیا میں اللہ تعالی کی عطا اور دین کا نظام اگر سمجھ میں آگیا ہے تو اب احساس کمتری اور برتری کا مسئلہ حل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہئے۔ غیر اعتیاری فضائل کے لحاظ سے اگر کوئی ایسا شخص آپ کے سامنے آتا ہے جسے آپ اپنے سے بہتر سمجھ رہے ہیں تو فوری طور پر دو باتوں کو یاد کر لیں۔
اول یہ کہ اللہ نے اس کو کچھ چیزوں سے محروم بھی رکھا ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کے علم میں نہ ہوں۔
دوم یہ کہ اللہ نے آپ کو کیلیتا" محروم نہیں رکھا ہے۔ آپ کو بھی کچھ چیزیں دی ہیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو ان کا ادراک نہ ہو یا وقتی طور پر ذہن سے اوجھل ہو گئی ہوں۔ اس لئے اپنے فضائل کا ادراک حاصل کریں۔ ان پر نظر رکھیں، ان سے استفادہ کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں۔ دوسرے کی تھالی میں جھانکنے کے بجائے اپنی تھالی کو دیکھیں اور اللہ تعالی کی اس سنت کو مت بھولیں کہ دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر۔ اس طرح ان شاء اللہ آپ خود کو احساس کمتری میں مبتلا ہونے سے محفوظ کرتے رہیں گے۔ اسی طرح اگر آپ کے سامنے کوئی ایسا شخص آتا ہے جسے آپ اپنے سے کمتر سمجھ رہے ہیں تو یہی دونوں باتیں یاد کر لیں کہ اللہ نے اس کو بھی کچھ نہ کچھ ضرور دے رکھا ہے اور کچھ چیزوں سے آپ کو بھی محروم رکھا ہے۔ یہ مت بھولیں کہ جس اللہ کے آپ بندے ہیں، وہ بھی اسی اللہ کا بندہ ہے۔ اس طرح اپنے دماغ سے احساس برتری کے کیڑے کو جھٹک کر باہر نکال دیں ورنہ آپ تکبر میں مبتلا ہو جائیں گے۔
اسلام کا جائزہ میں تکبر کا باب دوبارہ پڑھ لیں) اب اختیاری فضائل کی باری ہے۔ ان کو ہم دو حصوں میں تقسیم کرکے بات کریں گے۔ کچھ اختیاری فضائل وہ ہیں جن کا براہ راست تعلق آخرت کو بنانے اور سنوارنے سے ہے۔ ان پر تو ان شاء اللہ ہم بعد میں بات کریں گے، فی الحال ہم ان اختیاری فضائل پر بات کرنا چاہتے ہیں جن کا تعلق اس دنیا کی زندگی میں بہتر کار کردگی سے ہے جنہیں عام طور پر ہم لوگ صلاحیتوں" کے عنوان سے پہچانتے ہیں۔ پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ صلاحیتیں مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔ مثلاً کسی مقصد کے لئے ضروری وسائل اور افراد کو جمع کرکے انہیں منظم کرنا یعنی تنظیمی صلاحیت، پھر اس تنظیم کو چلانے کے لئے انتظامی صلاحیت درکار ہوتی ہے جو ایک مختلف صلاحیت ہے۔ اسی طرح علمی تحقیق کی صلاحیت، تصنیف و تالیف کی صلاحیت منصوبہ بندی کی صلاحیت منصوبہ پر عمل کرنے کے لئے بھاگ دوڑ کرنے کی صلاحیت وغیرہ وغیرہ۔
دوسری بات یہ سمجھ لیں کہ صلاحیتوں کے استعمال کی سطح مختلف ہوتی ہیں۔ ایک ابتدائی اور بنیادی سطح ہے۔ جب کوئی کام محدود اور چھوٹے پیمانے پر کیا جائے جیسے شادی کی تقریب منعقد کرنا۔ ایک بلند تر سطح ہوتی ہے۔ جب کوئی کام وسیع تر اور بڑے پیمانے پر کیا جائے جیسے کسی بڑی سیاسی جماعت کا ملک گیر اجتماع کرنا اور کسی صلاحیت کی بلند ترین سطح یہ ہے کہ اس کے عملی اطلاق کے وقت کسی انسان کو اس میں جدت (INNOVATIONS) اور ایجادات (INVENTIONS) کی اہمیت حاصل ہو جائے۔ اس نوع کی صلاحیتوں کے ضمن میں میری رائے یہ ہے کہ ہر شخص میں یہ تمام صلاحیتیں بالقوه (POTENTIALLY) موجود ہوتی ہیں اور کوئی بھی شخص تھوڑی سی توجہ اور مشرق سے انہیں ابتدائی سطح تک آسانی سے اجاگر کر سکتا ہے لیکن اس سے بلند تر سطح پر جانے کے لئے "ریاض" کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ دراصل موسیقی کی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے شوق اور لگن کے ساتھ مسلسل مشق کرتے رہنا۔ اب اس ضمن میں ایک اہم بات یہ سمجھ لیں کہ بالقوہ تمام صلاحیتیں موجود تو ہوتی ہیں لیکن ہر صلاحیت کو ابتدائی سطح سے بلند سطح پر لے جانے کے لئے طبعی رجحان (APTITUDE) نہیں ہوتا۔ اگر ایک شخص میں کسی ایک صلاحیت کے لئے رجحان ہے تو دوسرے شخص میں کسی دوسری صلاحیت کے لئے رجحان ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کسی صلاحیت کے لئے طبعی رجحان رکھنے والا شخص کم محنت اور لگن سے اس میں مہارت اور کمال حاصل کر لیتا ہے جبکہ دوسرا شخص جس میں اس صلاحیت کے لئے طبعی رجحان نہیں ہے، زیادہ محنت کرکے بھی مہارت کے اس درجہ کو نہیں پہنچ پاتا۔ اس صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان صلاحیتوں میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کریں جن کے لئے ہم اپنے اندر طبعی رجحان کو موجود پاتے ہیں اور دوسری صلاحیتوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایسے افراد کی خدمات حاصل کریں جو ان صلاحیتوں کے لئے طبعی رجحان رکھتے ہیں اور ان میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔
اسی بنیاد پر دنیا میں تقسیم کار (DIVISION OF LABOUR) کا اصول رائج ہے۔ اس کے نے جنم لیا۔ SPECIALISATION نتیجے میں پھر ضمنی طور پر یہ بھی سمجھ لیں کہ خود اپنے طبعی رجحان کو پہچاننے کے لئے آپ کو کسی رجحاناتی ٹیسٹ (APTITUDE TEST) کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی ترکیب بہت سادہ ہے۔ جب کسی کام میں آپ کا دل لگے اور اسے کر کے آپ کو تسکین حاصل ہو تو سمجھ لیں کہ اس کام کے لئے آپ میں طبعی رجحان موجود ہے اور جب کسی کام کو کرتے وقت آپ کو جمائیاں آنی شروع ہو جائیں اور آپ انگڑائیاں لینے لگیں تو سمجھ لیں کہ اس کام کے لئے آپ میں طبعی رجحان نہیں ہے البتہ کسی مخصوص صلاحیت کے لئے دوسرے کی خدمات حاصل کرتے وقت رجحاناتی ٹیسٹ کو استعمال کر لینا اندھیرے میں تیر چلانے سے بہتر ہے۔
ان وضاحتوں کے بعد یہ بات اب آسان ہو جاتی ہے کہ جب کوئی شخص شعوری فیصلے کے تحت کسی صلاحیت کو اپناتا ہے اور دیگر صلاحیتوں کے لئے دوسروں کی خدمات حاصل کرتا ہے تو اب اس کے لئے احساس کمتری یا برتری میں مبتلا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ نیز ان وضاحتوں کو ذہن میں رکھ کر آپ الزخرف کی اس آیت کا دوبارہ مطالعہ کر لیں جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے درجات کے لحاظ سے بعض کو بعض پر بلند کیا ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے کے کام آئیں۔
امید ہے کہ اس کے بعد ان شاء اللہ ذہن میں کوئی الجھن نہیں رہے گی۔ اب ہم ان صلاحیتوں کی بات کر لیں جن کا تعلق آخرت کو بنانے اور سنوارنے سے ہے۔ اس ضمن میں پہلی بات نوٹ کر لیں کہ یہ تمام صلاحیتیں بھی بالقوہ ہر شخص میں موجود ہوتی ہیں۔ یہ بات ہم تفصیل سے اسلام کا جائزہ میں پڑھ چکے ہیں کہ اس امتحان گاہ میں بھیجنے سے پہلے انسان کو بہت کچھ سکھا پڑھا کے بھیجا جاتا ہے جس میں اللہ تعالی کی معرفت اس کا رب ہونا، نیکی اور بدی کا شعور وغیرہ شامل ہیں۔ صرف ضرورت یہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے حواس خمسہ اور عقل کو استعمال کرکے ان صلاحیتوں کو اجاگر کرے۔ ان صلاحیتوں کی بنیادی اور ابتدائی سطح یہ ہے کہ انسان اللہ کو اپنا رب تسلیم کرے اور اس کا اعتراف کرے۔ نیکی کو نیکی اور بدی کو بدی کے۔ اس سطح تک ہر شخص اپنے غور و فکر کے نتیجے میں از خود پہنچ سکتا ہے لیکن نبی وقت کی تعلیمات کے ذریعہ اس کو ہمارے لئے مزید آسان بنا دیا گیا اور ہمیں غلطیوں سے بچانے کے لئے اس کی تعلیمات کا پابند کر دیا گیا۔ اس کے آگے پھر ان صلاحیتوں کی بلند تر سطح کے مختلف درجات ہیں جو عمل کے میدان میں معین ہوتے ہیں۔
یہ بات بھی ہم پڑھ چکے ہیں کہ جس طرح ہمارے جسم کو غذا کی ضرورت ہوتی ہے، اس طرح ہماری روح کو بھی غذا کی ضرورت ہے اور انسانی روح کی غذا نماز اور قرآن مجید ہیں۔ اس حوالہ سے اب یہ بات سمجھ لیں کہ بنیادی سطح تک ان صلاحیتوں کے حصول کے لئے طبعی رجحان ہر شخص میں موجود ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ہر انسانی روح اپنی غذا کا تقاضا کرتی ہے البتہ عملی میدان میں بلند تر سطح کے حصول کے لئے طبیعی رجحانات مختلف ہو جاتے ہیں۔ مثلاً نوافل اور ذکر و ورد کا اہتمام دعوت و تبلیغ کے لئے بھاگ دوڑ کرنا، تصنیف و تالیف کا کام کرنا درس و تدریس میں منہمک ہونا وغیرہ وغیرہ کسی شخص میں ان میں سے کسی کام کے لئے طبعی رجحان ہوتا ہے اور دوسرے میں کسی دوسرے کام کے لئے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس میدان میں بھی ہم اپنے طبعی رجحان کو پہچان کر اس سے مناسبت رکھنے والے کام پر اپنی توجہ مر تک کریں اور آگے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اس سے بھی زیادہ اہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی مادی اور روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے دونوں طرح کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے میں توازن قائم رکھیں۔ توازن والی بات اگر ذہن نشین ہو گئی ہے تو اب یہ بات نوٹ کریں که مسابقت (COMPENTION) کے جذبے کا پسندیدہ مقام آخرت کو بنانے کا میدان عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض آیات قرآنی اور ارشادات نبوی میں مسابقت فی الخیرات یعنی نیک کاموں میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کا حکم یا دوسروں کے فضائل و کمالات کو دیکھ کر ان کی تحصیل کے لئے سعی و عمل اور جدوجہد کی ترغیب آئی ہے۔ (معارف القرآن ج 2 ص (390)
اب آخرت کے حوالہ سے ہمیں احساس کمتری اور برتری کی بات کرتی ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ ہیں جو اسلام کے بنیادی عقائد کو تسلیم بھی کرتے ہیں اور ان کا اعتراف بھی کرتے ہیں لیکن اپنی بے عملی یا کم عملی کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ احساس غلط ہے۔ جبکہ کچھ لوگ با عمل مسلمان ہونے کی وجہ سے اپنے بے عمل اور کم عمل مسلمان بھائیوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ جہنمی لوگ ہیں۔ یہ احساس برتری اور تکبر ہے اور یہ احساس بہت ہی غلط ہے۔ ان دونوں احساسات سے بچنے کے لئے ایک اصولی بات ذہن نشین کر لیں۔ ہم میں سے کوئی بھی شخص نہیں جانتا کہ ہمارا اپنا آخری انجام کیا ہو گا۔
تو پھر کسی دوسرے کے انجام کے متعلق ہم یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں؟
ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ تو یقیناً ایسے ہوتے ہیں جو اسلام سے قربت یا دوری کی ڈگر پر چلتے ہوئے اپنی پوری زندگی گزار دیتے ہیں لیکن اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جن کی زندگی میں مختلف ادوار دھوپ چھاؤں کی طرح آتے جاتے رہتے ہیں۔ پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ صرف بے عمل بلکہ بد عمل ہوتے ہیں لیکن جب وہ پلٹتے ہیں تو بہت سے با عمل لوگوں کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ انتہائی با عمل ہوتے ہیں لیکن آخر وقت میں بے عملی یا بد عملی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس حقیقت کی جانب راہنمائی فرمانے کی غرض سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "تم میں سے کوئی جنت کے کام کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ہاتھ بھر کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔
پھر وہ دوزخیوں کے کام کرتا ہے اور اس میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور تم میں سے کوئی دوزخیوں کے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ہاتھ بھر کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر وہ جنتیوں کے کام کرتا ہے اور اس میں داخل ہو جاتا ہے۔" (مشکوہ حدیث نمبر 75 بحوالہ بخاری و مسلم)
اب آپ کو یقین کر لینا چاہئے کہ کسی کو بھی اپنے یا دوسرے کے آخری انجام کا علم نہیں ہے۔ اس لئے اس ضمن میں کسی کو کسی کے متعلق حتمی رائے قائم نہیں کرنی چاہئے۔ اب اس صورتحال میں حقیقت یہ ہے کہ احساس کمتری یا برتری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بد عمل شخص کو چاہئے کہ وہ مایوس اور بد دل نہ ہو۔ اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کے لئے اپنے آپ سے لڑتا رہے اللہ تعالی سے اس کی مدد اور توفیق کی دعائیں کرتا رہے اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ با عمل شخص کسی کو حقیر سمجھنے سے پہلے یہ سوچ لے کہ ہو سکتا ہے کل وہی شخص اس سے آگے نکل جائے۔ اس کے ساتھ ہی اپنا فرض یاد کر لے اور شفقت و نرمی کے ساتھ اس کی راہنمائی اور حوصلہ افزائی کرے۔ اگر وہ اس کے مشورے کو قبول نہ کرے تو نہ ناراض ہو اور نہ ہی مایوس ہو۔ اس لئے کہ بیچ ڈالنا تو یقیناً انسان کی ذمہ داری ہے لیکن بیچ کو پھاڑنا اور اسے پورا بناتا انسان کے بس میں نہیں ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ سائبیریا کے میدان میں برفباری سے پہلے گندم کے بیچ ڈال دیئے جاتے ہیں جو برف میں محفوظ پڑے رہتے ہیں۔ چھ مہینے کے بعد جب برف کھلتی ہے تب بیچ پھوٹتے ہیں اور فصل لہلہاتی ہے۔ اس لئے آپ بھی زمین ہموار کرتے رہئے، بیچ ڈالتے رہے۔ جب برف پچھلے گی تو ان شاء اللہ بیچ پھوٹیں گے اور فصل لہلہائے گی۔
آخرت کے ضمن میں احساس کمتری اور برتری کے مابین جو متوازن رویہ مطلوب ہے خوش قسمتی سے ہمیں اس کی رہنمائی بھی حاصل ہے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوان کے پاس اس کے آخری وقت میں تشریف لے گئے اور اس سے دریافت فرمایا کہ تم اپنے کو کس حال میں پاتے ہو۔ اس نے کہا کہ میں اللہ تعالی سے رحمت کی امید رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ جس دل میں امید اور خوف کی یہ دونوں کیفیتیں ایسے وقت میں جمع ہوں تو اللہ تعالی اس کو وہ ضرور عطا فرمائے گا جس کی اس کو اللہ سے امید ہے اور اس سے ضرور محفوظ رکھے گا جس کا اسے خوف ہے۔ (معارف الحدیث ج 2 ص 42 بحوالہ ترندی)
یہ وضاحتیں اگر آپ کی سمجھ میں آگئی ہیں اور آپ کے ذہن نے انہیں قبول بھی کر لیا ہے تو اب ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ آہستہ آہستہ ان باتوں کو اپنے ذہن میں پختہ کریں اور اپنی شخصیت کے متعلق ایک حقیقت پسندانہ اور متوازن نظریہ قائم کریں۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہو گا کہ آپ اپنی صلاحیتوں اور طبعی رجحانات کو پہچان سکیں اور فیصلہ کر سکیں کہ اپنی کن صلاحیتوں پر آپ کو توجہ اور محنت صرف کرنی چاہئے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ صحیح رخ پر اپنی شخصیت کی تعمیر کے لئے جد و جہد کر سکیں گے۔ اس موضوع پر اصولاً تو ہماری بات مکمل ہو گئی ہے لیکن بات ختم کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ صلاحیتوں کے متعلق حقیقت پسندانہ نظریہ قائم کرنے کی ہماری مذکورہ بالا ہدایت مینجمنٹ سائنس کے نظریہ SELF IMAGE کے خلاف ہے۔
اس نظریہ میں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اپنی صلاحیتوں کے متعلق اپنے تصور کو اس سطح سے بلند رکھو جو تمہاری صلاحیتوں کی حقیقی سطح ہے یعنی اپنے SELF IMAGE کو اپنے REAL SELF سے بلند رکھو۔ پھر تصوراتی سطح کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرو۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری صلاحیتوں کی سطح بلند ہو جائے گی۔ نظریاتی اعتبار سے یعنی تھیوری کی سطح پر یہ بات درست معلوم ہوتی ہے لیکن عملی اعتبار سے یعنی پریکٹیکل کی سطح پر بالعموم یہ بات درست ثابت نہیں ہوتی۔
مثال کے طور پر ایک شخص اوسط درجہ کا ڈرائیور ہے۔ اس کا تصور یہ ہے کہ وہ ایک ماہر ڈرائیور ہے۔ اب کسی دوسری کار سے اس کی کار کی ٹکر ہو جاتی ہے۔ اس وقت وہ پوری کوشش کرے گا کہ دوسرے ڈرائیور کی غلطی ثابت کرے۔ جب یہ ممکن نہ رہے گا تو پھر وہ برابر سے گزرنے والے کسی گاڑی سائیکل وغیرہ کو غلط ثابت کرے گا۔ اگر یہ بھی ممکن نہ رہے تو وہ کہے گا کہ میری آنکھ میں مٹی پڑ گئی تھی یا سامنے سورج آگیا تھا۔ غرض یہ کہ وہ سارے جتن کرے گا لیکن اپنی غلطی تسلیم نہیں کرے گا۔ یہ تو ایک مثال ہے لیکن اگر ہم غور کریں تو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ زندگی کے مختلف معاملات میں روزمرہ یہ نقشہ ہمارے سامنے آتا رہتا ہے۔ سوچیں کہ لوگوں کا یہ رویہ کس بات کی نشاندہی کر رہا ہے۔
دراصل اپنی کسی صلاحیت کے متعلق غلط تصور عمل خود تجویزی کے تحت رفتہ رفتہ ایک ایسے یقین میں بدل جاتا ہے جس کی بنیاد نہیں ہوتی۔ یعنی عملاً ہوتا یہ ہے کہ ہمارا SELF IMAGE غیر شعوری طور پر ایک ایسے SELF BELIEF میں بدل جاتا ہے جو حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم احساس برتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور ہمارا یہ ذہنی سراب جب کبھی حقیقت سے کراتا ہے تو ہم حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔
اس طرح ہمارا SELF IMAGE ہماری صلاحیتوں کو بہتر کرنے کے بجائے اس راہ کی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس لئے کہ اصلاح کے لئے غلطی کا اعتراف پیشگی شرط (PREREQUISITE) ہے۔ مغربی ماہرین اس حقیقت کو تسلیم تو کرتے ہیں کہ غلطی کے اعتراف کے بغیر اصلاح کا عمل شروع نہیں ہوتا لیکن ان کے متعدد نظریات کے تجزیہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ عملی سطح پر وہ اس حقیقت کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اسلام چونکہ ایسا دین ہے جو انسان کی فطرت کے مطابق ہے، اس لئے اسلام میں غلطی کے اعتراف کی خصوصی تعلیم کا اہتمام موجود ہے جو اس کے توبہ کے فلسفہ کے حوالے سے سمجھا جا سکتا ہے اور اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر صرف اس کی تعلیم پر اکتفا نہیں کی گئی بلکہ اس کی عملی تربیت کا بھی خصوصی اہتمام کیا گیا ہے جو سجدہ سہو کے نظام میں موجود ہے۔ نماز کی جماعت میں عموماً امام وہ ہوتا ہے جو علم اور تقویٰ کے لحاظ سے دوسروں سے بہتر ہوتا ہے لیکن بہر حال انسان ہوتا ہے، غلطی اس سے بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات غلطی کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ پیش امام اور اللہ تعالیٰ کو تو اس کا علم ہوتا ہے لیکن مقتدی لوگ اس سے بے خبر ہوتے ہیں۔ بہر حال غلطی کی نوعیت خواہ کچھ بھی ہو، ہر صورت میں حکم یہ ہے کہ سجدہ سہو کرو یعنی اپنی غلطی کا اعتراف بھی کرو اور اس کا اعلان بھی کرو۔ اس سے قطعاً بحث نہیں ہے کہ غلطی کی وجہ سے ہوئی۔
یہ بحث خوض کے ضمن میں آئے گی جس پر ہم اگلے سبق میں بات کریں گے۔ یہاں پر سجدہ سمو کے نظام کا سب سے اہم نکتہ نوٹ کریں کہ غلطی کی وجوہات کی بحث میں الجھے بغیر اس کے اعتراف اور اعلان کی تربیت دی گئی ہے۔ اس پہلو سے تربیت کا یہ نظام یکتا ہے۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس تربیت کو صرف نماز تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی زندگی میں بھی اس سے فائدہ اٹھائیں۔
روزمرہ کے معاملات میں جب کبھی کوئی غلطی ہو جائے تو پہلے اس کا اعتراف اور اعلان کریں اور اسے دوسروں کے سر تھوپنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ کرنے کے بعد پھر اصلاح کی کوشش شروع کریں اور زندگی میں یہ رویہ اختیار کرنا ان لوگوں کے لئے بہت مشکل ہے جو SELF IMAGE کی تصوراتی دنیا میں رہتے ہیں۔
اس لئے میں پھر یہی سفارش کروں گا کہ تصوراتی دنیا میں رہنے کے بجائے حقیقت کی دنیا میں رہیں۔ اپنے REAL SELF کو پہچانیں جس میں طبعی رجحانات کی شناخت بھی شامل ہے۔ پھر بلند پروازی کے لئے صحیح سمت کا تعین کریں۔ اس کے بعد پرواز کریں اور بلند سے بلند تر سطح تک جانے کی جدوجہد جاری رکھیں۔ البتہ یہ خیال رکھیں کہ اس کوشش میں قدم زمین سے اکھڑنے نہ پائیں بلکہ زمین پر جمے رہیں۔ اس لئے کہ مومن کی شان یہی ہے کہ وہ فرش نشین اور عرش نشیمن ہوتا ہے۔

