شہر میں 12 سے 14 گھنٹے کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ
پاکستان کے سب سے بڑے معاشی مرکز اور ساحلی شہر کراچی سے جون 2026 کے آغاز میں بنیادی یوٹیلٹیز کے سنگین بحران کی ایک انتہائی تشویشناک اور ہنگامی صورتحال سامنے آئی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، عید الاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی کراچی شہر بجلی، پانی اور گیس کی بیک وقت معطلی (Utility Collapse in Karachi) کے باعث ایک بڑے انسانی اور شہری بحران کا شکار ہو گیا ہے، جس نے لاکھوں شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔
دی نیشن (The Nation) کی 3 جون 2026 کو شائع ہونے والی سیاسی و عوامی رپورٹ کے مطابق، شہر کی بڑی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (MQM-P) نے کراچی میں جاری اس بدترین صورتحال پر پاور سپلائی کمپنی کے الیکٹرک (K-Electric) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں 12 سے 14 گھنٹے کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے، جو کہ شہریوں کے ساتھ سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کے الیکٹرک کے اس عوام دشمن رویے کا فوری نوٹس لیں، کیونکہ گرمی کے اس شدید موسم میں بجلی کا نہ ہونا معاشی سرگرمیوں کو بھی مفلوج کر رہا ہے۔
دی نیوز انٹرنیشنل کی خصوصی کوریج کے مطابق، کراچی کا یہ انفراسٹرکچر کریش صرف بجلی تک محدود نہیں ہے۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہر کے بیشتر علاقوں میں واٹر پمپنگ اسٹیشنز کام نہیں کر رہے، جس کے باعث پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے اور واٹر ٹینکر مافیا عوام کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ اس کے ساتھ ہی، سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کی جانب سے گیس کے پریشر میں شدید کمی اور بندش نے عید کے تہوار کے دوران گھروں میں چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ "غیر معتبر بجلی" (Unreliable Power) اور یوٹیلٹیز کے اس مشترکہ خاتمے نے پورٹ سٹی کے شہریوں کو سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
جون 2026 میں کراچی کا یہ یوٹیلٹی بحران ملکی گورننس اور انتظامی ڈھانچے کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت بن کر ابھرا ہے۔ عید جیسے خوشی کے موقع پر بنیادی انسانی ضرورتوں کی عدم دستیابی نے شہر کے تجارتی اور سماجی تانے بانے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگر کے الیکٹرک اور دیگر ریاستی اداروں نے فوری طور پر سپلائی بحال نہ کی، تو شدید گرمی اور حبس کے اس موسم میں کراچی کے حالات مزید خراب ہونے اور امن و امان کا بڑا مسئلہ پیدا ہونے کا شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

